اتوار، 5 جنوری، 2014

مجھے نفرت ہے

شاید آج پھر میری باتوں سے آپ کا دل دکھ جائے مگر میں چپ نہیں رہ سکتی یہ سب آپ جانتے ہیں مجھے بولنا ہے اگر نہیں آج نہین بولی تو شاید ساری زندگی نہیں بول پاوں ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے مشرف سے نفرت ہے شدید نفرت اتنی نفرت کے مجھے لگتا ہے کہ عدالت کے چکروں مین پڑنے کے بجائے اس کو سیدھا سیدھا پھانسی دے دینی چاہیئے ۔

 رکیئےمیری بات سنتے جایئے ایسے نہیں  پہلے میری بات سنیئے پھر اپنی بات کیجئے گا ۔

جب مشرف صاحب نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مین ایک فوجی ہوں اور میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  لیکن پھر کیا ہوا ایک فون کال پہ وہ بھول گئے کہ جس ذات باری نے انہیں موت کے منہ سے نکالا وہ اس ملک کو بھی پتھر کے زمانے میں جانے نہیں دے گا آج مشرف سے لوگ کیوں نہیں پوچھتے کہ کہاں گئی وہ خوش حالی جو امریکہ کا ساتھ دینے پر اس ملک کا مقدر بنے والی تھی ۔ پتھر کے زمانے کی طرح اب کیوں ہمارے گھروں میں اندھیرا ہے لکڑیوں پہ کھانا پکتا ہے کارکانے فیکٹریاں بند ہورہی ہیں لوگ پتھر کے زمانے کی طرح وحشی اور جاہل ہوگئے ہیں ۔ قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے فاحشی کا دور دورا ہے

آج ایک بات آپ سے شئیر کروں
امریکہ نے افغانسان پر حملہ کردیا تھا اور پاکستان نے اس کا ساتھ دینے کا ارادہ کرلیا تھا اس کے چند کے بعد کی بات ہے کہ
اس دن مین صبح جلدی اٹھ گئی تھی اسکول جانا نہیں تھا میں نے  اخبار اٹھا کر دیکھا تو ایک معصوم افغان بچے کی تصویر جو کے چار سال کا تھا اس کے بازو کٹے ہوئے تھے ماتھے پر پٹی بندھی تھی اور وہ رو رہا تھا لیکن اپنے آنسو صاف نہیں کر سکتا تھا اس وقت مجھے ایک پل کے لیئے لگا اگر اس بچے کی جگہ میرا اپنا بھانجا ہوتا تو کیا میں سکون سے اس اسی تسلی سے چایئے پیتے ہوئے اس تصویر کو دیکھ سکتی تھی یہ بھی تو کسی کا بھانجا ہوگا کسی کا بیٹا ہوگا اس وقت ایک نفرت کی لہر تھی جو میرے دل سما گئی ۔

اب آپ کو معلوم ہوا کہ میں مشرف سے نفرت کیوں کرتی ہوں ۔ اور جو لوگ مشرف کے حامی ہیں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر مشرف صاحب اتنے بہادر ہیں تو عدالت کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟  بیمار پڑ جاتے ہیں عدالت کا سن کر ۔

میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں ۔۔۔ تو اب کیوں چوہے کی طرح ہسپتال میں چھپ کر بیٹھے ہو آو آکر کرو مقدمہ کا سامنا ۔ کیوں سعودیہ عرب سے بھیک مانگ رہے ہو کہ وہ اکر تمھاری مدد کرے ۔