منگل، 26 نومبر، 2013

محوِ گریہ ہے تری یاد میں شاعر تیرا

غزل

محوِ گریہ ہے تری یاد میں شاعر تیرا
کیسا بکھرا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

تُو تو پنہاں ہے نگاہوں سے زمانے بھر کی
اور رسوا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

لفظ ہیں، پھول ہیں، موتی ہیں، خدا ہی جانے
کیا کیا لکھتا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

روز کرتا ہے چراغاں کہ گھٹے وحشتِ جاں
روز جلتا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

اپنی شناخت قائم رکھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی شناخت قائم رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میں آپ سے دو واقعات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
پچھلے دنوں پاک فوج کے ایک اعلٰی افسر کے ساتھ بیٹھنے کا اور ہر موضوع پہ کھل کے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔
''ایک افریقی ملک سیرالیون میں امن مشن کے دوران 14 اگست کا دن آ گیا۔ ہم لوگوں نےوہاں پاکستانی کونسل جنرل کے ساتھ مل کے اسے اچھے طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا۔وہاں کے صدر کو بھی مدعو کیا۔ 
جب سیرالیون کے صدر صاحب وہاں پہنچے تو ہم حیران رہ گئے۔ انہوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔جب کہ ہم سب نے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔
وہ ہمارے کونسل جنرل کو ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے کہ آپ کو پتہ نہیں میں نے کتنی مشکل سے اور کس سے شلوار قمیض ادھار لی ہے کیونکہ میں اسے بہت عزت کا لباس سمجھتا ہوں۔مگر آپ لوگوں کو خود ہی یہ پسند نہیں ہے۔
ہمیں اس بات پہ اتنی شرمندگی ہوئی کہ ہم ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے''۔
آج دوپہر کو مجھے ایک دوست کا فون آیا۔ آواز سے بہت پریشان لگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے۔ کہتا خیر ہی ہے کاغذ پین تو ہو گا ہی پاس۔ میں نے ورڈ ڈاکومنٹ کھول لیا۔ 
کہنے لگا '' میں عام طور پہ اخباری کالم نہیں پڑھتا۔ آج دفتر میں کام نہیں تھا تو پڑھنے لگ گیا۔بہت اچھے اچھے خیالات پڑھنے کو ملے لیکن ایک بات جس نے سارا مزا خراب کر دیا اور جس کی وجہ سے بہت پریشان بھی ہوں وہ ان کی لکھی ہوئی زبان تھی۔
اردو میں انگریزی کے ایسے ایسے الفاظ لکھے ہوئے تھے جن کی بہت پیاری اور عام فہم اردو موجود ہے۔ ان لوگوں کو ذرا بھی خیال نہیں وہ لوگوں میں علم بانٹ رہے ہیں اور ساتھ ہی احساسِ کمتری بھی کہ ہماری زبان اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس میں سہی سے بات ہی کی جا سکے۔''
ان دو واقعات کے علاوہ بھی پچھلے کچھ عرصے سے تواتر سے ایسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں جن میں احباب اپنی زبان اور اپنے کلچر کو نظر انداز کرنے پہ بہت دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔
اگر اردو میں انگلش الفاظ کے عام فہم متبادل الفاظ موجود نہ ہوں تو انگلش الفاظ کا استعمال کرنا سمجھ میں بھی آتا ہے۔ویسے بھی ایسے انگزی الفاظ اب اردو کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن بلاوجہ صرف اپنی علمیت جھاڑنے کے چکر میں آدھا مضمون انگریزی مٰیں لکھ دینا آدھی بات انگریزی میں کرنا بالکل ہی سمجھ سے باہر بات ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تو بچپن سے اردو ، پنجابی، سرائکی، سندھی، پشتو ، براہوی یا اپنی کوئی بھی زبان بولتے آئے ہیں۔ ہم اردو یا اپنی دوسری مادری زبان میں سوچتے ہیں تو اپنی سوچ کا اظہار اس سے زیادہ بہتر طریقے سے کسی دوسری زبان میں ہو بھی نہیں سکتا۔پھرہمارے قاری کی زیادہ تعداد بھی انگریزی سہی طرح نہیں سمجھتی یا بالکل ہی نہیں پڑھ سکتی۔ اس کے علاوہ ہماری اردو زبان میں اتنا اعلٰی ادب تخلیق کیا جا چکا ہے کہ انگریزی زبان میں شاید قیامت تک نہ ہو سکے۔
پچھلے سال ایک فیس بک کے دوست کو انگریزی میں لکھنے کا شوق ہوا۔ کہانی بھی لکھی کوئی۔ میں نے اسے یہی مشورہ دیا کہ جتنی اچھی طرح آپ اردو میں اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتے ہو انگریزی میں ممکن نہیں۔ 
پھر کچھ عرصہ اس دوست سے رابطہ نہ ہوا۔ شاید اس نے مجھے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ 
ابھی کچھ دن پہلے ایک اردو ادب کے گروپ پہ مجھے اس کی پوسٹ نظر آئی۔ پھر اس نے ایڈ بھی کر لیا۔ 
اس کا میسج آیا کہ بھائی آپ نے پہچانا؟ میں نے کہا جی آپ ہری پور سے ہو اور آپ کو انگریزی میں لکھنے کا شوق تھا۔ کہنے لگا جی اور اب اردو میں لکھنے کا شوق ہے کیونکہ آپ نے جو مشورہ دیا تھا وہ مجھے سمجھ آ گیا۔
یہ سب باتیں کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں خود پہ فخر کرنا سیکھنا ہے اب۔ ہم بھونڈی نقالی کر کے دنیا میں مذاق تو بن ہی رہے ہیں ہمارے اپنے پڑھنے والے لوگ بھی کرب کا شکار ہو رہے ہیں۔
اردو میں بات کرنی ہو تو صرف اردو میں کریں۔آپ کی جو روایات ہیں ان پہ فخر کریں ان پہ قائم رہیں۔ یقین کریں ان مغربی ممالک کے پاس اخلاق باختگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ان کی روزمرۃ کی انگریزی اتنی گندی ہے کہ ہم ان الفاظ کو گالی سمجھتے ہیں جو وہ اکثر استعمال کرتے ہیں۔
آپ جو ہیں وہ بہت اچھے ہیں۔ آپ جو نہیٰں ہیں وہ بنیں گے تو پھر اپنی شناخت کھو دیں گے اور بغیر شناخت کے انسان عزت سے نہیں رہ سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توصیف احمد کشافؔ

https://www.facebook.com/urdufm

جمعہ، 22 نومبر، 2013

خود غرضی اور کیا ہے




امی میں نے آج سے جاپان اور فرانس کے کوکنگ آئل میں ہی کھانا پکانا ہے اور کھانا ہے

ہیں وہ کیوں بھئی ؟؟

امی آپ نے دیکھا نہیں!!!  ٹی وی پہ کس طرح سے وہ دیکھا رہے ہیں ان آئل کے بارے میں کہ وہ کیسے بنائے جاتے ہیں۔۔۔ نہیں امی ہمیں اپنی صحت کے معاملے میں بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے ہم کو لوکل آئل استعمال کرنے کے بجائے اچھے والے آئل اپنے کھانوں میں استعمال کرنے چاہیئں

لیکن بیٹا دیکھو تو سہی وہ کتنا مہنگا آئل ہے ویسے بھی یہ والا آئل کون سا سستا ہے یہ بھی تو مہنگا ہی ہے لیکن اس باہر والے سے تو سستا ہی ہے

نہیں امی نہیں ۔۔ بس میں نے کہے دیا نا ۔ آپ کو میری بات مانی ہوگی ۔

اچھا تمھارے ابو آتے ہیں تو بات کرتی ہوں میں ان سے دیکھو وہ کیا کہتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمال کردیا یار تم نے کیا پروگرام کیا ہے ان تیل بنانے والوں کی تو واٹ لگادی تو نے اچھا کام کیا ہے ۔۔

ہممم کام تو اچھا ہے مگر کمائی بھی تو اسی حساب سے ہوئی ہے ۔

کیا مطلب! کمائی میں سمجھا نہیں


ابے میں سمجھاتا ہوں ۔ بات کچھ اس طرح ہے کہ یہ جو باہر کی کمپنی ہے نا اس نے مجھے اپنے تیل کی مارکیٹنگ کے لیئے کانٹریکٹ دیا ہوا تھا  میں نے لوکل کوکنگ آئل کی کوائلٹی کا بھانڈا پھوڑ کر لوگوں کو اس بات ہر سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ باہر کی کمپنیوں کا تیل استعمال کریں ۔ اور ان کمپنیوں کی پبلسٹی کردی اس طرح سے لوگ وہ تیل خریدیں گئے جو ہم بولیں گئے ۔ ویسے اب یہ باہر کی کمپنی کدھر سے تیل نکالتی ہے اور کیسے بناتی ہے اس سے ہمیں کیا ۔ تو سمجھ رہا ہے نا میری بات

ہاں یار آئیڈیا تو تیرا کمال کا ہے مجھے بھی کوئی ایسا کانٹریکٹ دلا نا

ہاں ضرور ایک باہر کی کمپنی ہے ڈبہ پیک دودھ بناتی ہے ایسا کرتا ہوں تیری ادھر بات کرادیتا ہوں تو بھی ایک دو ایسے دھانسو قسم کا پروگرام کر کے اپنا الو سیدھا کرلے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امی آپ نے ابو کو آئل کا نام لکھوادیا تھا نا جو میں نے کہا تھا 

ہاں بیٹا  وہ شام میں آتے ہوئے سپر مارکیٹ سے لیتے آئیں گئے ۔

امی آپ کو معلوم ہے یہ گائے کے دودھ سے کتنی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور یہ جو ٹیٹرا پیک ہوتا ہے نا ڈبہ والا دودھ اس میں اصل غذایت موجود ہوتی ہے اور اسی سے طاقت آتی ہے ٹی وی پہ ایک ڈاکومینٹری میں دیکھا رہے تھے

بیٹا یہ ٹی وی والوں کو ہمارا کتنا خیال ہے ہماری صحت کا ہمارے کھانے پینے کا ہماری فکر میں دبلے ہوئے جار ہے ہیں یہ ٹی وی والے تو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




جمعرات، 21 نومبر، 2013

وصایا : فیض


وصایا : فیض

۔

اے مظلومو، اے محکومو، اے نادارو، اے ناچارو
اِک راز سنو، آواز سنو، ہوتا ہے کہاں آغاز سنو
خاموش لبوں کی جنبش سے
دنیا کے خدا سب ڈرتے ہیں
سجدوں میں پڑے سر اُٹھ جائیں
مسند پہ جمے رب ڈرتے ہیں
پابندِ سلاسل روحیں جب
بیزارِ جفا ہو جائیں گی
مقتل سے صدائیں آئیں گی
لبیک کہیں گے دِیوانے
!اِک حشر کھڑا ہو جائے گا
مجروح گلوں کی چیخوں سے
گلچیں کا کلیجہ تڑپے گا
ہر منصب جھوٹا لرزے گا
!سفاک خدا گِر جائیں گے
ہر جاں جو فروزاں ہو جائے
ظلمت نہ مٹے، وہ رات نہیں
زنجیر و سلاسل، زنّاری
یہ نسلوں کی سوغات نہیں
آغاز تمہی سے ہونا ہے
غم سہنے والو چُپ کب تک؟
اے ظلم کے مارو لب کھولو”
*”چپ رہنے والو چپ کب تک؟
۔
 *آخری شعر فیض کا ہے
https://www.facebook.com/urdufm

کیا اللہ کا خوف ختم ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔



کیا ہم نے اللہ سے بلکل ڈرنا چھوڑ دیا ہے کیاہم کو اللہ نے جواب دہی سے آزاد کردیا ہے یا ہم کو یقین ہے کہ قیامت نہیں آئی ہے جو ہم بلاسوچے سمجھے مذہبی معاملات میں خود پڑتے ہیں ۔ ایک طرف ہم اس بات ہر بھی متفق نہیں کہ شہید کی تعریف کیا ہے دہشت گردی کسے کہتے ہیں اور چلے ہیں نکاح جیسے عظیم تعلق کو اپنے ڈرامہ کے ذریعے کھیل کا حصہ بنانے

 ہم ٹی وی سے ہر اتوار کی رات نشر ہونے والا ڈرامہ رشتے کچھ ادھورے سے جس کو نادیہ اختر نے تحریر کیا ہے ۔۔۔
میرا صرف ایک ہی سوال ہے کیا دنیا بھر سے موضوع ختم ہوں گئے ہیں جو آپ نے اسلام کے انتہائی نازک مسلئے کو موضوع بنایا ہوا ہے یا آپ کا مقصد کچھ اور ہے ۔۔۔ ماضی میں پہلے بھی اس طرح کی کوششیں کرکے نازک مسلوں پر کہانیاں لکھ کر نئے خیالات کو پروان چھڑیا گیا ہے ۔۔ پی ٹی وی نے بہت عرصہ پہلے ایک ڈرامہ نشر کیا تھا جس میں حلالہ کو موضوع بنایا گیا اور باقائدہ منصوبہ بندی کرکے حلالہ کرنے کا بتایا اور لوگوں کو سیکھایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد معاشرے میں طلاق اور حلالہ کا موضوع عام ہوتا گیا اب کتنے ہی ایسے کیسس سننے میں آتے ہیں کہ طلاق کے بعد یا تو فتوی لے لیا جاتا ہے کہ ہم اس مسلک کے نہیں دوسرے مسلک کے ہیں اس لییئے طلاق نہیں ہوئی یا لوگ کرائے پہ ملتے ہیں جو حلالہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جس معاشرے میں ایسی سوچ پروان چڑھتی دیکھائی دیتی ہو وہاں اللہ کا عذاب نہ آئے تو کیا آئے ۔۔۔۔
اب اس ڈرامہ رشتے کچھ ادھورے سے کے ذریعے کیا بتایا جارہا ہے یہ کہ لوگ نکاح کے بغیر ہی رہنا شروع کردیں کہ دل سے مان لو بس پھر بےشک نکاح کی سیج پہ کوئی اور ہی کیوں نہ بیٹھے جس نے دل سے مانا اس کا نکاح ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
اس ڈرامہ کا مقصد محض نکاح پہ نکاح دیکھانا اور بغیر نکاح کے رہنے کے علاوہ اور بھی بہت سے مقاصد ہیں اگر شروع کی دو اقساط دیکھیں جائیں تو منان صاحب کی صیح باتیں بھی اسطرح سے کہلوائیں گئیں ہیں جیسے انہوں نے بہت ہی معیوب بات کی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون شریف آدمی اپنی بیٹی کو گانے گانے کی اجازت دیتا ہے اس طرح سر محفل میں لیکن ڈرامہ مین دیکھایا گیا کہ منان صاحب مذہبی آدمی ہیں ان کو یہ سب برا لگتا ہے وہ ظلم کرتے ہیں بیٹیوں پر بیوی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بینک میں سودی نظام کو لے کر اب بہت سے گھرانے اپنی بیٹیوں کی شادیاں نہیں کرتے ان گھرانوں میں لیکن اس کو بھی اس طرح دیکھایا گیا جیسے یہ اس مذہبی والد کا قصور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ غلط تھا ۔۔۔۔ اگر وہ اپنی بیٹیوں کو بچا کر رکھتا اور فخر کرتا تو اس پر بھی یہ دیکھایا گیا کہ یہ سب غلط ہے وہ مذہبی ہے لیکن دیکھو اس کی بیٹیوں کے ساتھ کیا ہوا اگر وہ لبرل مائنڈ ہوتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مذہبی ہونا اس کو لے ڈوبا ۔ اس کا مذہب پر فخر اسے لے ڈوبا ۔۔۔۔ اس ڈرامہ کے بنانے کے بہت سے مقاصد ہیں جو آہستہ آہستہ ذہنوں میں ڈالے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلو پوازن کی طرح

آزاد نطم : از: عبدالباسط احسان

ایک آزاد نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غم کے ماروں کو
ہمدرد ہزاروں ملتے ہیں
مگر غم کے سائے بڑھتے ہیں
ہمدردی کے بولوں سے
دکھ کے ساز عجیب ہوتے ہیں
اتنے ہی بجتے ہیں
جتنے چھیڑے جاتے ہیں
سو ہمدردی کی بیساکھی پر
کبھی اپنا وزن نہ رکھنا
اللہ کا نام لے کر
اپنا ہر قدم رکھنا
جہاں امید ٹوٹ جاتی ہے
وہیں سے عشق کی ابتدا ہوتی ہے
وہیں سے راز کھلتے ہیں
کہ آنسو کیسے گوہر بنتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: عبدالباسط احسان

منگل، 19 نومبر، 2013

رسمی و غیر رسمی محبت - از: خرّم امتیاز


رسمی و غیر رسمی محبت

----------------------------------------------------------
جو شخص طبیعتا جینوئن ھوتا ھے، کیا وہ رسمی طور پر کسی جذباتی تعلق میں بندھ سکتا ھے یا نہیں؟؟

سوشل باؤنڈریز کے باعث آج کل بہت کچھ ممکن ھے. لوگ چاھتے اور ناچاہتے ہوئے بھی بہت سے رشتوں میں بندھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. جتنا مرضی کوئی فطرت کا خالص ہو، جتنا مرضی کوئی نیک نیت اور straightforward ہو، لیکن زمانے کے تغیرات میں بہتے ہوئے بہت سے کمپرومائزز کرنے پڑ سکتے ہیں. ان چاھے سمجھوتے بھی ... کبھی مصلحتا، کہیں کسی کی خوشی کی خاطر ، کبھی کسی کے ڈر سے اور کبھی مجبورا بھی.... 

جو انسان فی الوقت کسی بھی وجہ سے کسی رسمی محبت کے تعلق میں بندھا بھی ہوا ھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب وہ مزید کسی سے جینوئن اور خالص محبت نہیں کر سکتا. کیونکہ قدرت ہر کسی کو کبھی نہ کبھی کھل کھیلنے کا موقع ضرور دیتی ھے کہ جیسا وہ انسان باطن سے ھے، ویسا ہی تعلق کسی سے قائم کر سکے اور نبھا بھی سکے. وہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے. کل اردو گروپ پر ایک غزل شئیر کی تھی، اس کا مقطع تھا 
"
جس نے کر لیا دل میں پہلی بار گھر دانش
اسکو میری آنکھوں کی پتلیاں سمجھتی ھیں
"
میں نے اس شعر پر سوال بھی اٹھایا تھا. جن لوگوں کو ہم نے زندگی میں پیار کرنا ھوتا ھے، ان کی تصویریں پہلے ہی ہمارے دلوں میں نقش کر دی گئی ہیں، وہ لوگ زندگی میں جہاں کہیں بھی ملتے ہیں، بغیر وجہ کے اچھے لگتے ہیں. وہ ہمارے عزیز و اقارب میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور ناآشناؤں میں سے بھی. جب کبھی ہمیں ایسی شخصیات زندگی میں ملیں، جن سے ملتے ہی بغیر وجہ اور مقصد کے چاہت محسوس ھو، ان کو کبھی کھونے مت دیں. کیونکہ صرف انہی سے آپ غیر رسمی یعنی جینوئن اور دیوانہ وار محبت کر سکتے ہیں.

- خرّم امتیاز -

اتوار، 17 نومبر، 2013

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے از نوید رزاق بٹ


غزل

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے
تیری خوشبو شراب لگتی ہے

اپنی قسمت پہ اب نہ چھوڑیں گے
اپنی قسمت خراب لگتی ہے

جن کو تڑپائے بھوک راتوں میں
اُن کو روٹی عذاب لگتی ہے

جس کو انجام تک پڑھے نہ بنے
زندگی وہ کتاب لگتی ہے

ہو گئی ختم دل کی بے چینی
اب بُرائی ثواب لگتی ہے

چوٹ دے دے کے پوچھتے ہیں نوید
آپ کو بھی جناب لگتی ہے”؟”


۔

بڑی تصویر کے لیے تصویر پر کلک کریں

غلامی ترانہ از نوید رزاق بٹ

غلامی ترانہ

(سیاسی شہزادوں سے حلفِ وفاداری)
۔

کھڑے ہیں گردن جھکا کے آقا، جو حکم ہو گا بجا کہیں گے
ہماری نسلیں تمھاری خادم، تمھاری نسلیں نواب سائیں!
ہماری کُٹیا جلا کے پھر سے،کرو اجالا محل میں اپنے
خدا کا سایہ ہو تم زمیں پر، تمھاری خدمت ثواب سائیں!
۔

پیر، 11 نومبر، 2013

بین السُّطور از نوید رزاق بٹ

بین السُّطور
۔

گو بظاہر ذِکر تھا اِک بے وفا کا شعر میں

اُن کو جو کہنا تھا ہم سے کہہ گئے بَین السُّطور

لکھ دیا ہم نے جواباً ، 'کیا ہی عمدہ شعر ہے!'

چوٹ ہم بھی مسکرا کر سہہ گئے بَین السُّطور

۔
شاعر: نوید رزاق بٹ
https://www.facebook.com/urdufm

وصایا : اقبال از نوید رزاق بٹ


وصایا : اقبال
۔

نوشتہءِ    رُخِ     بشر
نویدِ    راہِ     بیکراں

عذابِ  فکر  و  آگہی
عذاب  وہ  کہ  الاماں

نگاہِ  شوق   مُضطرب
حجابِ  ہوش   درمیاں

سپاہِ   عقل   بے  خبر
نگاہِ    عشق    رازداں

سکونِ    قلب    ذِکرُہُ
غفور  و عَفْو  و مہرباں

انا  شہیدِ   مرگِ   دل
خودی  حیاتِ  جاوداں

رہینِ  ذات ضو  بجیب
ندیمِ  خلق  ضو  فشاں

شاعر: نوید رزاق بٹ
۔



ہفتہ، 2 نومبر، 2013

'برسوں کا تھما ساون' از نوید رزاق بٹ


برسوں کا تھما ساون


دیکھا جو تمہیں پھر سے

اِک یاد اٹھی دل میں

کالی سی گھٹا بن کر

فریاد اٹھی دل میں

شوریدہ ہواؤں نے

پھر ضبط سے ٹکر لی

آنکھوں نے دہائی دی

رو لینے کو جی ترسا

برسوں کا تھما ساون

!برسا تو بہت برسا


شاعر: نوید رزاق بٹ
https://www.facebook.com/urdufm
۔