غزل
بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے
تیری خوشبو شراب لگتی ہے
تیری خوشبو شراب لگتی ہے
اپنی قسمت پہ اب نہ چھوڑیں گے
اپنی قسمت خراب لگتی ہے
اپنی قسمت خراب لگتی ہے
جن کو تڑپائے بھوک راتوں میں
اُن کو روٹی عذاب لگتی ہے
اُن کو روٹی عذاب لگتی ہے
جس کو انجام تک پڑھے نہ بنے
زندگی وہ کتاب لگتی ہے
زندگی وہ کتاب لگتی ہے
ہو گئی ختم دل کی بے چینی
اب بُرائی ثواب لگتی ہے
اب بُرائی ثواب لگتی ہے
چوٹ دے دے کے پوچھتے ہیں نوید
آپ کو بھی جناب لگتی ہے”؟”
آپ کو بھی جناب لگتی ہے”؟”
شاعر: نوید رزاق بٹ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں