اتوار، 17 نومبر، 2013

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے از نوید رزاق بٹ


غزل

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے
تیری خوشبو شراب لگتی ہے

اپنی قسمت پہ اب نہ چھوڑیں گے
اپنی قسمت خراب لگتی ہے

جن کو تڑپائے بھوک راتوں میں
اُن کو روٹی عذاب لگتی ہے

جس کو انجام تک پڑھے نہ بنے
زندگی وہ کتاب لگتی ہے

ہو گئی ختم دل کی بے چینی
اب بُرائی ثواب لگتی ہے

چوٹ دے دے کے پوچھتے ہیں نوید
آپ کو بھی جناب لگتی ہے”؟”


۔

بڑی تصویر کے لیے تصویر پر کلک کریں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں