اتوار، 5 جنوری، 2014

مجھے نفرت ہے

شاید آج پھر میری باتوں سے آپ کا دل دکھ جائے مگر میں چپ نہیں رہ سکتی یہ سب آپ جانتے ہیں مجھے بولنا ہے اگر نہیں آج نہین بولی تو شاید ساری زندگی نہیں بول پاوں ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے مشرف سے نفرت ہے شدید نفرت اتنی نفرت کے مجھے لگتا ہے کہ عدالت کے چکروں مین پڑنے کے بجائے اس کو سیدھا سیدھا پھانسی دے دینی چاہیئے ۔

 رکیئےمیری بات سنتے جایئے ایسے نہیں  پہلے میری بات سنیئے پھر اپنی بات کیجئے گا ۔

جب مشرف صاحب نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مین ایک فوجی ہوں اور میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  لیکن پھر کیا ہوا ایک فون کال پہ وہ بھول گئے کہ جس ذات باری نے انہیں موت کے منہ سے نکالا وہ اس ملک کو بھی پتھر کے زمانے میں جانے نہیں دے گا آج مشرف سے لوگ کیوں نہیں پوچھتے کہ کہاں گئی وہ خوش حالی جو امریکہ کا ساتھ دینے پر اس ملک کا مقدر بنے والی تھی ۔ پتھر کے زمانے کی طرح اب کیوں ہمارے گھروں میں اندھیرا ہے لکڑیوں پہ کھانا پکتا ہے کارکانے فیکٹریاں بند ہورہی ہیں لوگ پتھر کے زمانے کی طرح وحشی اور جاہل ہوگئے ہیں ۔ قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے فاحشی کا دور دورا ہے

آج ایک بات آپ سے شئیر کروں
امریکہ نے افغانسان پر حملہ کردیا تھا اور پاکستان نے اس کا ساتھ دینے کا ارادہ کرلیا تھا اس کے چند کے بعد کی بات ہے کہ
اس دن مین صبح جلدی اٹھ گئی تھی اسکول جانا نہیں تھا میں نے  اخبار اٹھا کر دیکھا تو ایک معصوم افغان بچے کی تصویر جو کے چار سال کا تھا اس کے بازو کٹے ہوئے تھے ماتھے پر پٹی بندھی تھی اور وہ رو رہا تھا لیکن اپنے آنسو صاف نہیں کر سکتا تھا اس وقت مجھے ایک پل کے لیئے لگا اگر اس بچے کی جگہ میرا اپنا بھانجا ہوتا تو کیا میں سکون سے اس اسی تسلی سے چایئے پیتے ہوئے اس تصویر کو دیکھ سکتی تھی یہ بھی تو کسی کا بھانجا ہوگا کسی کا بیٹا ہوگا اس وقت ایک نفرت کی لہر تھی جو میرے دل سما گئی ۔

اب آپ کو معلوم ہوا کہ میں مشرف سے نفرت کیوں کرتی ہوں ۔ اور جو لوگ مشرف کے حامی ہیں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر مشرف صاحب اتنے بہادر ہیں تو عدالت کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟  بیمار پڑ جاتے ہیں عدالت کا سن کر ۔

میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں ۔۔۔ تو اب کیوں چوہے کی طرح ہسپتال میں چھپ کر بیٹھے ہو آو آکر کرو مقدمہ کا سامنا ۔ کیوں سعودیہ عرب سے بھیک مانگ رہے ہو کہ وہ اکر تمھاری مدد کرے ۔

اتوار، 22 دسمبر، 2013

نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا



غالب کی زمین* پر چند اشعار

نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا
جو بہشت میں ہی ہوتے تو کہاں قرار ہوتا

یہ بدن جو خاک و خوں ہے یہ اگر غبار ہوتا
تیری خاکِ پا میں شامل تیرا خاکسار ہوتا

کہیں راہبر نے لُوٹا، کہیں راہزن نے تھاما
جو سفر نہ یوں گزرتا تو نہ یادگار ہوتا

رہے بیخودی سلامت، رہے میکشی سلامت
تجھے ہم بھُلا نہ پاتے اگر اختیار ہوتا

یہ نصیب کی ہیں باتیں کہ چلے ہیں سوئے مقتل
جو قلم جھکا کے لکھتے تو گلے میں ہار ہوتا


 * یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا – غالب

https://www.facebook.com/urdufm

بدھ، 11 دسمبر، 2013

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن از نوید رزاق بٹ

غزل

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار اِک فسانے کے

بزم میں پوچھتے ہیں حالِ دل
دیکھ انداز آزمانے کے

کُھل گئی آنکھ جب مریدوں کی
کُھل گئے بھید آستانے کے

لب پہ شکوہ، نہ اشک آنکھوں میں
سیکھ آداب دل لگانے کے

تنکا تنکا لُٹا دیا تم نے
تم محافظ تھے آشیانے کے

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

سپنے دیکھو از نوید رزاق بٹ

غزل

سپنے دیکھو
پَر اپنے دیکھو

گھر گھر کی چھوڑو
گھر اپنے دیکھو

جھکنے نہ پائیں
سر اپنے، دیکھو

اشکوں سے سینچو
تھر اپنے دیکھو

افلاک تمھارے
پر اپنے دیکھو

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

حرامخور از نوید رزاق بٹ

حرامخور
حرامخور شہر میں داخل ہو چکا تھا۔

کب اور کیسے ہُوا، اِس بارے میں کوئی اتفاق نہیں تھا۔

اتفاق اِس بارے میں بھی نہیں تھا کہ اُس کی اصل شکل و ہیئت کیا ہے۔ عمومی رائے یہی تھی کہ وہ ایک مافوق الفطرت بلا ہے جس کا کام زمین پر فساد برپا کرنا ہے۔

کہ وہ شہر میں داخل ہو چکا تھا اِس کی پہلی واضح خبر تب ملی جب بخار کی دوا پینے والے بہت سے بچے جاں بحق  ہو گئے اور تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ حرامخور نے دوا میں ملاوٹ کر دی تھی۔ خبر سن کر لوگوں کے رنگ فق ہو گئے اور وہ آنے والی مصیبت کے خیال سے  کانپنے لگے۔

چند دن بعد ہی شہر کا نیا پُل زمین پر آ گرا۔ کنٹریکٹر کا اندازہ تھا کہ حرامخور نے سمینٹ میں ملاوٹ کر دی تھی، جبکہ سیمنٹ فیکٹری کے مالکان کا خیال تھا کہ حرامخور نے پُل سے سریا چوری کر لیا تھا۔ دونوں صورتوں میں سب کو یقین تھا کہ یہ کام حرامخور کا ہی ہے۔

تیسرا بڑا واقعہ تب پیش آیا جب طوفانی بارش نے قریبی علاقوں میں گندم کی کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔ حرامخور نے راتوں رات فلور ملوں اور دکانوں سے آٹے کی زیادہ تر بوریاں غائب کر دیں۔ جو چند بچیں وہ لوگوں کو بڑی مشکل سے دگنی تگنی قیمت پر ہاتھ آئیں۔

اِس کے بعد تو شہر میں کہرام مچ گیا۔ حرامخور شہر کے چپے چپے میں اپنے آسیبی وجود کے ساتھ سرایت کر گیا۔ تھانوں میں مجرموں کی جگہ معصوموں کے نام ظاہر ہونے لگے اور معصوموں کو خلاصی کے لیے خطیر رقوم خرچ کرنا پڑیں۔ بڑے بڑٰے سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور سکولوں میں افسروں ڈاکٹروں اور اساتذہ کو حرامخور نے کام سے روک دیا اور اُنہیں مجبورا اپنی خدمات نجی طور پر پیش کرنا پڑیں۔ لوگ تنگ آ کر شہر کی جامع مسجد کی جانب دوڑے اور بحث مباحثہ کرنے لگے۔ ایک انتہائی ضعیف بزرگ بمشکل اٹھے اور اٹھ کر محراب کی دائیں جانب ٹنگی آیت کی طرف اشارہ کیا

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِل

اشارہ دیکھ کر جن کو بات پہلے سمجھ آئی وہ پہلے اور جن کو بعد میں سمجھ آئی وہ بعد میں سر پر پاؤں رکھ کر دوڑے۔ سب نے آیت کے بیسیوں چھوٹے بڑے تعویذ بنوا کر اپنے گھروں دکانوں اور بچوں کے گلوں میں لٹکا دیے۔ اِس کے علاوہ پھول بوٹوں سے سجے بڑے بڑے تعویذ شہر کی شاہراہوں پر آویزاں کر دیے گئے۔ کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ بزرگ کا اشارہ آیت کے مفہوم کی طرف تھا۔

 “اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ”

اتوار، 1 دسمبر، 2013

وصایا : لقمان حکیم

وصایا : لقمان حکیم


اُدھار تیرے لشکری، اُدھار تیری سلطنت
جو مرتبہ ملے تجھے، تو عاجزی سے بات کر!
 
اَحَد ہے وہ صَمَد ہے وہ، غنی ہے بے نیاز ہے
شریک اُس کی ذات میں، نہ شاملِ صفات کر!
 
خدا سے جوڑ سلسلے، مٹا دے نقش یاس کے
بھلے عمل کو تھام لے، نفیءِمنکرات کر!



۔https://www.facebook.com/urdufm

منگل، 26 نومبر، 2013

محوِ گریہ ہے تری یاد میں شاعر تیرا

غزل

محوِ گریہ ہے تری یاد میں شاعر تیرا
کیسا بکھرا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

تُو تو پنہاں ہے نگاہوں سے زمانے بھر کی
اور رسوا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

لفظ ہیں، پھول ہیں، موتی ہیں، خدا ہی جانے
کیا کیا لکھتا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

روز کرتا ہے چراغاں کہ گھٹے وحشتِ جاں
روز جلتا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

اپنی شناخت قائم رکھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی شناخت قائم رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میں آپ سے دو واقعات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
پچھلے دنوں پاک فوج کے ایک اعلٰی افسر کے ساتھ بیٹھنے کا اور ہر موضوع پہ کھل کے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔
''ایک افریقی ملک سیرالیون میں امن مشن کے دوران 14 اگست کا دن آ گیا۔ ہم لوگوں نےوہاں پاکستانی کونسل جنرل کے ساتھ مل کے اسے اچھے طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا۔وہاں کے صدر کو بھی مدعو کیا۔ 
جب سیرالیون کے صدر صاحب وہاں پہنچے تو ہم حیران رہ گئے۔ انہوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔جب کہ ہم سب نے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔
وہ ہمارے کونسل جنرل کو ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے کہ آپ کو پتہ نہیں میں نے کتنی مشکل سے اور کس سے شلوار قمیض ادھار لی ہے کیونکہ میں اسے بہت عزت کا لباس سمجھتا ہوں۔مگر آپ لوگوں کو خود ہی یہ پسند نہیں ہے۔
ہمیں اس بات پہ اتنی شرمندگی ہوئی کہ ہم ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے''۔
آج دوپہر کو مجھے ایک دوست کا فون آیا۔ آواز سے بہت پریشان لگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے۔ کہتا خیر ہی ہے کاغذ پین تو ہو گا ہی پاس۔ میں نے ورڈ ڈاکومنٹ کھول لیا۔ 
کہنے لگا '' میں عام طور پہ اخباری کالم نہیں پڑھتا۔ آج دفتر میں کام نہیں تھا تو پڑھنے لگ گیا۔بہت اچھے اچھے خیالات پڑھنے کو ملے لیکن ایک بات جس نے سارا مزا خراب کر دیا اور جس کی وجہ سے بہت پریشان بھی ہوں وہ ان کی لکھی ہوئی زبان تھی۔
اردو میں انگریزی کے ایسے ایسے الفاظ لکھے ہوئے تھے جن کی بہت پیاری اور عام فہم اردو موجود ہے۔ ان لوگوں کو ذرا بھی خیال نہیں وہ لوگوں میں علم بانٹ رہے ہیں اور ساتھ ہی احساسِ کمتری بھی کہ ہماری زبان اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس میں سہی سے بات ہی کی جا سکے۔''
ان دو واقعات کے علاوہ بھی پچھلے کچھ عرصے سے تواتر سے ایسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں جن میں احباب اپنی زبان اور اپنے کلچر کو نظر انداز کرنے پہ بہت دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔
اگر اردو میں انگلش الفاظ کے عام فہم متبادل الفاظ موجود نہ ہوں تو انگلش الفاظ کا استعمال کرنا سمجھ میں بھی آتا ہے۔ویسے بھی ایسے انگزی الفاظ اب اردو کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن بلاوجہ صرف اپنی علمیت جھاڑنے کے چکر میں آدھا مضمون انگریزی مٰیں لکھ دینا آدھی بات انگریزی میں کرنا بالکل ہی سمجھ سے باہر بات ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تو بچپن سے اردو ، پنجابی، سرائکی، سندھی، پشتو ، براہوی یا اپنی کوئی بھی زبان بولتے آئے ہیں۔ ہم اردو یا اپنی دوسری مادری زبان میں سوچتے ہیں تو اپنی سوچ کا اظہار اس سے زیادہ بہتر طریقے سے کسی دوسری زبان میں ہو بھی نہیں سکتا۔پھرہمارے قاری کی زیادہ تعداد بھی انگریزی سہی طرح نہیں سمجھتی یا بالکل ہی نہیں پڑھ سکتی۔ اس کے علاوہ ہماری اردو زبان میں اتنا اعلٰی ادب تخلیق کیا جا چکا ہے کہ انگریزی زبان میں شاید قیامت تک نہ ہو سکے۔
پچھلے سال ایک فیس بک کے دوست کو انگریزی میں لکھنے کا شوق ہوا۔ کہانی بھی لکھی کوئی۔ میں نے اسے یہی مشورہ دیا کہ جتنی اچھی طرح آپ اردو میں اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتے ہو انگریزی میں ممکن نہیں۔ 
پھر کچھ عرصہ اس دوست سے رابطہ نہ ہوا۔ شاید اس نے مجھے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ 
ابھی کچھ دن پہلے ایک اردو ادب کے گروپ پہ مجھے اس کی پوسٹ نظر آئی۔ پھر اس نے ایڈ بھی کر لیا۔ 
اس کا میسج آیا کہ بھائی آپ نے پہچانا؟ میں نے کہا جی آپ ہری پور سے ہو اور آپ کو انگریزی میں لکھنے کا شوق تھا۔ کہنے لگا جی اور اب اردو میں لکھنے کا شوق ہے کیونکہ آپ نے جو مشورہ دیا تھا وہ مجھے سمجھ آ گیا۔
یہ سب باتیں کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں خود پہ فخر کرنا سیکھنا ہے اب۔ ہم بھونڈی نقالی کر کے دنیا میں مذاق تو بن ہی رہے ہیں ہمارے اپنے پڑھنے والے لوگ بھی کرب کا شکار ہو رہے ہیں۔
اردو میں بات کرنی ہو تو صرف اردو میں کریں۔آپ کی جو روایات ہیں ان پہ فخر کریں ان پہ قائم رہیں۔ یقین کریں ان مغربی ممالک کے پاس اخلاق باختگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ان کی روزمرۃ کی انگریزی اتنی گندی ہے کہ ہم ان الفاظ کو گالی سمجھتے ہیں جو وہ اکثر استعمال کرتے ہیں۔
آپ جو ہیں وہ بہت اچھے ہیں۔ آپ جو نہیٰں ہیں وہ بنیں گے تو پھر اپنی شناخت کھو دیں گے اور بغیر شناخت کے انسان عزت سے نہیں رہ سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توصیف احمد کشافؔ

https://www.facebook.com/urdufm

جمعہ، 22 نومبر، 2013

خود غرضی اور کیا ہے




امی میں نے آج سے جاپان اور فرانس کے کوکنگ آئل میں ہی کھانا پکانا ہے اور کھانا ہے

ہیں وہ کیوں بھئی ؟؟

امی آپ نے دیکھا نہیں!!!  ٹی وی پہ کس طرح سے وہ دیکھا رہے ہیں ان آئل کے بارے میں کہ وہ کیسے بنائے جاتے ہیں۔۔۔ نہیں امی ہمیں اپنی صحت کے معاملے میں بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے ہم کو لوکل آئل استعمال کرنے کے بجائے اچھے والے آئل اپنے کھانوں میں استعمال کرنے چاہیئں

لیکن بیٹا دیکھو تو سہی وہ کتنا مہنگا آئل ہے ویسے بھی یہ والا آئل کون سا سستا ہے یہ بھی تو مہنگا ہی ہے لیکن اس باہر والے سے تو سستا ہی ہے

نہیں امی نہیں ۔۔ بس میں نے کہے دیا نا ۔ آپ کو میری بات مانی ہوگی ۔

اچھا تمھارے ابو آتے ہیں تو بات کرتی ہوں میں ان سے دیکھو وہ کیا کہتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمال کردیا یار تم نے کیا پروگرام کیا ہے ان تیل بنانے والوں کی تو واٹ لگادی تو نے اچھا کام کیا ہے ۔۔

ہممم کام تو اچھا ہے مگر کمائی بھی تو اسی حساب سے ہوئی ہے ۔

کیا مطلب! کمائی میں سمجھا نہیں


ابے میں سمجھاتا ہوں ۔ بات کچھ اس طرح ہے کہ یہ جو باہر کی کمپنی ہے نا اس نے مجھے اپنے تیل کی مارکیٹنگ کے لیئے کانٹریکٹ دیا ہوا تھا  میں نے لوکل کوکنگ آئل کی کوائلٹی کا بھانڈا پھوڑ کر لوگوں کو اس بات ہر سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ باہر کی کمپنیوں کا تیل استعمال کریں ۔ اور ان کمپنیوں کی پبلسٹی کردی اس طرح سے لوگ وہ تیل خریدیں گئے جو ہم بولیں گئے ۔ ویسے اب یہ باہر کی کمپنی کدھر سے تیل نکالتی ہے اور کیسے بناتی ہے اس سے ہمیں کیا ۔ تو سمجھ رہا ہے نا میری بات

ہاں یار آئیڈیا تو تیرا کمال کا ہے مجھے بھی کوئی ایسا کانٹریکٹ دلا نا

ہاں ضرور ایک باہر کی کمپنی ہے ڈبہ پیک دودھ بناتی ہے ایسا کرتا ہوں تیری ادھر بات کرادیتا ہوں تو بھی ایک دو ایسے دھانسو قسم کا پروگرام کر کے اپنا الو سیدھا کرلے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امی آپ نے ابو کو آئل کا نام لکھوادیا تھا نا جو میں نے کہا تھا 

ہاں بیٹا  وہ شام میں آتے ہوئے سپر مارکیٹ سے لیتے آئیں گئے ۔

امی آپ کو معلوم ہے یہ گائے کے دودھ سے کتنی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور یہ جو ٹیٹرا پیک ہوتا ہے نا ڈبہ والا دودھ اس میں اصل غذایت موجود ہوتی ہے اور اسی سے طاقت آتی ہے ٹی وی پہ ایک ڈاکومینٹری میں دیکھا رہے تھے

بیٹا یہ ٹی وی والوں کو ہمارا کتنا خیال ہے ہماری صحت کا ہمارے کھانے پینے کا ہماری فکر میں دبلے ہوئے جار ہے ہیں یہ ٹی وی والے تو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




جمعرات، 21 نومبر، 2013

وصایا : فیض


وصایا : فیض

۔

اے مظلومو، اے محکومو، اے نادارو، اے ناچارو
اِک راز سنو، آواز سنو، ہوتا ہے کہاں آغاز سنو
خاموش لبوں کی جنبش سے
دنیا کے خدا سب ڈرتے ہیں
سجدوں میں پڑے سر اُٹھ جائیں
مسند پہ جمے رب ڈرتے ہیں
پابندِ سلاسل روحیں جب
بیزارِ جفا ہو جائیں گی
مقتل سے صدائیں آئیں گی
لبیک کہیں گے دِیوانے
!اِک حشر کھڑا ہو جائے گا
مجروح گلوں کی چیخوں سے
گلچیں کا کلیجہ تڑپے گا
ہر منصب جھوٹا لرزے گا
!سفاک خدا گِر جائیں گے
ہر جاں جو فروزاں ہو جائے
ظلمت نہ مٹے، وہ رات نہیں
زنجیر و سلاسل، زنّاری
یہ نسلوں کی سوغات نہیں
آغاز تمہی سے ہونا ہے
غم سہنے والو چُپ کب تک؟
اے ظلم کے مارو لب کھولو”
*”چپ رہنے والو چپ کب تک؟
۔
 *آخری شعر فیض کا ہے
https://www.facebook.com/urdufm