غزل
صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار اِک فسانے کے
ہم ہیں کردار اِک فسانے کے
بزم میں پوچھتے ہیں حالِ دل
دیکھ انداز آزمانے کے
دیکھ انداز آزمانے کے
کُھل گئی آنکھ جب مریدوں کی
کُھل گئے بھید آستانے کے
کُھل گئے بھید آستانے کے
لب پہ شکوہ، نہ اشک آنکھوں میں
سیکھ آداب دل لگانے کے
سیکھ آداب دل لگانے کے
تنکا تنکا لُٹا دیا تم نے
تم محافظ تھے آشیانے کے
تم محافظ تھے آشیانے کے
شاعر: نوید رزاق بٹ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں