بدھ، 11 دسمبر، 2013

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن از نوید رزاق بٹ

غزل

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار اِک فسانے کے

بزم میں پوچھتے ہیں حالِ دل
دیکھ انداز آزمانے کے

کُھل گئی آنکھ جب مریدوں کی
کُھل گئے بھید آستانے کے

لب پہ شکوہ، نہ اشک آنکھوں میں
سیکھ آداب دل لگانے کے

تنکا تنکا لُٹا دیا تم نے
تم محافظ تھے آشیانے کے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں