اتوار، 22 دسمبر، 2013

نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا



غالب کی زمین* پر چند اشعار

نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا
جو بہشت میں ہی ہوتے تو کہاں قرار ہوتا

یہ بدن جو خاک و خوں ہے یہ اگر غبار ہوتا
تیری خاکِ پا میں شامل تیرا خاکسار ہوتا

کہیں راہبر نے لُوٹا، کہیں راہزن نے تھاما
جو سفر نہ یوں گزرتا تو نہ یادگار ہوتا

رہے بیخودی سلامت، رہے میکشی سلامت
تجھے ہم بھُلا نہ پاتے اگر اختیار ہوتا

یہ نصیب کی ہیں باتیں کہ چلے ہیں سوئے مقتل
جو قلم جھکا کے لکھتے تو گلے میں ہار ہوتا


 * یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا – غالب

https://www.facebook.com/urdufm

بدھ، 11 دسمبر، 2013

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن از نوید رزاق بٹ

غزل

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار اِک فسانے کے

بزم میں پوچھتے ہیں حالِ دل
دیکھ انداز آزمانے کے

کُھل گئی آنکھ جب مریدوں کی
کُھل گئے بھید آستانے کے

لب پہ شکوہ، نہ اشک آنکھوں میں
سیکھ آداب دل لگانے کے

تنکا تنکا لُٹا دیا تم نے
تم محافظ تھے آشیانے کے

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

سپنے دیکھو از نوید رزاق بٹ

غزل

سپنے دیکھو
پَر اپنے دیکھو

گھر گھر کی چھوڑو
گھر اپنے دیکھو

جھکنے نہ پائیں
سر اپنے، دیکھو

اشکوں سے سینچو
تھر اپنے دیکھو

افلاک تمھارے
پر اپنے دیکھو

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

حرامخور از نوید رزاق بٹ

حرامخور
حرامخور شہر میں داخل ہو چکا تھا۔

کب اور کیسے ہُوا، اِس بارے میں کوئی اتفاق نہیں تھا۔

اتفاق اِس بارے میں بھی نہیں تھا کہ اُس کی اصل شکل و ہیئت کیا ہے۔ عمومی رائے یہی تھی کہ وہ ایک مافوق الفطرت بلا ہے جس کا کام زمین پر فساد برپا کرنا ہے۔

کہ وہ شہر میں داخل ہو چکا تھا اِس کی پہلی واضح خبر تب ملی جب بخار کی دوا پینے والے بہت سے بچے جاں بحق  ہو گئے اور تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ حرامخور نے دوا میں ملاوٹ کر دی تھی۔ خبر سن کر لوگوں کے رنگ فق ہو گئے اور وہ آنے والی مصیبت کے خیال سے  کانپنے لگے۔

چند دن بعد ہی شہر کا نیا پُل زمین پر آ گرا۔ کنٹریکٹر کا اندازہ تھا کہ حرامخور نے سمینٹ میں ملاوٹ کر دی تھی، جبکہ سیمنٹ فیکٹری کے مالکان کا خیال تھا کہ حرامخور نے پُل سے سریا چوری کر لیا تھا۔ دونوں صورتوں میں سب کو یقین تھا کہ یہ کام حرامخور کا ہی ہے۔

تیسرا بڑا واقعہ تب پیش آیا جب طوفانی بارش نے قریبی علاقوں میں گندم کی کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔ حرامخور نے راتوں رات فلور ملوں اور دکانوں سے آٹے کی زیادہ تر بوریاں غائب کر دیں۔ جو چند بچیں وہ لوگوں کو بڑی مشکل سے دگنی تگنی قیمت پر ہاتھ آئیں۔

اِس کے بعد تو شہر میں کہرام مچ گیا۔ حرامخور شہر کے چپے چپے میں اپنے آسیبی وجود کے ساتھ سرایت کر گیا۔ تھانوں میں مجرموں کی جگہ معصوموں کے نام ظاہر ہونے لگے اور معصوموں کو خلاصی کے لیے خطیر رقوم خرچ کرنا پڑیں۔ بڑے بڑٰے سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور سکولوں میں افسروں ڈاکٹروں اور اساتذہ کو حرامخور نے کام سے روک دیا اور اُنہیں مجبورا اپنی خدمات نجی طور پر پیش کرنا پڑیں۔ لوگ تنگ آ کر شہر کی جامع مسجد کی جانب دوڑے اور بحث مباحثہ کرنے لگے۔ ایک انتہائی ضعیف بزرگ بمشکل اٹھے اور اٹھ کر محراب کی دائیں جانب ٹنگی آیت کی طرف اشارہ کیا

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِل

اشارہ دیکھ کر جن کو بات پہلے سمجھ آئی وہ پہلے اور جن کو بعد میں سمجھ آئی وہ بعد میں سر پر پاؤں رکھ کر دوڑے۔ سب نے آیت کے بیسیوں چھوٹے بڑے تعویذ بنوا کر اپنے گھروں دکانوں اور بچوں کے گلوں میں لٹکا دیے۔ اِس کے علاوہ پھول بوٹوں سے سجے بڑے بڑے تعویذ شہر کی شاہراہوں پر آویزاں کر دیے گئے۔ کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ بزرگ کا اشارہ آیت کے مفہوم کی طرف تھا۔

 “اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ”

اتوار، 1 دسمبر، 2013

وصایا : لقمان حکیم

وصایا : لقمان حکیم


اُدھار تیرے لشکری، اُدھار تیری سلطنت
جو مرتبہ ملے تجھے، تو عاجزی سے بات کر!
 
اَحَد ہے وہ صَمَد ہے وہ، غنی ہے بے نیاز ہے
شریک اُس کی ذات میں، نہ شاملِ صفات کر!
 
خدا سے جوڑ سلسلے، مٹا دے نقش یاس کے
بھلے عمل کو تھام لے، نفیءِمنکرات کر!



۔https://www.facebook.com/urdufm

منگل، 26 نومبر، 2013

محوِ گریہ ہے تری یاد میں شاعر تیرا

غزل

محوِ گریہ ہے تری یاد میں شاعر تیرا
کیسا بکھرا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

تُو تو پنہاں ہے نگاہوں سے زمانے بھر کی
اور رسوا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

لفظ ہیں، پھول ہیں، موتی ہیں، خدا ہی جانے
کیا کیا لکھتا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

روز کرتا ہے چراغاں کہ گھٹے وحشتِ جاں
روز جلتا ہے تری یاد میں شاعر تیرا

اپنی شناخت قائم رکھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی شناخت قائم رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میں آپ سے دو واقعات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
پچھلے دنوں پاک فوج کے ایک اعلٰی افسر کے ساتھ بیٹھنے کا اور ہر موضوع پہ کھل کے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔
''ایک افریقی ملک سیرالیون میں امن مشن کے دوران 14 اگست کا دن آ گیا۔ ہم لوگوں نےوہاں پاکستانی کونسل جنرل کے ساتھ مل کے اسے اچھے طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا۔وہاں کے صدر کو بھی مدعو کیا۔ 
جب سیرالیون کے صدر صاحب وہاں پہنچے تو ہم حیران رہ گئے۔ انہوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔جب کہ ہم سب نے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔
وہ ہمارے کونسل جنرل کو ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے کہ آپ کو پتہ نہیں میں نے کتنی مشکل سے اور کس سے شلوار قمیض ادھار لی ہے کیونکہ میں اسے بہت عزت کا لباس سمجھتا ہوں۔مگر آپ لوگوں کو خود ہی یہ پسند نہیں ہے۔
ہمیں اس بات پہ اتنی شرمندگی ہوئی کہ ہم ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے''۔
آج دوپہر کو مجھے ایک دوست کا فون آیا۔ آواز سے بہت پریشان لگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے۔ کہتا خیر ہی ہے کاغذ پین تو ہو گا ہی پاس۔ میں نے ورڈ ڈاکومنٹ کھول لیا۔ 
کہنے لگا '' میں عام طور پہ اخباری کالم نہیں پڑھتا۔ آج دفتر میں کام نہیں تھا تو پڑھنے لگ گیا۔بہت اچھے اچھے خیالات پڑھنے کو ملے لیکن ایک بات جس نے سارا مزا خراب کر دیا اور جس کی وجہ سے بہت پریشان بھی ہوں وہ ان کی لکھی ہوئی زبان تھی۔
اردو میں انگریزی کے ایسے ایسے الفاظ لکھے ہوئے تھے جن کی بہت پیاری اور عام فہم اردو موجود ہے۔ ان لوگوں کو ذرا بھی خیال نہیں وہ لوگوں میں علم بانٹ رہے ہیں اور ساتھ ہی احساسِ کمتری بھی کہ ہماری زبان اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس میں سہی سے بات ہی کی جا سکے۔''
ان دو واقعات کے علاوہ بھی پچھلے کچھ عرصے سے تواتر سے ایسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں جن میں احباب اپنی زبان اور اپنے کلچر کو نظر انداز کرنے پہ بہت دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔
اگر اردو میں انگلش الفاظ کے عام فہم متبادل الفاظ موجود نہ ہوں تو انگلش الفاظ کا استعمال کرنا سمجھ میں بھی آتا ہے۔ویسے بھی ایسے انگزی الفاظ اب اردو کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن بلاوجہ صرف اپنی علمیت جھاڑنے کے چکر میں آدھا مضمون انگریزی مٰیں لکھ دینا آدھی بات انگریزی میں کرنا بالکل ہی سمجھ سے باہر بات ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تو بچپن سے اردو ، پنجابی، سرائکی، سندھی، پشتو ، براہوی یا اپنی کوئی بھی زبان بولتے آئے ہیں۔ ہم اردو یا اپنی دوسری مادری زبان میں سوچتے ہیں تو اپنی سوچ کا اظہار اس سے زیادہ بہتر طریقے سے کسی دوسری زبان میں ہو بھی نہیں سکتا۔پھرہمارے قاری کی زیادہ تعداد بھی انگریزی سہی طرح نہیں سمجھتی یا بالکل ہی نہیں پڑھ سکتی۔ اس کے علاوہ ہماری اردو زبان میں اتنا اعلٰی ادب تخلیق کیا جا چکا ہے کہ انگریزی زبان میں شاید قیامت تک نہ ہو سکے۔
پچھلے سال ایک فیس بک کے دوست کو انگریزی میں لکھنے کا شوق ہوا۔ کہانی بھی لکھی کوئی۔ میں نے اسے یہی مشورہ دیا کہ جتنی اچھی طرح آپ اردو میں اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتے ہو انگریزی میں ممکن نہیں۔ 
پھر کچھ عرصہ اس دوست سے رابطہ نہ ہوا۔ شاید اس نے مجھے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ 
ابھی کچھ دن پہلے ایک اردو ادب کے گروپ پہ مجھے اس کی پوسٹ نظر آئی۔ پھر اس نے ایڈ بھی کر لیا۔ 
اس کا میسج آیا کہ بھائی آپ نے پہچانا؟ میں نے کہا جی آپ ہری پور سے ہو اور آپ کو انگریزی میں لکھنے کا شوق تھا۔ کہنے لگا جی اور اب اردو میں لکھنے کا شوق ہے کیونکہ آپ نے جو مشورہ دیا تھا وہ مجھے سمجھ آ گیا۔
یہ سب باتیں کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں خود پہ فخر کرنا سیکھنا ہے اب۔ ہم بھونڈی نقالی کر کے دنیا میں مذاق تو بن ہی رہے ہیں ہمارے اپنے پڑھنے والے لوگ بھی کرب کا شکار ہو رہے ہیں۔
اردو میں بات کرنی ہو تو صرف اردو میں کریں۔آپ کی جو روایات ہیں ان پہ فخر کریں ان پہ قائم رہیں۔ یقین کریں ان مغربی ممالک کے پاس اخلاق باختگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ان کی روزمرۃ کی انگریزی اتنی گندی ہے کہ ہم ان الفاظ کو گالی سمجھتے ہیں جو وہ اکثر استعمال کرتے ہیں۔
آپ جو ہیں وہ بہت اچھے ہیں۔ آپ جو نہیٰں ہیں وہ بنیں گے تو پھر اپنی شناخت کھو دیں گے اور بغیر شناخت کے انسان عزت سے نہیں رہ سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توصیف احمد کشافؔ

https://www.facebook.com/urdufm

جمعہ، 22 نومبر، 2013

خود غرضی اور کیا ہے




امی میں نے آج سے جاپان اور فرانس کے کوکنگ آئل میں ہی کھانا پکانا ہے اور کھانا ہے

ہیں وہ کیوں بھئی ؟؟

امی آپ نے دیکھا نہیں!!!  ٹی وی پہ کس طرح سے وہ دیکھا رہے ہیں ان آئل کے بارے میں کہ وہ کیسے بنائے جاتے ہیں۔۔۔ نہیں امی ہمیں اپنی صحت کے معاملے میں بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے ہم کو لوکل آئل استعمال کرنے کے بجائے اچھے والے آئل اپنے کھانوں میں استعمال کرنے چاہیئں

لیکن بیٹا دیکھو تو سہی وہ کتنا مہنگا آئل ہے ویسے بھی یہ والا آئل کون سا سستا ہے یہ بھی تو مہنگا ہی ہے لیکن اس باہر والے سے تو سستا ہی ہے

نہیں امی نہیں ۔۔ بس میں نے کہے دیا نا ۔ آپ کو میری بات مانی ہوگی ۔

اچھا تمھارے ابو آتے ہیں تو بات کرتی ہوں میں ان سے دیکھو وہ کیا کہتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمال کردیا یار تم نے کیا پروگرام کیا ہے ان تیل بنانے والوں کی تو واٹ لگادی تو نے اچھا کام کیا ہے ۔۔

ہممم کام تو اچھا ہے مگر کمائی بھی تو اسی حساب سے ہوئی ہے ۔

کیا مطلب! کمائی میں سمجھا نہیں


ابے میں سمجھاتا ہوں ۔ بات کچھ اس طرح ہے کہ یہ جو باہر کی کمپنی ہے نا اس نے مجھے اپنے تیل کی مارکیٹنگ کے لیئے کانٹریکٹ دیا ہوا تھا  میں نے لوکل کوکنگ آئل کی کوائلٹی کا بھانڈا پھوڑ کر لوگوں کو اس بات ہر سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ باہر کی کمپنیوں کا تیل استعمال کریں ۔ اور ان کمپنیوں کی پبلسٹی کردی اس طرح سے لوگ وہ تیل خریدیں گئے جو ہم بولیں گئے ۔ ویسے اب یہ باہر کی کمپنی کدھر سے تیل نکالتی ہے اور کیسے بناتی ہے اس سے ہمیں کیا ۔ تو سمجھ رہا ہے نا میری بات

ہاں یار آئیڈیا تو تیرا کمال کا ہے مجھے بھی کوئی ایسا کانٹریکٹ دلا نا

ہاں ضرور ایک باہر کی کمپنی ہے ڈبہ پیک دودھ بناتی ہے ایسا کرتا ہوں تیری ادھر بات کرادیتا ہوں تو بھی ایک دو ایسے دھانسو قسم کا پروگرام کر کے اپنا الو سیدھا کرلے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امی آپ نے ابو کو آئل کا نام لکھوادیا تھا نا جو میں نے کہا تھا 

ہاں بیٹا  وہ شام میں آتے ہوئے سپر مارکیٹ سے لیتے آئیں گئے ۔

امی آپ کو معلوم ہے یہ گائے کے دودھ سے کتنی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور یہ جو ٹیٹرا پیک ہوتا ہے نا ڈبہ والا دودھ اس میں اصل غذایت موجود ہوتی ہے اور اسی سے طاقت آتی ہے ٹی وی پہ ایک ڈاکومینٹری میں دیکھا رہے تھے

بیٹا یہ ٹی وی والوں کو ہمارا کتنا خیال ہے ہماری صحت کا ہمارے کھانے پینے کا ہماری فکر میں دبلے ہوئے جار ہے ہیں یہ ٹی وی والے تو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




جمعرات، 21 نومبر، 2013

وصایا : فیض


وصایا : فیض

۔

اے مظلومو، اے محکومو، اے نادارو، اے ناچارو
اِک راز سنو، آواز سنو، ہوتا ہے کہاں آغاز سنو
خاموش لبوں کی جنبش سے
دنیا کے خدا سب ڈرتے ہیں
سجدوں میں پڑے سر اُٹھ جائیں
مسند پہ جمے رب ڈرتے ہیں
پابندِ سلاسل روحیں جب
بیزارِ جفا ہو جائیں گی
مقتل سے صدائیں آئیں گی
لبیک کہیں گے دِیوانے
!اِک حشر کھڑا ہو جائے گا
مجروح گلوں کی چیخوں سے
گلچیں کا کلیجہ تڑپے گا
ہر منصب جھوٹا لرزے گا
!سفاک خدا گِر جائیں گے
ہر جاں جو فروزاں ہو جائے
ظلمت نہ مٹے، وہ رات نہیں
زنجیر و سلاسل، زنّاری
یہ نسلوں کی سوغات نہیں
آغاز تمہی سے ہونا ہے
غم سہنے والو چُپ کب تک؟
اے ظلم کے مارو لب کھولو”
*”چپ رہنے والو چپ کب تک؟
۔
 *آخری شعر فیض کا ہے
https://www.facebook.com/urdufm

کیا اللہ کا خوف ختم ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔



کیا ہم نے اللہ سے بلکل ڈرنا چھوڑ دیا ہے کیاہم کو اللہ نے جواب دہی سے آزاد کردیا ہے یا ہم کو یقین ہے کہ قیامت نہیں آئی ہے جو ہم بلاسوچے سمجھے مذہبی معاملات میں خود پڑتے ہیں ۔ ایک طرف ہم اس بات ہر بھی متفق نہیں کہ شہید کی تعریف کیا ہے دہشت گردی کسے کہتے ہیں اور چلے ہیں نکاح جیسے عظیم تعلق کو اپنے ڈرامہ کے ذریعے کھیل کا حصہ بنانے

 ہم ٹی وی سے ہر اتوار کی رات نشر ہونے والا ڈرامہ رشتے کچھ ادھورے سے جس کو نادیہ اختر نے تحریر کیا ہے ۔۔۔
میرا صرف ایک ہی سوال ہے کیا دنیا بھر سے موضوع ختم ہوں گئے ہیں جو آپ نے اسلام کے انتہائی نازک مسلئے کو موضوع بنایا ہوا ہے یا آپ کا مقصد کچھ اور ہے ۔۔۔ ماضی میں پہلے بھی اس طرح کی کوششیں کرکے نازک مسلوں پر کہانیاں لکھ کر نئے خیالات کو پروان چھڑیا گیا ہے ۔۔ پی ٹی وی نے بہت عرصہ پہلے ایک ڈرامہ نشر کیا تھا جس میں حلالہ کو موضوع بنایا گیا اور باقائدہ منصوبہ بندی کرکے حلالہ کرنے کا بتایا اور لوگوں کو سیکھایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد معاشرے میں طلاق اور حلالہ کا موضوع عام ہوتا گیا اب کتنے ہی ایسے کیسس سننے میں آتے ہیں کہ طلاق کے بعد یا تو فتوی لے لیا جاتا ہے کہ ہم اس مسلک کے نہیں دوسرے مسلک کے ہیں اس لییئے طلاق نہیں ہوئی یا لوگ کرائے پہ ملتے ہیں جو حلالہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جس معاشرے میں ایسی سوچ پروان چڑھتی دیکھائی دیتی ہو وہاں اللہ کا عذاب نہ آئے تو کیا آئے ۔۔۔۔
اب اس ڈرامہ رشتے کچھ ادھورے سے کے ذریعے کیا بتایا جارہا ہے یہ کہ لوگ نکاح کے بغیر ہی رہنا شروع کردیں کہ دل سے مان لو بس پھر بےشک نکاح کی سیج پہ کوئی اور ہی کیوں نہ بیٹھے جس نے دل سے مانا اس کا نکاح ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
اس ڈرامہ کا مقصد محض نکاح پہ نکاح دیکھانا اور بغیر نکاح کے رہنے کے علاوہ اور بھی بہت سے مقاصد ہیں اگر شروع کی دو اقساط دیکھیں جائیں تو منان صاحب کی صیح باتیں بھی اسطرح سے کہلوائیں گئیں ہیں جیسے انہوں نے بہت ہی معیوب بات کی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون شریف آدمی اپنی بیٹی کو گانے گانے کی اجازت دیتا ہے اس طرح سر محفل میں لیکن ڈرامہ مین دیکھایا گیا کہ منان صاحب مذہبی آدمی ہیں ان کو یہ سب برا لگتا ہے وہ ظلم کرتے ہیں بیٹیوں پر بیوی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بینک میں سودی نظام کو لے کر اب بہت سے گھرانے اپنی بیٹیوں کی شادیاں نہیں کرتے ان گھرانوں میں لیکن اس کو بھی اس طرح دیکھایا گیا جیسے یہ اس مذہبی والد کا قصور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ غلط تھا ۔۔۔۔ اگر وہ اپنی بیٹیوں کو بچا کر رکھتا اور فخر کرتا تو اس پر بھی یہ دیکھایا گیا کہ یہ سب غلط ہے وہ مذہبی ہے لیکن دیکھو اس کی بیٹیوں کے ساتھ کیا ہوا اگر وہ لبرل مائنڈ ہوتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مذہبی ہونا اس کو لے ڈوبا ۔ اس کا مذہب پر فخر اسے لے ڈوبا ۔۔۔۔ اس ڈرامہ کے بنانے کے بہت سے مقاصد ہیں جو آہستہ آہستہ ذہنوں میں ڈالے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلو پوازن کی طرح

آزاد نطم : از: عبدالباسط احسان

ایک آزاد نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غم کے ماروں کو
ہمدرد ہزاروں ملتے ہیں
مگر غم کے سائے بڑھتے ہیں
ہمدردی کے بولوں سے
دکھ کے ساز عجیب ہوتے ہیں
اتنے ہی بجتے ہیں
جتنے چھیڑے جاتے ہیں
سو ہمدردی کی بیساکھی پر
کبھی اپنا وزن نہ رکھنا
اللہ کا نام لے کر
اپنا ہر قدم رکھنا
جہاں امید ٹوٹ جاتی ہے
وہیں سے عشق کی ابتدا ہوتی ہے
وہیں سے راز کھلتے ہیں
کہ آنسو کیسے گوہر بنتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: عبدالباسط احسان

منگل، 19 نومبر، 2013

رسمی و غیر رسمی محبت - از: خرّم امتیاز


رسمی و غیر رسمی محبت

----------------------------------------------------------
جو شخص طبیعتا جینوئن ھوتا ھے، کیا وہ رسمی طور پر کسی جذباتی تعلق میں بندھ سکتا ھے یا نہیں؟؟

سوشل باؤنڈریز کے باعث آج کل بہت کچھ ممکن ھے. لوگ چاھتے اور ناچاہتے ہوئے بھی بہت سے رشتوں میں بندھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. جتنا مرضی کوئی فطرت کا خالص ہو، جتنا مرضی کوئی نیک نیت اور straightforward ہو، لیکن زمانے کے تغیرات میں بہتے ہوئے بہت سے کمپرومائزز کرنے پڑ سکتے ہیں. ان چاھے سمجھوتے بھی ... کبھی مصلحتا، کہیں کسی کی خوشی کی خاطر ، کبھی کسی کے ڈر سے اور کبھی مجبورا بھی.... 

جو انسان فی الوقت کسی بھی وجہ سے کسی رسمی محبت کے تعلق میں بندھا بھی ہوا ھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب وہ مزید کسی سے جینوئن اور خالص محبت نہیں کر سکتا. کیونکہ قدرت ہر کسی کو کبھی نہ کبھی کھل کھیلنے کا موقع ضرور دیتی ھے کہ جیسا وہ انسان باطن سے ھے، ویسا ہی تعلق کسی سے قائم کر سکے اور نبھا بھی سکے. وہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے. کل اردو گروپ پر ایک غزل شئیر کی تھی، اس کا مقطع تھا 
"
جس نے کر لیا دل میں پہلی بار گھر دانش
اسکو میری آنکھوں کی پتلیاں سمجھتی ھیں
"
میں نے اس شعر پر سوال بھی اٹھایا تھا. جن لوگوں کو ہم نے زندگی میں پیار کرنا ھوتا ھے، ان کی تصویریں پہلے ہی ہمارے دلوں میں نقش کر دی گئی ہیں، وہ لوگ زندگی میں جہاں کہیں بھی ملتے ہیں، بغیر وجہ کے اچھے لگتے ہیں. وہ ہمارے عزیز و اقارب میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور ناآشناؤں میں سے بھی. جب کبھی ہمیں ایسی شخصیات زندگی میں ملیں، جن سے ملتے ہی بغیر وجہ اور مقصد کے چاہت محسوس ھو، ان کو کبھی کھونے مت دیں. کیونکہ صرف انہی سے آپ غیر رسمی یعنی جینوئن اور دیوانہ وار محبت کر سکتے ہیں.

- خرّم امتیاز -

اتوار، 17 نومبر، 2013

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے از نوید رزاق بٹ


غزل

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے
تیری خوشبو شراب لگتی ہے

اپنی قسمت پہ اب نہ چھوڑیں گے
اپنی قسمت خراب لگتی ہے

جن کو تڑپائے بھوک راتوں میں
اُن کو روٹی عذاب لگتی ہے

جس کو انجام تک پڑھے نہ بنے
زندگی وہ کتاب لگتی ہے

ہو گئی ختم دل کی بے چینی
اب بُرائی ثواب لگتی ہے

چوٹ دے دے کے پوچھتے ہیں نوید
آپ کو بھی جناب لگتی ہے”؟”


۔

بڑی تصویر کے لیے تصویر پر کلک کریں

غلامی ترانہ از نوید رزاق بٹ

غلامی ترانہ

(سیاسی شہزادوں سے حلفِ وفاداری)
۔

کھڑے ہیں گردن جھکا کے آقا، جو حکم ہو گا بجا کہیں گے
ہماری نسلیں تمھاری خادم، تمھاری نسلیں نواب سائیں!
ہماری کُٹیا جلا کے پھر سے،کرو اجالا محل میں اپنے
خدا کا سایہ ہو تم زمیں پر، تمھاری خدمت ثواب سائیں!
۔

پیر، 11 نومبر، 2013

بین السُّطور از نوید رزاق بٹ

بین السُّطور
۔

گو بظاہر ذِکر تھا اِک بے وفا کا شعر میں

اُن کو جو کہنا تھا ہم سے کہہ گئے بَین السُّطور

لکھ دیا ہم نے جواباً ، 'کیا ہی عمدہ شعر ہے!'

چوٹ ہم بھی مسکرا کر سہہ گئے بَین السُّطور

۔
شاعر: نوید رزاق بٹ
https://www.facebook.com/urdufm

وصایا : اقبال از نوید رزاق بٹ


وصایا : اقبال
۔

نوشتہءِ    رُخِ     بشر
نویدِ    راہِ     بیکراں

عذابِ  فکر  و  آگہی
عذاب  وہ  کہ  الاماں

نگاہِ  شوق   مُضطرب
حجابِ  ہوش   درمیاں

سپاہِ   عقل   بے  خبر
نگاہِ    عشق    رازداں

سکونِ    قلب    ذِکرُہُ
غفور  و عَفْو  و مہرباں

انا  شہیدِ   مرگِ   دل
خودی  حیاتِ  جاوداں

رہینِ  ذات ضو  بجیب
ندیمِ  خلق  ضو  فشاں

شاعر: نوید رزاق بٹ
۔



ہفتہ، 2 نومبر، 2013

'برسوں کا تھما ساون' از نوید رزاق بٹ


برسوں کا تھما ساون


دیکھا جو تمہیں پھر سے

اِک یاد اٹھی دل میں

کالی سی گھٹا بن کر

فریاد اٹھی دل میں

شوریدہ ہواؤں نے

پھر ضبط سے ٹکر لی

آنکھوں نے دہائی دی

رو لینے کو جی ترسا

برسوں کا تھما ساون

!برسا تو بہت برسا


شاعر: نوید رزاق بٹ
https://www.facebook.com/urdufm
۔

بدھ، 30 اکتوبر، 2013

غزل: شدتِ لمس از نوید رزاق بٹ




شدتِ لمس سے جلتا ہے بدن جلنے دو
پہلوئے یار میں دامن کو بچانا کیسا

شعر در شعر ٹپکتا ہے قلم سے میرے
ڈھونڈ رکھا ہے تیرے غم نے ٹھکانا کیسا

آ کے اِک روز بچا لے گا مسیحا کوئی
دیکھ بیٹھے تھے سبھی خواب سہانا کیسا

 
شاعر: نوید رزاق بٹ
https://www.facebook.com/urdufm 

نطم: 'بہار آئی تھی ایک پل کو' از نوید رزاق بٹ


"بہار آئی تھی ایک پل کو"


.

ابھی تو کہنے تھے راز دل کے

ابھی تو خاموش تھے فسانے

ابھی تو کھُلنے کو مضطرب تھے

حساب سارے نئے پرانے۔

ابھی تو غنچے بھی نہ کِھلے تھے

ابھی تو بلبل بھی بے خبر تھا

ابھی تو سُوکھے پڑیے تھے پتےّ

ابھی تو سوزِ فراق تر تھا۔

تم آئے اور یوں چلے گئے بس؟

چلو یونہی پھر

تمھارے آنے کی اِس خوشی میں

ہم اپنے دل کے غموں کو لے کر

جلائیں گے اور جلا کے روشن

اداس راتیں کیا کریں گے

چمن میں بیٹھے ہوئے فخر سے

ہر ایک پتےّ ہر اِک شجر سے

گزرتے راہی سے رہگزر سے

تمھاری باتیں کیا کریں گے

بہار آئی تھی ایک پل کو

چمن میں برسوں رہا چراغاں!


.

شاعر: نوید رزاق بٹ
کتاب: نادان لاہوری

اتوار، 27 اکتوبر، 2013

چاند میری زمین ۔۔۔



چاند والے تو چاند والے تھے انہں اس بات کا بہت غرور تھا کہ وہ چاند پر رہتے ہیں اور زمین والے صرف اس بات کی تمنا کرسکتے ہیں کہ وہ بھی کھبی چاند پر جاکر رہیں لیکن ایسا صرف سوچا جا سکتا تھا ایسا ہونا تقریبا ناممکن تھا اور اب تو اور زیادہ ناممکن لگنے لگا تھا جب سے یہ کہا جارہا تھا کہ اگر چاند پہ ہوا نہیں ہے تو ویڈیو کلپ میں امریکہ کا جھنڈا لہرا کیوں رہا تھا اس لیئے چاند پر کوئی نہیں گیا ہے۔  زمین والے تو مایوس ہوچلے تھے اور چاند والوں نے سکون کا سانس لیا تھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر زمین والے چاند پر اکر رہنے لگے تو ادھر کا بھی سکون غارت ہوجائے گا۔ لیکن انہیں اپنی بڑھتی ہوئی اس مارکیٹ ویلیو کا بھی اندازہ تھا لیکن!! ایک دن خالد چاند والا  اپنے گھر پر موجود سائنسی لیبارٹری میں اپنی دوربین سے زمین کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس کے منہ سے ایک زور دار چینخ نکل گئی  اور وہ حیرت زدہ رہ گیا اس کی بیوی جو کہ کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کررہی تھی وہ بھاگتی ہوئی ادھر آگئی کیا ہوا چاند خیریت تو ہے نا !!!خالد نے انگلی سے دوربین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دیکھو اس میں کیا دیکھ رہا ہے اس کی بیوی زوبیا نے دوربین آنکھون سے لگائی اور کہا کہ زمین دیکھ رہی ہے پاکستان کے شہر کراچی کا کوئی علاقہ ہےمگر تم چینخے کیوں تھے ؟؟خالد بولا کیا تمھیں کچھ نہیں دیکھ رہا ارے دیکھو غور سے دیکھو انہیں ادھر چاند پر آنے کا کتنا شوق تھا کہ انہوں نے ادھر زمین کو بھی چاند بنا ڈالا زوبیا نے غور کیا تو اس کو سڑک پر جابجا گھڑے بنے نظر آئے جیسے چاند پر ہوتے ہیں ان گھڑھوں میں گاڑیاں بائیک اور لوگ اچھل اچھل کر آجا رہے تھے اس کی بیوی یہ سب دیکھ رہی تھی اور خالد کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی اب ہمارے چاند کی کوئی ویلیو  نہیں رہی اب ان لوگوں نے زمین کو چاند بنا دیا ہے اب کون ادھر انے کی تمنا کرے گا ۔ اب تو وہ ہمیں دیکھ کر آہیں بھی نہیں بھریں گئے

جمعہ، 25 اکتوبر، 2013

جیسا سوال ویسا جواب تو پھر ناراضگی کیسی


ہر جگہ یہ  ڈھونڈرا پیٹا جارہا ہے کہ پاکستانی قومیت کو فروغ دیتے ہیں جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ کہاں سے ہو تو کہتے ہیں کہ میں سندھ سے ہوں میں پنجاب سے ہوں میں پٹھان ہوں میں مہاجر ہوں میں بلوچ ہوں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں پاکستانی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دنوں پہلے میں ایف ایم سن رہی تھی کراچی سے کالز لی جارہی تھیں کہ ایک کالر آئی سلام دعا کے بعد میزبان نے پوچھا کہ آپ نے کہاں سے کال کی ہے تو کالر نے جواب دیا کہ کراچی سے تو میزبان ہنسنے لگی اور کہا وہ تو معلوم ہے کیوں کہ کراچی میں پروگرام آرہا ہے اور کالز بھی ہم کراچی کی لے رہے ہیں آپ اپنے علاقے کا نام بتایئے ۔۔۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں واپس اپنے موضوع کی طرف پاکستان میں رہنے والے کسی بھی شخص سے میں پوچھوں تم کون ہو اور پھر یہ توقع رکھوں کہ وہ  جواب دے کہ میں  پاکستانی ہوں ۔ انتہائی مضحکہ خیز توقع ہے میری !

آپ کے خیال میں کیا یہ سوال پوچھنا صیح ہے ؟؟ یہ تو سمجھنے والی بات ہے کہ پاکستان میں ایک پاکستانی سے میرا یہ سوال کہ آپ کون ہیں اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ میں اس سے اس کے علاقے کے بارے میں پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔ یہ ایسا ہی ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر میں کسی نماز پڑھ کر اٹھنے والے شخص سے سوال کروں کہ آپ کون ہو تو وہ لازمی مجھے جواب میں اپنا نام بتاے گا تو میں اس کو بولوں کہ احمق انسان کیا تم مسلماں نہیں جو اپنا نام بتا رہے ہو تمھیں بولنا چاہیئے تھا  کہ میں مسلمان ہوں ۔


جو لوگ اس طرح کے سوالات کو بیس بنا کر پاکستانیوں کو احساس کمتری میں اور قومیت میں الجھانا چاہتے ہیں ان سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا اپ نے کسی باہرکی یونیورسٹی میں پڑھنے والے  یا باہر ملک میں رہنے والے کسی پاکستانی سے سوال کیا کہ وہ کون ہے پوچھ کے دیکئے گا وہ کھبی نہیں کہے گا کہ وہ پنجابی ہے یا پٹھان، سندھی ہے یا مہاجر یا بلوچ بلکہ وہ صاف کہے گا کہ میں ایک پاکستانی ہوں ۔ کیونکہ اس وقت وہ جانتا ہوگا کہ مجھ سے کیا پوچھا جارہا ہے ۔

بدھ، 23 اکتوبر، 2013

المیہ - ایک نظم

میں تو دونوں ہی آنکھیں رکھتا ہوں
اور سب کچھ ہے سامنے میرے
مجھ کو معذور مت کہو لوگو
مجھ کو سب کچھ نظر تو آتا ہے
پھر بھی میں 
دیکھ کچھ نہیں سکتا 
(معراج رسول رانا)

منگل، 22 اکتوبر، 2013

انسان ڈش - از: خرم امتیاز



اللہ نے ھم سب کو چھوٹے بڑے برتنوں میں پیدا کیا. کچھ کو کچی مٹی کے اور کچھ کو سٹین لیس سٹیل کے برتنوں میں. رنگ و نسل کے مسالے لگا کر اک امتیاز اور تفریق تو خود اللہ نے پہلے ہی رکھ دی. اس پر تھوڑی سی بے چینی، تھوڑے سے تجسس اور تھوڑی سی بے صبری کے تڑکے کے ساتھ محبت و نفرت اور رنگ برنگے جذبوں کا فلیوور مکس کرتے ہوئے کیا غیر متوازن، لیکن انتہائی مزے دار چیز بنایا انسان کو. اوپر سے ہر انسان کے حالات و واقعات میں اتنی زیادہ variations .. سبحان الله...... رہی سہی کسر خوشی اور غمی کی چٹنیاں ڈال کر یوں پوری کی کہ کوئی بھی انسان مکمل خوش بھی نہیں. اور مکمل دکھی بھی نہیں.

- خرم امتیاز -

ہفتہ، 19 اکتوبر، 2013

غزل: جلیں گے کتنے چراغ از نوید رزاق بٹ



 

غزل

جلیں گے کتنے چراغ تم سے ، چراغ اک تم جلا کے دیکھو
نئی سحر کا پتہ ملے گا، پرانے چہرے ہٹا کے دیکھو

فضا میں نغموں کی گونج ہو گی ، تمام خاکوں میں رنگ ہوگا
کِھلیں گے تازہ گلاب پھر سے ، چمن سے ظلمت مٹا کے دیکھو

سبھی مسافر ہیں اس نگر میں ، سبھی کو چاہت کی آرزو ہے
دلوں کے نغمے سنو کبھی تم ، نطر نظر سے ملا کے دیکھو

کہا قلندر نے راز مجھ سے ، کہ خود کو کھونا ہے خود کو پانا
متاعِ دنیا ہوس ہے بابا! متاع یہ اک دن لٹا کے دیکھو

غریب ماں نے سلا دیا ہے بلکتے بچوں کو پھر سے بھوکا
میرے خلیفہ، محل سے نکلو ، خدا کی بستی میں جا کے دیکھو

شاعر: نوید رزاق بٹ

https://www.facebook.com/urdufm

جمعرات، 17 اکتوبر، 2013

غزل: نشانہ آزمایا جا رہا ہے از نوید رزاق بٹ


غزل
۔
نشانہ آزمایا جا رہا ہے
ہمیں ناحق ستایا جا رہا ہے
۔
جلا کر چل دیے جو آشیاں کو
انہیں پھر سے بلایا جا رہا ہے
۔
جسے لکھا ہمارے دشمنوں نے
وہ نغمہ گنگنایا جا رہا ہے
۔
چراغِ راہ تو بجھ ہی چکے تھے
چراغِ جاں بجھایا جا رہا ہے
۔
یہاں جمہوریت کا نام لے کر
تماشا کیا دکھایا جا رہا ہے
۔
نوالہ چھین کر محنت کشوں سے
نوابوں کو کھلایا جا رہا ہے
۔
غضب خالی خزانہ ہے جسے یوں
دو ہاتھوں سے لُٹایا جا رہا ہے
۔
عجب کھانے کی عادت ہو گئی ہے
کہ اِک دوجے کو کھایا جا رہا ہے
۔
خدا کے نام پر کر کے تجارت
سکونِ قلب پایا جا رہا ہے
۔
زباں بندی کی قیمت لگ رہی ہے
قلم سولی چڑھایا جا رہا ہے
۔
 خلیفہ نرم دل ہیں رو پڑیں گے
غریبوں کو بھگایا جا رہا ہے
۔
گزرگاہ ہے جہاں، منزل نہیں ہے
رُکا نہ اِک، جو آیا، جا رہا ہے
--
شاعر: نوید رزاق بٹ
-
-

اتوار، 13 اکتوبر، 2013

موچی کی بیٹی : از: اشنہ علی




موچی کي بیٹی ...... بینی
(ایک مکالمے کے دوران)


خوشی ایک نعمت ہے میں نہیں جانتی، خوشی ایک کسوٹی ہے جسے سمجھا نہیں جاسکتا، آپ لوگ خوشی کو کس آسانی سے بیان کردیتے ہیں..کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ خوشی کیا ہے! میں بھی نہیں جانتی مگر میں لفظوں کا سہارا لے کر منافقت نہیں کرتی۔
میں سچ کہوں خوشی قدرت کا ایک کھیل ہے کبھی جیت کبھی مات! کبھی خوشی ہمارے لئے سہارا ہے مضبوطی ہے.... جب میں بھوک سے بلک رھی ہوتی ہوں اور بابا کھانا لیکر آتے ہیں اس وقت خوشی ایک تہوار کاسا روپ دھارے میرے قدموں میں آ بیٹھتی ہے اور بڑی دیرتک اٹکھیلیاں کرتی رہتی ہے۔
میں بتاؤں جب میں اداس ہوتی ہوں تو بھائی منہ بناکر کہتے پریشان کیوں ہوتی ہو تمہارا بھائی ہے نا؟...(گو کہ جانتی ہوں بھائی کچھ نہیں کرپائیں گے) مگراس وقت خوشی ایک مضبوط دیوار کیطرح میرے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے اور پیش آنے والے مسائل ، مایوسیاں اور الجھنوں کو روکنے کی کوشش کرتے نظرآتی ہے، جب ماں بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے حال پوچھتی ہیں تو اس خوشی کوآپ بڑے لوگ کیا جانیں .. حال مستقبل تک سدھرجاتے ہیں۔
ہاں خوشی میرے لئے کبھی کبھی ستم ثابت ہوتی ہے..... اب عید آئی ہے.........................


بینی کی آواز مایوسی اور احساس کمتری میں دب گئی ، وہ خاموش ہے۔


از: اشنہ علی


نظم : شاعر عمران علی تبسم


اپنی زبان اردو...
ہوجاۓ گر یہ لاگو...
پھر دیکھنا چمن کی...
پھیلے گی ڈھیر خوشبو...

قومی زبان اردو...
اپنی زبان اردو.......
""""""
میٹھی ہے پراثر ہے...
رنگوں سے شوخ تر ہے...
خودروئی چال عمدہ...
ہر بولی ہمسفر ہے...

ادبی فضائیں جادو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""
دلکش ہے دلربا ہے...
ہر شہر بولتا ہے...
لہجہ ہو چاہے کوئی...
امرت ہی گھولتا ہے...

دل کو لبھاۓ بابو...
اپنی زبان اردو.......
''"""""""""
چینی تو چین بولے...
دھرتی کے بھید کھولے...
گورا چباۓ انگلش...
ہندی پہ ہند ڈولے...

پیچھے ہیں ایک میں تو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""'
ہاتھوں میں ہوں گے تارے...
سوچو نا ! اس کے بارے...
آۓ گی جب یہ دفتر...
کردے گی کام سارے...

بن جاۓ گی یہ بازو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""""
سب کو بڑی ہے پیاری... 
دے دو نا اک باری...
اب تو جگہ بنا لو...
کب سےکھڑی بے چاری...

کر لے نہ کوئی قابو...
اپنی زبان اردو........
*""""""¤""""""*
عمران علی تبسم


: شاعر :عمران علی تبسم



ہزاروں عیب ہوں چاہے وہ بے پردہ نہیں کرتا... 

جسے وہ بخش دیتا ہے اسے رسوا نہیں کرتا...


جو راتوں کو خدا کے ذکر سے اجلا بناتے ہیں...
الہی ! ایسے لوگوں کو کبھی گمراہ نہیں کرتا...


بہت سے تیر چاہے اک طرف ترکش میں باقی ہوں...

مقابل دل مسلماں ہو تو کچھ پرواہ نہیں کرتا...

بدلنا جانتی ہے جو وہ چاھت ہے حلیمی ہے...

کہ سختی اور نفرت سے کوئی بدلا نہیں کرتا...

کوئی تو بات ہے اس میں ، رگ_جاں میں تلاطم ہے...

وگرنہ اتنی عجلت میں تو دل دھڑکا نہیں کرتا...

مجھے پھولوں سے الفت ہے میں کانٹوں پہ بھی مرتا ہوں...

میں جس سے پیار کرتا ہوں اسے تنہا نہیں کرتا...

کسی کو توڑنا اور پھر بنانا اپنی مرضی کا...

سراسر ظلم ہے عمران کچھ نکلا نہیں کرتا........

شاعر :عمران علی تبسم



منگل، 8 اکتوبر، 2013

آٹا: نظم : شاعر: عابی مکھنوی





کل پہ رکھتے ہیں پیار کی باتیں
آج چلتے ہیں آ گیا آٹا
تلخ لہجہ ہے چڑچڑا پن ہے
دل کی دُنیا پہ چھا گیا آٹا
چار لقمے ہی توڑے تھے عابی
میرا بچپن بھی کھا گیا آٹا
عابی مکھنوی





مست مست : غزل : شاعر عمران علی تبسم


مخملیں کٹیا میں شاہ ، بھنورا کلی میں مست ہے
جس کو دیکھو اپنی اپنی عاشقی میں مست ہے.

ہر ستارہ چاند کی دنیا میں گم ہے ، مست ہے
چاند اپنی ہی بدلتی چاندنی میں مست ہے.

کیا کروں ؟ کیسے کروں ؟ کچھ تو بتا اے ہم وطن !
ہے اندھیرا کو بہ کو ، جگنو خوشی میں مست ہے.

کسطرح پھر درد بانٹوں ، کیا نبھاؤں دوستی
چاروں جانب ہر کوئی تو دل لگی میں مست ہے.

کچھ بڑے بے حس و سنگدل ، کچھ کبوتر بادشاہ
جو بہت مجبور ہے وہ بے بسی میں مست ہے.

ڈھونڈتا پھرتا ہوں مرد _حق ، گیا آخر کہاں ؟
یا تو پھر سویا ہوا ہے یا خودی میں مست ہے.

موت کا ہے خوف لیکن کچھ خدا کا ڈر نہیں
بھول کر اگلے جہاں کو زندگی میں مست ہے.

یہ بھی اکثر اس جہان_رنگ و بو کی ریت ہے
میں ہوں جس میں --- وہ ہے اس میں --- جو کسی میں مست ہے.

ناامیدی کفر ہے عمران کچھ تو عقل کر
علم کی شمع تو اپنی روشنی میں مست ہے.

( عمران علی تبسم )


تعلیم بالغان :از: توصیف احمد کشاف

آخرکار میں نے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے آپ لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ لوگوں کی کم علمی اور ناسمجھی اپنی جگہ مگر مجھے جس بات نے یہ راست قدم اٹھانے پہ مجبور کیا وہ مجھ بڑے ادیب کی تحریروں اور شاعری پہ کیے جانے والے اعتراضات ہیں۔کسی کو میری اعلی پائے بلکہ اعلی چار بائے کی شاعری کے وزن پہ اعتراض ہے توکسی کو میری سنجیدہ اور عقل و دانش کی باتون سے بھر پور تحریریں مزاحیہ یا خرافات نظر آتی ہیں۔
سب سے پہلے میں آپ لوگوں کو اپنی شاعری پہ کیے جانے والے اعتراضات کے پر مغز جوابات دوں گا اور ساتھ ہی جدید شاعری کو پڑھنے، سمجھنے اور لکھنے کا طریقہ بھی سکھاوں گا۔
ایک اور وضاحت بھی کر دوں کہ میں یہ کام صرف خدا ترسی اور علم و ادب کی خدمت کی غرض سے کر رہا ہوں مجھے کوئی بھی ایزی پیسہ کے ذریعے لیکچر کی فیس ادا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر پھر بھی کوئی بھجوائے گا توظاہر ہے میں کسی کے خلوص کو ٹھکرانے کا گناہ تو نہیں کر سکتا ناں۔
میری شاعری پہ پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا وزن برابر نہیں ہے۔
میرے پیارے سٹوڈنٹس اپنے سکول کے زمانے میں ریاضی پہ بھی تھوڑی توجہ دینی تھی ا
ناں۔ کیا ضروری تھا کہ گریس مارکس یا پورے 33 فیصد نمبر ہی لینے ہیں؟
آپ لوگ میری غزلوں کے سب مصرعون کا وزن جمع کر کے کل مصرعوں پہ تقسیم کر کے ایورج وزن نکال لیں۔ آسان سا کام ہے۔
پھر بھی اگر کسی سے اتنی معمولی سی جمع اور تقسیم نہیں ہو سکتی تو میں نے اپنے ایسے نالائق سٹوڈنٹس کے لیے اپنی شاعری میں ایک اور گنجائش بھی رکھی ہے اور وہ یہ کہ آپ میری شاعری کے الفاظ آگے پیچھے کر کے بھی حسب خواہش وزن بنا سکتے ہیں یا چاہیں تو کوئی لفظ ہی شعر سے نکال دیں۔ اس سے شعر کے معنی پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ویسے بھی میں آپ لوگوں کے لیول کو مد نظر رکھتے ہووے معنی و مطالب کی قید سے آزاد شاعری لکھتا ہوں۔
مجھے یقین ہے کہ اب آپ لوگوں کو میری شاعری کے وزن پہ بالکل بھی اعتراض نہیں ہو گا۔
دوسرا اعتراض میری شاعری پہ یہ کیا جاتا ہے کہ میں قابل اعتراض الفاظ اپنی شاعری میںن شامل کرتا ہوں۔
اب یہ اعتراض سن کے تو میں سر پیٹ کے رہ جاتا ہوں۔
اللہ کے بندو آپ لوگوں نے کبھی آج کی تہذیب یافتہ اقوام جسے امریک اور برطانوی لوگوں کی گفتگو نہیں سنی؟ وہ لوگ تو ایسے ایسے الفاظ اپنی روزمرہ کی گفتگو میں استعمال کرتےہیں جنہیں ہم بہت بڑی گالی سمجھتے ہیں۔
ان کے گانوں کا جو آپ لوگ بہت شوق سے سنتے ہیں پنجابی میں ترجمہ کر کے آپ لوگوں کو سنایا جائے تو آپ لوگوں کے کانوں سے دھواں نکلنے لگ جائے۔
میں تو آپ لوگوں کو تھوڑا تہذیب یافتہ بنانے کے لیے ایسے الفاط اپنی شاعری میں استعمال کرتا ہوں۔
مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کے علم میں گراں قدر اضافہ ہوا ہو گا اور آپ لوگوں کی سوچ بھی آج کے لیکچر کے بعد تہذیب یافتہ ہوئی ہو گی۔ اگلے لیکچر تک کے لیے اللہ حافظ

توصیف احمد کشافؔ