ہزاروں عیب ہوں چاہے وہ بے پردہ نہیں کرتا...
جسے وہ بخش دیتا ہے اسے رسوا نہیں کرتا...
جو راتوں کو خدا کے ذکر سے اجلا بناتے ہیں...
الہی ! ایسے لوگوں کو کبھی گمراہ نہیں کرتا...
الہی ! ایسے لوگوں کو کبھی گمراہ نہیں کرتا...
بہت سے تیر چاہے اک طرف ترکش میں باقی ہوں...
مقابل دل مسلماں ہو تو کچھ پرواہ نہیں کرتا...
بدلنا جانتی ہے جو وہ چاھت ہے حلیمی ہے...
کہ سختی اور نفرت سے کوئی بدلا نہیں کرتا...
کوئی تو بات ہے اس میں ، رگ_جاں میں تلاطم ہے...
وگرنہ اتنی عجلت میں تو دل دھڑکا نہیں کرتا...
مجھے پھولوں سے الفت ہے میں کانٹوں پہ بھی مرتا ہوں...
میں جس سے پیار کرتا ہوں اسے تنہا نہیں کرتا...
کسی کو توڑنا اور پھر بنانا اپنی مرضی کا...
سراسر ظلم ہے عمران کچھ نکلا نہیں کرتا........
شاعر :عمران علی تبسم

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں