ان سماجی ویب سائٹس جس میں فیس بک سر فہرست ہے نے معاشرتی روئیوں میں بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ میرے اس مضمون کا مقصد ان عوامل پہ روشنی ڈالتا ہے۔
فیس بک کی خوبی یہ ہے کہ آپ اپنے کمپیوٹر سے' دنیا بھر میں موجود اپنے دوستوں ' رشتے داروں سے نہ صرف رابطے میں رہ سکتے ہیں، بلکہ مختلف سماجی امور پر بحث میں شرکت کرسکتے ہیں۔
مگر دوسری طرف دیکھا جائے تو فیس بک "پانی پت" کا میدان بھی معلوم ہوتی ہے، جہاں بہت سی تخریبی سوچیں' آپ کی ذات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ہر کوئ ' چاہتا ہے کہ وہ منفرد ' نظر آئے' وہ اپنا لائف اسٹائل لوگوں کے سامنے نمایاں کرنا چاہتا ہے'، وہ لوگوں کو بتانا چاہتا ہے کہ میں حقیقی زندگی میں کتنا خوش اور مطمئن انسان ہوں، گو کہ ایسا ہوتا نہیں ہے، مگر اس سے بہت سے لوگ احساس کمتری اور جیلسی کا شکار ہوجاتے ہیں' جب وہ دیکھتے ہیں کہ مہنگے مہنگے ہوٹلوں میں کھانا کھایا جارہا ہے ، یا خواتین جب دیکھتی ہیں کہ مہنگے ترین ملبوسات ذیب تن کیے جارہے ہیں اور بیش قیمت جیلوری پہن کر ' اپنی خوشحال زندگی کی نمائش کی جارہی ہے۔
پھر دوسرا تخریبی پہلو یہ ہے کہ ہر شخص "دانشور" بننے کی کوشش میں مگن ہے، وہ انقلابی باتیں کرنا چاہتا ہے' مگر جب دیکھتا ہے کہ لوگ اس کی پوسٹ پر لائک یا کومنٹ نہیں کر رہے تو اس کو اندر سے بے چینی محسوس ہوتی ہے، وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہے۔
بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کی 'کی ہر پوسٹ پہ لوگ واہ ' واہ کریں، مگر وہ دوسرے لوگوں کی پوسٹ میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ ان کو نظر انداز کرنا شروع کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس شخص کے اندر منفی خیالات جنم لیتے ہیں' حالانکہ یہ اس کے ذاتی روئیے کا حاصل نتیجہ ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے فیس بک پر لائک اور کومنٹ کی جنگ ہے، ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ منفرد نظر آئے لوگ اس کی باتوں کو اہمیت دیں' اس کے لیے وہ " صفحات" اور "گروپس" تخلیق کرتا ہے۔
ان میں سے اکثر صفحات ایسے ہیں' جن کا مقصد بھونڈے مزاح کو فروغ دینا ہے، جبکہ ادبی گروپس کا وہ ہی حال ہے جو ہماری لائبریوں کا، کہ بہت کم لوگ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔
فیس بک نے لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا ہے، یہ اس کا سب سے بڑا مثبت پہلو ہے، یہاں لوگ نئے سے نئے انداز میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تخلیق کرتے رہتے ہیں۔
فیس بک ہماری زندگی کا لازمی جزو بنتی جارہی ہے، کہیں بھی جانا ہو " اسٹیٹس اپ ڈیٹ" کرنا ثواب کا 'کام سمجھا جاتا ہے، ادھر بچہ پیدا ہوا نہیں ' ادھر فورا اس کی تصویر فیس بک پر دوستوں سے شئیر ہوگئ۔
پھر لوگ بھی چوری چھپے دوسرے کی " نجی" زندگی میں تاک جھانک کرتے رہتے ہیں، جو کہ غیر اخلاقی روئیہ بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں