جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

چاجی : افسانہ : از: احسن اظہر


  • چاجی
    بھلا یہ بھی کوئی نام ہؤا؟ میرا ننھا سا ذہن شدید الجھن کا شکار ہو جاتا تھا جب بھی کوئی اُسے چاجی کہہ کر بلاتا تھا۔ نام تو میرے ذہن میں بھی نہیں البتہ سارے اُسے چاجی پکارتے تھے۔ شاید یہ چاچا جی کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ ادھیڑ عمر، کمزور جسم اور درمیانےقد کاٹھ کا وہ شخص ہمارے گاؤں میں کریانے کی دوکان چلاتا تھا۔ اسکی سب سے پُر اسرار بات یہ تھی کہ وہ اکیلا تھا۔ دوکان کے بغل میں ایک کچا سا کمرہ اور وہ دوکان اسکی کل کائنات تھی۔ میں نے اسے ہمیشہ سے دوکان پر دیکھا تھا ۔گھر کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ابّاجی اکثر سودا سلف اُسی سے لیتےتھے۔
    چاجی بہت شفیق، خوش اخلاق مگر قدرے خاموش انسان تھا۔ نجانے مجھ میں ایسی کیا بات تھی کہ جب بھی میں ابا جی کے ساتھ اسکی دوکان پر جاتا تھا تو وہ مجھے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ ابا جی سے اکثر کہتا تھا کہ "ماسٹر صاب! اِیس دِیا ں اکھیاں بہت پیاری ہیں" اور فوراً ہی دُعا دیتا اپنی شفیق سی مسکراہٹ کے ساتھ "اللہ اِسے چنگا چنگا دکھائے"۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے دُعا دینے کے بہانے ہی وہ میری آنکھوں کی تعریف کیا کرتا تھا۔خیر دعا کی اہمیت تو میں کیا جانتا البتہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ وہ مجھے سجے ہوئے مختلف مرتبانوں میں سے کبھی کوئی ٹافی تو کبھی بسکٹ دے دیا کرتا تھا۔
    میں دوپہر کے وقت میں اکثر ہی چاجی کی دوکان پر چلا جاتا تھا۔ چاجی کا بھی دل لگا رہتا اور میری بھی دوپہر کٹ جاتی۔ میں دوکان میں پڑے اکلوتےُموڑھے پر بیٹھ جاتا اور خود چاجی ایک بے ڈھنگی سےبنے ہوئے لکڑی کے اسٹول پر بیٹھ جاتا۔ وہیں شاید انھی دوپہروں میں میں نے اپنا پہلا ریاضی کا سبق سیکھا ۔۔۔مجھے چاجی نے گننا سکھایا تھا۔ یہ مشق شروع تو مرتبان شماری سے ہوئی تھی پھر وقت کے ساتھ ساتھ میں مرتبانوں میں موجود اشیاء کو بھی گننے کے قابل ہو گیا۔ جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا تو ایک وقت ایسا بھی آیا کے چاجی کی گنتی تو ختم ہو گئی اور اب میں چاجی کا یہ احسان اتارنے لگا تھا۔ میں اب سارے مرتبانوں کی اشیاء شمار کر کے جمع کر کے بتا دیتا مگر چاجی بس سر کھجا کے رہ جاتا۔میں نے کئی بار اسکے گلّے میں موجود رقم گننے کی بھی پیشکش کی مگر چاجی نے کبھی مجھے گلّے کو ہاتھ نہ لگانے دیا۔تب تک میں چاجی کو سمجھانے لگا تھا کہ ضرب کیا ہوتی ہے اور کیسے دی جاتی ہے۔ مگر یہ بات اس وقت میری سمجھ میں نہ آئی کہ جسے جمع کرنا نہ آتا ہو وہ ضرب کیسے دے سکتا ہے۔۔ چاجی کی ایک خاص بات جو مجھے نہیں بھولی کہ چاجی نے دوکان پر آنے والے کسی بھی سائل کبھی خالی ہاتھ نہ بھیجا۔جب کبھی اُس کے پاس ریز گاری نہیں ہوتی تب وہ دوکان میں موجود اناج میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتا تھا مگر خالی واپس لوٹانا تو جیسے گناہِ کبیرہ تھا چاجی کیلئے۔ ایسی ہی ایک خاموش سی ویران سی دوپہر میں ایک فقیر دوکان پر آیا ۔ حسبِ معمول میں اور چاجی شماریاتی مشق میں محو تھے- اُدھر فقیر نے صدا لگائی اِدھر چاجی سب کام چھوڑ کر گلّہ کھولنے لگا۔چاجی نے فقیر کو دے دلا کر بھیج دیاتو میں نے چاجی سے کہا
    "چاجی! ایک بات تو بتا"
    چاجی نے گلّہ بند کرتے ہوئے بڑ بڑانے کے سی آواز میں جواب دیا
    "پُچھ پُتر"
    "چاجی تیرے پاس پیسے ہوتے ہیں ، تُو انھیں ایویں ای دے دیتا ہے، تجھے پتہ ہے نا تیرے پیسے کم ہو جاتے ہیں ایسے؟ چاہے تُو کبھی گن کے دیکھ لئیں بیشک"
    چاجی نے اپنا صافہ جسے وہ سر پر بھی باندھ لیتا تھا اکثر ، سر سے کھول کر اس سے اپنا ماتھا پونچھتے ہوئے کہا
    "جاوید پتر تجھے پتہ ہے کہ تجھے میں گلّے میں پیسے کیوں نئیں گننے دیتا؟ "
    میں نے ایک نظر گلے کی طرف دیکھا ، پھر اسی لمحے واپس چاجی کو دیکھتے ہوئے پختہ یقین کی تصویر بن کر جلدی سے جواب دیا
    "تُو نئیں چاہتا کہ کسی کو پتہ چلے تیرے پاس کتنے پیسے ہیں"
    چاجی جو ابھی تک اپنا چہرہ اور ماتھا صافے سے صاف کر رہا تھا میرے اس جواب پر یکدم اس نے چونک کے میری جانب دیکھا۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں اسکی آنکھوں میں دکھ اور افسوس کا تاثر آ یا مگر فوراً ہی جیسے کچھ مثبت خیالی کیوجہ سے اسے کچھ سمجھ آیا، اس نےدھیمی سی آوا ز میں ہنستے ہوئےزمین کی طرف نظریں گاڑ دیں اور صافے کو گول سا کر کے اپنے کاندھے پر ڈالنے لگا۔ تب اس نے ایک پر اعتماد نظر مجھ پر جماتے ہوئے مسکر ا کرکہا
    "او چلّا ہویاں اے پتر تو۔۔ تُوتو میری جان ہے ۔۔۔ ہور کون ہے میرا اِتھے کملیا؟ ۔۔۔وے پتر میں پیسے ایس لَئے گنتاکیونکہ پیسے گننے سے دل نِکے ہو جاتے ہیں۔۔۔ اور تُو تو جانتا ای ہے نا کہ وڈّے سارے بندے میں نِکا سا دل کچھ پھبتا نئیں اے"
    یہ کہہ کر چاجی فاتحانہ سا مسکرانے لگا مجھے دیکھ کر ، پر میرے ذہن کو اطمینان نہ حاصل ہؤا تو میں نے فوراً ہی اگلا سوال داغ دیا
    "پر چاجی! ابا جی تو کہتے ہیں یہ سب فقیر جھوٹے ہوتے ہیں ، یہ سب مکر کر رہے ہوتے ہیں، پھر تُو انھیں پیسے کیوں دیتا ہے؟"
    چاجی نے بے چینی سے پہلو بدلا اور عالمانہ انداز میں آواز کو مدبر کر کے ، دونوں ہاتھوں کو ہلا ہلا کر مجھے سمجھانے لگا
    "ویکھ پتر۔۔۔ تیرا ابا ہے ایس پنڈ کا ماسٹر جی۔۔۔ پڑھیا ہویا بندہ۔۔۔ او میرے سے زیادہ جانتا ہے۔۔۔ اسے پتہ ہے کون گلط(غلط) ہیگا ہور کون سئی(صحیح) ۔۔۔۔ او نہ دے فقیراں نوں توکوئی گل نئیں۔۔ ۔ اسے تو پتہ ہے نا۔۔۔ پر پتر ۔۔۔ میں ہیگا چٹا ان پڑھ۔۔ بالکل کورا۔۔ہن مجھے کی پتہ کہ کون کوڑھا ہے ہور کون سچا؟ ۔۔۔ میں تے بس دے دیتا ہوں۔۔۔ نیّتاں سونا رب جاندا ے "
    جانے میرے سر میں کیا سمایا تھا ، ابھی تو اپنی دلیل پر چاجی خوش بھی نہ ہوپایا تھا کہ میں نے پھر سے سوال کر ڈالا
    "چل چاجی میں مان لیتا ہوں کہ سچا جھوٹا تُو نہیں جانتا۔۔۔ پر دیتا کیوں ہے یہ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ لوگ تو فقیروں کو اسلئے دیتے ہیں کہ انکے پیسوں اور مال میں اور برکت ہو۔۔۔ پر تجھے تو پیسے چاہیے بھی تو نہیں نا۔۔۔ تُو تو پیسے گنتا بھی نہیں ہے"
    اب مجھے ایسا لگا کہ میں نے چاجی کو مشکل میں ڈال دیا تھا، چاجی کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسےکہ وہ کوئی ایسی بات جانتا ہے جسکو اسے سمجھانے میں دِقّت پیش آ رہی تھی۔ چاجی نے ایک بار پھر پہلو بدلا اور ہاتھ والی پنکھے سے ہم دونوں کو ہوا دیتے ہوئے الجھن زدہ لہجے میں کہنے لگا
    "پتر تُو نے میری کھولی ویکھی ہے نا؟ ۔۔۔۔ کتنی نِکی ساری ہے۔۔میں سوتا اُدر(اُدھر) ہوں۔۔۔بار(باہر) پکّی سڑک تے جا کے تاجے کے ہوٹل سے ٹُکر(کھانا)کھاتا ہوں، کدی تیری بے بے بھی َکل(بھیج) دیتی ہے۔۔۔۔ نہاتا میں چوہدریوں کے کھوہ پر ہوں۔۔۔پیشاب کے لئے مسیتے (مسجد) جانا پڑتا ہے۔۔۔اب تُو بتا یہ کیسا ہے؟؟"
    میں اس غیر متوقع سوال کیلئے ہر گز تیار نہیں تھا۔ میرا ذہن مزید الجھ گیا۔ تقریباً چڑ کر میں نے کہا
    "چاجی ہے تو بہت مشکل یہ سب ۔۔۔۔۔پر تو میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دے رہا ؟؟"
    چاجی نے بیزاری سے اپنا صافہ کاندھے سے اتارا جیسے میرے سوالوں نے اسے تھکا دیا ہو، اس نے صافے کا ایک کونا اپنے دانتوں میں دبایا اور آزاد حصے کو دونوں ہاتھوں سے سر کے گرد باندھتے ہوئے بولا
    "اوئے میرے سجنا! اوہی ٹے ڈے را ہوں نا ٹجھے ،۔۔۔ ٹھوڑا سا(سانس)لے ۔۔۔ کسنے ڈے مجھے"
    جب چاجی صافے کو سر پر باندھ چکا تو ایک بار پھر پنکھا جھلنے لگا اور فلسفیانہ سے انداز سے خلا میں گھورتے ہوئے کہنے لگا
    "ویکھ پتر !۔۔۔مسیتے میں نے اک واری(بار) حاٖفظ جی کو کہتے سنیا تھا کہ رب سوہنا بوت(بہت) رحم والا ہے۔۔۔ او جنت وچ کار(گھر) بنائی جاتا ہے جب کوئی ایتھے(اِدھر) دنیا وچ سوالیوں دےسوال پورے کرتا ہے۔۔۔بس فیر بیلیا !۔۔۔ تیراچاجی جنت وچ وڈّا(بڑا) سارا کار(گھر)بنا راہے۔۔۔بہت وڈا۔۔۔ اپنی اے مشکلیں سوکھیاں (آسان) کر را ہیگا"۔
    یہ کہہ کر چاجی گھڑے سے پانی نکال کر پینے لگا اور میں مرتبانوں کو گھورنے لگا کہ جیسے میری گنتی بھی ختم ہو گئی ہو۔ پانی پی کر چاجی نے مجھ سے کہا کہ
    "جاوید پتر!۔۔ جا ۔۔ جا ُہن(اب) کار (گھر) جا۔۔ ماسٹر جی سو کے اٹھ گئے ہونے۔۔ ویسے وی عصر کا ویلا (وقت) ہو چلّا ہے"۔
    میں اپنی جگہ سے اٹھا اور چاجی کو بغیر سلام کیے اپنے پیروں کو تکتے ہوئے گھر آگیا۔
    دن ڈھلتے گئے ، سال گزرتے رہے ۔سات سال بعد میں پی ایچ ڈی کےلئےسکالرشپ پر امریکہ چلا گیا ۔ اسکےبعد وہیں ایک یونیورسٹی میں لیکچرر شپ مل گئی، سو کرتا رہا۔اب ادھر گاؤں میں رابعہ کی شادی پر اباجی نے لکھ بھیجا تھا کہ میرا آنا ناگزیر ہے۔ وہ اب بوڑھے ہو گئے ہیں اور ان میں مزید شادی جیسے تھکا دینے والے کاموں کی سکت نہیں ہے ۔اکلوتی نرینہ اولاد ہونا مجھے ہمیشہ سے ایسے ہی مسائل سے دوچار کرتا آیا تھا۔میں جب گاؤں میں داخل ہؤا تو مجھے دوپہر کی گرمی سی محسوس ہوئی ۔ میں نے بے اختیار آسمان کی جانب دیکھا تو آسمان کالے بادلوں سے ڈھکا ہؤا تھا۔ مجھے اپنے احساس پہ حیرت تو ہوئی پر سر جھٹک کر میں گھر کے رستے چل پڑا ۔ گھر کے نزدیک رستے میں چاجی کی دوکان کی جگہ ایک ویرانہ نظر آیا۔دکھ اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں ڈوبا میں بے کواڑ کی دوکان میں داخل ہو گیا۔وہاں تین ٹانگوں سے محروم وہی لکڑی کے بے ڈھنگے اسٹول کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا۔لیکن میرے کانوں میں سالہا سال پرانی میری اور چاجی کی ہونے والی گفتگو کی ٹیپ سی چلنے لگی۔ ٹوٹ ٹوٹ کر۔۔جگہ جگہ سے۔۔ ترتیب تو کبھی بے ترتیبی سے ۔۔"او جاوید پتر"۔۔۔۔"کتنی نکی ساری ہے"۔۔۔۔۔"کھولی دیکھی تو نے میری؟"۔۔۔۔۔" نیّتاں سونا رب جاند اے"۔۔۔۔" رب سوہنا بوت رحم والا ہے "۔۔۔۔۔۔" ہن مجھے کی پتہ کہ کون کوڑھا ہے ہور کون سچا؟"۔۔۔۔۔۔" اپنی اے مشکلیں سوکھیاں کر را ہیگا "۔۔۔۔۔۔۔مجھے چاروں طرف سے اس دوپہر کی گرمی نے گھیر لیا تھا۔مجھے معلوم ہی نہ ہؤا کب میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں نے جلدی سے آستین سے اپنی آنکھیں صاف کیں، جیسے مجھے کوئی دیکھ نہ لے اور گھبرا کے اس ویرانے سے باہر نکل آیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے گھر تک پہنچا۔امی نے پہنچتے ہی گلے لگا کر خوب آنسو بہائے اور میں اس دوران خود پر حیران ہوتا رہاکہ میں اتنا کمزور تو کبھی نہیں تھا ، یہ مجھے کیا ہؤا ہے؟ میں کیوں رو رہا ہوں ؟ کہیں اسکیوجہ میرے کانوں میں گونجنیں والی آوازیں تو نہیں؟؟ میں نےدانستہ طور پر ان خیالات کو جھٹکا تو گویا واپس امی جی اور اباجی کے پاس آگیا۔مجھے امی جی کے کمزور جسم، اباجی کے جھکے ہوئے کاندھوں ، نیم کے درخت کے کٹ جانے کی وجہ سے صحن کی کشادگی اوراُس دوپہر کی گرمی نے بہت رنجیدہ اور اداس کر دیا تھا۔میں نے سب سے ملنے ملانے کے بعد شدید تھکاوٹ کا بہانہ بنایا اور سونے کیلئے علیحدہ کمرے میں چلا گیا۔کافی دیر آوازیں سنتا رہا۔ بالآخر سر کو تکئے کے نیچے دبانے کے بعد نجانے کس وقت میں سو گیا۔
    یہی کوئی شام کے سات ساڑھے سات کا وقت ہو گا کہ مجھے کمرے کے باہر سے امی جی کی آواز آئی ۔ وہ رابعہ سے کہہ رہی تھیں
    "نا تِئیے، جاوید نوں سُتّا رہن دے، خورے بیچارہ کنِّا تھکیا ہوئے گا؟ (نا بیٹی، جاوید کو ابھی سویا رہنے دو، نجانے بےچارہ کتنا تھکا ہؤا ہو گا)
    میں آواز سننے کے بعد اٹھ بیٹھا اور نہانے کے بعد گھر والوں میں بیٹھ گیا ۔ رات کےکھانے کا وقت ہونے لگا تھا۔میں اباجی مجھےلڑکے والوں کے بارے میں بتا رہے تھے ، امی جی پاس ہی بیٹھی بار بار مجھ سے بھی شادی کا اصرار کئے جا رہی تھیں، رابعہ کھانا لگانے کےلئے باورچی خانے اور کمرے کے مسلسل چکر لگائے جا رہی تھی۔ تب ہی باہر دروازے پر دستک ہوئی، ابّا جی بولے
    "رابعہ پتر! دیکھ چاجی ہوگا دروازے پر"
    "اچھا اباجی جاتی ہوں"
    میں نے چونک کر ابا جی کی طرف دیکھا اور منہ میں ہی بڑبڑایا
    "چاجی؟؟؟"
    "رابعہ تُو رُک میں جاتا ہوں دروازے پر"
    میں عجلت میں اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہؤا دروازے پر پہنچا ۔ دروازہ کھولا تو دن ڈھلنے کی وجہ سے بس ایک سایہ سا دکھائی دیا،جھکا ہؤا سر، دروازہ کھلتے ہی دونوں ہاتھوں میں پھیلا ہؤا کپڑا سا آگے کرتے ہوئے بولا
    "سو بسم اللہ،۔۔ رابعہ پتری ۔۔۔اللہ تجھے بہت خوش رکھے "
    میں تصویرِ حیرت بنا منہ کھولے اسے دیکھتا رہا۔اس لمحے جیسے میں مفلوج ہو کر رہ گیا ۔ ہاں، وہ چاجی ہی تو تھا۔ چاجی نے جب اپنے صافے میں کافی دیر تک کچھ نہیں آتا محسوس کیا تو اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا
    "سلام ماسٹر صاب !"
    میں ایک قدم باہر نکل کر کسی خودکار طریقے سے چاجی کے گلے لگ گیا۔ پہلے تو وہ پریشان سا ہوگیا پھر چاجی کی حیرت میں ڈوبی آواز کانوں میں آئی
    "او جاوید پتر تُو؟؟؟؟؟"
    اس کے ساتھ ہی مجھے چاجی کی گرفت اپنے گرد مضبوط ہوتی محسوس ہوئی ساتھ میں ایک سسکی۔ میں چاجی کو بیٹھک میں لے آیا ۔ چاجی نے صافے سے ہی اپنا منہ پونچھا کچھ اسطرح کہ مجھے پتہ نہ چلے کے اس نے اپنے آنسو بھی صاف کئے ہیں۔ اس عمل کے بعد اس نے بوکھلا کر فوراً ایک مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا لی اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں کب آیا؟ کیسا ہوں؟ کیا کرتا ہوں؟ اور گنتی سیکھی ہے؟ ۔۔ ان تمام سوالات سے لا تعلّق ہؤا میں بس ایک ٹُک چاجی کو دیکھے جا رہا تھا۔میرے اسطرح دیکھنے سے چاجی اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید تنگ ہوتا ، اندر کمرے سے ابّاجی کی آواز آئی جو رابعہ سے کہہ رہے تھے
    "حق ہا! رابعہ پتر مجھے تو چَیتا (یاد) ہی نہیں رہا کہ چاجی اور جاوید تو پکے بیلی ہیں، جا میرا پتر تو ان دونوں کو بیٹھک میں کھانا دے آ، جا شاباش ، اللہ تجھے حیاتی دے"
    رابعہ ہمیں پہلے سے ہی بیٹھک میں بیٹھا دیکھ کر چاجی کو سلام کر کے کھانا لینے چلی گئی۔ رابعہ کے آنے سے میں اپنے سکتے کی حالت سے باہر آیا۔ مگر تب تک چاجی خاموش ہو چکا تھا اور فرش پر اینٹوں اور پتھر سے بنی ہوئی جیومیٹری پر غور کر رہا تھا ۔ میں اسکے سفید،الجھے ہوئےاور اجڑے بالوں پر غور کر تارہا۔ ہم دونوں نے کھانا اسی خاموشی میں کھایا ۔ خاموشی بھی ایسی جیسے ہم دونوں جھگڑنے کے بعد اپنی اپنی شرمندگی سمیت ایک دوجے سے تجدیدِ دوستی کرنے آئے ہیں۔ چاجی نے کھانے کے بعد صافے سے ہاتھ صاف کئے اور ہاتھ اٹھا کرکافی دیر تک دعا کرتا رہا ۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے اور چھاتی پر پھیرے اور صافے کو دانتوں میں دبا کر سر پر باندھنے لگا۔ مگر اس کے ہاتھ بہت لرز رہے تھے کہ صافے کا ایک چکر تو اسے ناکامی کی باعث تین بار سر کے گرد گھمانا پڑا۔
    اس سے پہلے کہ چاجی کچھ کہتا میں نے اس سے پوچھا
    "چاجی یہ کیا ہے؟"
    چاجی نے میرے چہرے کی طرف حیرانی سے دیکھ کر پوچھا
    "کیا جاوید پتر؟"
    میں سوفے پر بیٹھے بیٹھے اسکے نزدیک ہونے کیلئے آگے کی طرف جھکا اور کرب زدہ لہجے میں اسے سر تا پا دیکھتے ہوئے کہا
    "یہ؟ ۔۔ مجھے بتا یہ کیا حال بنا رکھا ہے تو نے؟"
    اس کی حیرانی برقرار رہی
    "پتر اللہ دا کرم ہے۔۔۔سب کجھ تو ٹھیک ہے،۔۔ کیا ہؤا مجھے"
    اسکی اس نا سمجھی کیوجہ سےمیں نے بیزاری میں کہا کہ
    "تو کب سے فقیر ہو گیا ہے چاجی؟۔۔۔۔ کیا تو نے گلّے میں سے پیسے گننے شروع کر دئے تھے؟"
    دوسرا جملہ کہتے ہوئے میرا لہجہ برہم اور طنزیہ ہو گیا تھا
    چاجی نے بے چینی سے نظریں چراتے ہوئے اپنے چہرے پر خجالت بھر ی مسکراہٹ سجا کر کہا
    "چھڈ پتر ،۔۔۔ تو وی گاؤں والوں کی طرح سوچنے لگ گیا ہے ۔۔۔"
    میں اسے ابھی تک سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس نے میری ضد سمجھا اسے اور ہتھیار ڈالنے کے سے انداز میں کہنے لگا
    "پتر بات یہ ہے کہ ۔۔ ۔۔ مجھے جمع کرنا آگیا تھا۔۔۔"
    میں نے تجسس اور حیرانی سے اسکی بات ٹوک کر پوچھا
    "تو تو نے واقعی گلے کے پیسے گن لئے تھے؟"
    چاجی کی آنکھوں میں وہی سالوں پرانا دکھ اور افسوس کا سایہ سا لہرایا جسکو جلد ہی اسنے ختم کرکے اپنی بات سمجھانے کے انداز میں کہنے لگا
    "نا پتر۔۔۔ پیسہ میرے کس کم دا؟۔۔۔ جمع تےمیں نے تقسیم کر کر کے کیتا ہے۔۔ ۔"
    میرے چہرے پر الجھن بڑھ گئی جبکہ چاجی کچھ سکون سامحسوس کرتے ہوئے بات کرنے لگا، بالکل ویسا سکون جیسے کسی کا راز کھل جائے تو راز کے کھل جانے کے غم کے باوجود اس راز کو رکھنے کے بوجھ سے چھٹکارا پانےپر جو سکون نصیب ہوتا ہے،۔
    چاجی نے اپنے ہاتھوں کیجانب دیکھا پھر میری طرف دیکھ کر پھر سے اپنے ہاتھوں کی طرف توجہ کر کے کہنے لگا
    "جاوید پتر ! ۔۔۔ تو جانتا ہے نا دنیا میں میرا تیرے باجوں (سوا) کوئی ہور نئیں۔۔۔۔ جب تو میری دوکان میں آتا تھا تو میرا بڑا دل چاہتا تھا کہ تجھے چنگی تھاں (جگہ ) پہ بٹھاؤں۔ ۔۔۔۔ پر میرے کول کیا سی؟ ۔۔۔۔اک ٹُٹا (ٹوٹا) ہویا موڑا(موڑھا) تے اک گندا جا شٹول(اسٹول)۔۔۔۔ میرا دل کرتا تھا کہ میرے کول (پاس) وی بوت(بہت ) ساری تھاں ہووے۔۔۔ پر میں تودل وی وڈا رکھنا چاہتا تھا نا۔۔۔ ایس لَئے کدی وی پیسے نئی گنے۔۔۔حافظ جی دی بات چیتے (یاد میں) رہتی تھی۔۔۔۔ایس دنیا دو تے اوس جہانے وڈے وڈے (بڑے بڑے ) کار (گھر) لو۔۔۔۔ بس میں نےتقسیم کر کر کے جمع کرنا شروع کردِتا(دیا)۔۔۔۔ میں جمع کرتا گیا کرتا گیاکرتا گیا۔۔۔ پتہ نئیں تو کب چلا گیا ۔۔۔ جب پتر تو چلا گیا نا ۔۔۔ تے مجھے پتہ لگا کہ میں موڑے(موڑھے ) تے بیٹھوں تے شٹول(اسٹول) ویلا(فارغ) رہتا ہے ، جے(اگر) شٹول(اسٹول) تے بیٹھوں تے موڑا(موڑا) ۔۔۔۔ میں فیر سوچیا کہ وے بندیا!۔۔۔ جنت وچ انّے(اتنے) وڈے(بڑے) کار (گھر ) میں کی کر ے گا؟؟؟۔۔۔۔۔۔بس فیر د ل اٹھ گیا تھاں(جگہ )دی خواہش سے۔۔۔۔ میں سوچیا(میں نے سوچا) ۔۔۔ وے کر دے تقسیم او وی جو جمع کیتا۔۔۔۔بس میں نے مانگنا شروع کردِتا۔۔۔۔ میں مانگتا ہوں ۔۔۔ جو مجھے دیتا ہے تے میں رب سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے سوہنیا مولا۔۔۔ ! ۔۔۔ میری تھاں سے اسے تھاں دے دے۔۔۔ بس میں منگتا ہو گیا۔۔۔۔ "
    یہ کہہ کر چاجی کھڑا ہوگیا اور جانے کیلئے ارادہ کرنے لگا۔ میری آنکھوں سے ایک موتی میرے گال پر پھسلتا چلا گیا۔
    "چنگا پتر میں چلتا ہوں"
    چاجی کی اجازت نے مجھے میری ہیپناٹائزڈ حالت سے باہر نکالا۔ میں نے چاجی کو پیچھے سے پکارا اور روہانسے لہجے میں بولا
    "چاجی!۔۔ رک جا ۔۔۔ میں نے اور تقسیم نہیں ہونا اب۔۔"
    چاجی نے جواباً دعا دی
    "میریا (میرے) سجنا! اللہ ودھ ودھ دے تجھے۔۔۔۔ تجھے اور گنتی آئے اور تجھے گننے کو اور ملے" چاجی نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا اور جانے لگا تو میں نے ایک بار پھر اسے پیچھے سے درد بھررے التجائیہ لہجے میں پکارا
    "مت جا نا چاجی۔۔۔۔ رک جا۔۔۔ دیکھ تو صحیح تیرے بیلی نے کتنا کچھ جمع کر لیا ہے۔۔۔ تو میرے پاس رہ ۔۔۔ مت جا نا"
    یہ کہتے ہوئے میری آواز بھرّا گئی۔میر ی بات سنکے چاجی اپنی جگہ ساکن ہو گیا جہاں وہ کھڑا تھا۔ اس نے پیچھے مڑکے دیکھے بغیر بڑی شرمندگی سے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا
    "او پتر!۔۔جنت کوئی ٹافی نئیں۔۔۔ایس تے سب دا حق ہے"


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں