جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

گنجے : از: عبدالباسط احسان



میں خود بھی معمولی گنجا ہوں ' اس لیے میں اپنی ذات کو سامنے رکھ کر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
سر کے بال جھڑنے کے کئ اسباب ہوسکتے ہیں، کسی کو مورثی بیماری ہوتی ہے کہ آباءو اجداد بھی چاند کی طرح روشن ہوتے ہیں، تو کچھ لوگوں کو پریشانیوں کی وجہ سے بیماری لاحق ہوتی ہے کہ ان کے سر کے بال یوں غائب ہونے لگتے ہیں' جیسے غریب کے گھر سے راشن ۔۔۔ ۔ گنجے پن کی تین اقسام دریافت ہوئ ہیں۔ معمولی گنجا' نیم گنجا اور گنجا ۔۔۔۔
آخری قسم ایسے ہی ہے جیسے چودھویں کا چاند ہو ۔۔آج کل کے معاشی عدم استحکام کے دور میں ' جب غربت اپنی انتہا کو ہے' بے روزگاری کی وجہ سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں ، وہاں ' گنجا پن دور کرنے کی ادویات باکثرت فروخت ہورہی ہیں۔ شکر ہے کہ پاکستان میں یہ کاربار منافع بخش ہے ورنہ' بالوں کے آجانے سے وہ لوگ بھی بے روزگار ہوسکتے ہیں' جن کا کاروبار ہی لوگوں کا گنجا پن دور کرنے سے متعلق ہے۔ ٹی وی کے اشتہار میں ' ہر کمپنی دعوی کرتی ہے کہ اس کی پروڈکٹ نے حیرت انگیز ' کارنامے انجام دئیے ہیں، ایک شخص جس نے عارف لوہار کی طرح کے بال رکھے ہوتے ہیں' اسے سیلز مین' متعارف کروانے کے بعد انکشاف کرتا ہے کے' یہ پہلے گنجا تھا۔ لوگوں کی آنکھیں یوں حیرت سے باہر نکل آتی ہیں ' جیسے کسی پھانسی کے مجرم کی ' پھانسی لگنے کےبعد باہر کو آتی ہیں۔
ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے حضرات جو اپنے گنجے پن سے' پریشان ہوتے ہیں ' فورا فون کرکے پروڈکٹ کا آرڈر دیتے ہیں اور خیالات کی دنیا میں سہانے خواب دیکھتے ہیں کہ جب ان کے بال ' ایسے ہونگے جیسے ' طاہر شاہ کے ہیں ،کئ تو
ساتھ ساتھ طاہر شاہ کا نغمہ" آئ ٹو آئ " بھی گنگنانے لگتے ہیں ' جو کہ بالوں کے ساتھ آنکھوں کے لیے بھی مفید ہے ۔
دو تین ماہ کے مسلسل استعمال کے بعد' جب ان کو اپنے' سر پر ہریالی آنے کے آثار نظر نہیں آتے' تو اس کمپنی کو لعن طعن کرتے ہیں، مگر اس کمپنی کی صحت پہ کوئ فرق نہیں پڑتا،بلکہ کمپنی نئے نام سے ایسی ہی پروڈکٹ متعارف کروا کے ' گنجے حضرات کے لیے' خوشیوں کا پیغام لے کر آتی رہتی ہے۔
ایک لطیفہ یاد آگیا کہ " ایک شخص ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ پریشانی کی وجہ سے میرے بال جھڑتے ہیں، ڈاکٹر نے پوچھا آخر پریشانی کیا ہے؟ اس شخص نے کہا یہ ہی پریشانی ہے کہ بال جھڑتے ہیں"۔
ہماری فلم انڈسٹری نے آج تک کسی گنجے کو ھیرو بنا کر پیش نہیں کیا' جبکہ مغرب کی طرف دیکھیں وہاں کی فلم
انڈسٹری میں گنجے حضرات یوں نمایاں ہوتے ہیں جیسے' پھلوں کی ریڑھی پہ تربوز نظر آتے ہیں۔ 
ہمارے معاشرے میں گنجے حضرات کو تمسخر کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اس لیے اکثر حضرات کی کوشش ہوتی ہے کہ جلدی سے وہ کسی نہ کسی طرح اپنا سر ڈھک لیں' ویسے بھی سنا ہے کہ ننگے سر پر شیطان ٹھونگیں مارتا ہے۔ 
کچھ امیر حضرات تو مصنوعی بال لگوا کر اپنے سر پہ پال سجا لیتے ہیں، اور جن بیچاروں کے پاس پیسے نہیں ہوتے ' وہ وگ سے کام چلاتے ہیں۔ وگ کو سنبھالنا اتنا ہی مشکل کام ہے' جیسے تیز ہوا میں چھتری کو سنبھالنا کہ کبھی اڑ کر ادھر ' تو کبھی ادھر جھولتی رہتی ہے۔
سنا ہے کہ گنجے حضرات پر دولت یوں مہربان ہوتی ہے' جیسے مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، لوہے سے میری مراد ' دولت ہے، اور مقناطیس سے کیا مراد ہے اسے تو آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔
ہمارے پنجاب کی طرف ہی دیکھ لیں' جتنے بڑے بڑے سرمائے دار ہیں' ان کے سر کے بال غائب ہیں، اب اس بات کا مجھے علم نہیں ہے کہ سرمایہ آنے سے پہلے ہی غائب ہوتے ہیں یا بعد میں ہوئے ہیں۔ 
میرا ایک دوست تھا' بیچارہ گنجے پن کی وجہ سے شدید پریشان تھا، میں نے اسے سمجھایا کہ دیکھو یہ کوئ اتنی بڑی بات نہیں ' دنیا کی مشہور شخصیات ' جن میں گاندھی جی بھی تھے' کی مثالیں دیں ' مگر وہ مطمئن نہ ہوا، آخر میں نے اسے بتایا کہ ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہے' اللہ نے اس کے ہاتھ میں شفاء رکھی ہے' ہوسکتا ہے کہ اس کے علم میں ہو' شاید کوئ دوائ ایجاد ہوچکی ہے جس سے تمھارے کھوئے بال دوبارہ آسکتے ہوں۔ 
میں اس کو لے کر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا' ڈاکٹر نے جب وجہ دریافت کی تو اس نے شرمندگی سے بتانے سے انکار کردیا' میں نے ہمت کرکے وجہ بتائ کہ اپنے گنجے پن سے پریشان ہے۔ بس اتنی بات کرنی تھی کہ ڈاکٹر کو غصہ آگیا' وہ سمجھا کہ ہم مذاق کرنے ادھر کو آئے ہیں۔ میں نے جب دماغ پر زور دیا کہ ڈاکٹر کے غصے میں آنے کی وجہ کیا تھی ' تو سمجھ آئ کہ ڈاکٹر خود بھی گنجا تھا۔
نیم گنحے حضرات کے لیے بالوں کا اسٹائل چیلنج سے کم نہیں ہوتا 'بڑی مشکل سے پیچھے سے بال کھینچ کر آگے کی طرف لاتے ہیں کئ تو کمال خوبی سے وحید مراد مرحوم جیسا پف نکالنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں، ایسے حضرات جب موٹر سائیکل کا تھوڑا سا سفر طے کرتے ہیں تو بال یوں ' اوپر کی طرف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں' جیسے کسی مظلوم کے ہاتھ ' آسمان کی طرف اٹھے ہوں۔
گنجے پن کا شکار لوگ ' قدرتی طور پر رومینٹک ہوتے ہیں' کیونکہ خود ان کے اوپر چاند سوار ہوتا ہے۔
ہمارے دانشور ' بھی عجیب ہیں ' عجیب محاورے نکال لیے جیسے " خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔" خدا گنجے کو کیوں ناخن نہ دے ' کیا گنجے انسان نہیں ہیں۔ آخر میں اتنا کہوں گا کہ گنجوں کا احترام سب پر لازم ہے ۔




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں