جمعہ، 4 اکتوبر، 2013
فیصل ریاض :سفر نامہء ۳۲ چک شمالی۔،،، ظنزو مزاح : از: فیصل ریاض
میں جینز اور شرٹ کے ساتھ سفید جوگرز پہنے یعنی گویا زرا کنفرم شہری سی حالت میں ایک عزیز کے بلاوے پر اپنی موٹر بائیک پر انکے گاوءں روانہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ بہت خوشی بھی تھی کہ آج شاید بارہ سال کے بعد گاوءں جا رہا تھا - وہاں کے لہلہاتے کھیت اور صاف ستھری آب و ہوا کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملنے والا تھا-
میں بدل جائیگا (suffer) لیکن کیا معلوم تھا کہ سفر انگریزی کے سف فر -
تو صاحب جیسے ہی میں گاوءں کی حدود کے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔۔ میرا استقبال دو عدد "کتوں" نے کیا جو بائیک کی طرف ایسے لپکے کہ جیسے میں شہر سے خاص انہی سے ملنے کے لئے تشریف لایا ہوں- انکے والہانہ پن سے پتہ چل رہا تھا کہ بہت وقت بعد شاید کوئی ان کو گھورے بغیر گزرا ہے یہاں سے - لیکن میں انکی مہمان نوازی کو نظر انداز کرتے ہوئے بائیک کی رفتار بڑھاتا ہی جا رہا تھا اور انکی بغلگیری کی کوششوں کو مسلسل رد کیے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر اللہ اللہ کر کے میں انکے علاقہ سے زرا دور ہوا تو وہ بھی برا مناتے ہوئے واپس ہو لئے کہ خلوص کی تو قدر ہی نہیں اور اس دن اس فلمی ڈائیلاگ پر میرا یقین اور
"مستحکم ہو گیا کہ "" علاقے تو کتوں کے ہوتے ہیں
لہلہاتی فصلوں نے میرا دھیان بٹا دیا اور قدرت کی تعریف کرتا ہوا آگے کو بڑھنے لگا۔ ابھی میں تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ موٹر بائیک کچھ بھاری سا محسوس ہونے لگا بلکل میری قسمت کی طرح- پہلے تو زیادہ توجہ نہیں دی لیکن جب باقاعدہ کسی ناہنجار شرابی کی طرح لہرانا شروع کیا تو فکر ہوئی کہ کیا ماجرا ہو گیا میں نے تو پڑول ہی بھرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روک کر دیکھا تو بائیک کا ٹایر پنکچر ہو چکا تھا ۔ شاید کسی کانٹے دار جھاڑی کے زریعہ وہاں کے سبزہ زاروں نے انتقام لیا تھا کہ شہری لوگو تم لوگوں نے ہمیں شہروں سے نکال کر صرف ان دیہاتوں تک محدود کر دیا ہے۔۔۔ لو اب بھگتو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اب اپنے زور بازو اور کے ایف سی کے برگرز کو آزمانے کا وقت آ چکا تھا لیکن صرف دس سے پندرہ فرلانگ موٹر بائیک کو گھسیٹنے کے بعد ہی اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ اب کی بار پیزا ہٹ آزمانا پڑے گا کہ ان برگروں میں تیل نہیں ہے۔ ۔۔۔ اسی وقت ایک پانجے چھ سال کا بچہ ایک خحستہ حالت والا سائیکل کا ٹایر ایک چھڑی سے دھکیلتا ہوا بلکہ اپنے تئیں ڈرائیو کرتا ہوا میری ہی طرف آتا دکھائی دیا۔۔ میں نے آواز دی تو ۔۔ منہ سے باقاعدہ ایمرجنسی بریک کی آواز نکالتے ہوئے میرے پاس آ رکا اور حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کو چہرے سے عیاں کرتا ہوا مجھے دیکھنے لگا جیسے اسے اچانک راہ جاتے ہوئے اپنے آئیڈیل نظر آگیا ہو ۔ ۔ خیر پنکچر والے کا پوچھا جو اسنے اپنی توتلی سی زبان میں کچھ اسطرح سمجھایا ۔۔۔ ۔۔۔ باوء دی ۔۔ تتی سدھے دا کے اگوں تھبے ہتھ مْر دانا ادھر میدھے سائیتلاں والے دی ہتی اے۔ (آپ سیدھے ہاتھ جا کر آگے سے بائیں ہاتھ مڑ جانا وہاں پر حمیدے سائیکلوں والے کی دکان ہے۔) ۔۔ ۔۔ خیر پنکچر لگوانے کے بعد پھر سے سف فر شروع کیا ۔
اب راستہ ایک پگڈنڈی میں بدل گیا تھا جو یوں بل کھا رہی تھی کہ کیا کسی شاعر کی محبوبہ کی ذلفیں بل کھاتی ہونگی۔۔ اور پتلی تو کسی مریل دست زدہ سانپ کیطرح ہوتی جا رہی تھی ۔ میں بھی کسی ہالی ووڈ کی فلم کے ہیرو کیطرح اس پتلی پگڈنڈی پر بائیک چلا رہا تھا ۔ انجانے میں منہ کے ڈیزائن کچھ اسطرح بن رہے تھے کہ کوئی روتا ہوا بچہ بھی دیکھ کر ہنس پڑے۔۔۔۔۔۔ اور کچھ اسی سے ملتا جلتا ہی ہوا ۔۔۔ ایک کھنکھناتی ہوئی نسوانی ہنسی نے میری ذہنی رو اور بائیک کے توازن کو گڑبڑا دیا اور میں پھسل کر پگڈنڈی سے نیچے گیلی مٹی پر آن پڑا۔۔۔ لیکن کپڑے جھاڑے بغیر اٹھ کر کھڑا ہوا ۔۔ اور عجلت میں بائیک سے الجھ کر پھر زمیں پر آن پڑا۔۔ لیکن گرتے ہیں بائیک سوار ہی ایسے کھیتوں میں ۔۔۔ ہمت نہ ہاری اور شوق دید میں پھر سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ ۔۔۔۔۔ دیکھا تو دو عدد دیہاتی دوشیزائیں ۔۔ میری حالت پر ہنس رہی تھی ۔۔ میں نے بھی ذلفوں میں دائیاں ہاتھ پھیرا اور اس بار خود کو بالی ووڈ کا ہیرو سمجھ کر انکی طرف دیکھ کر ہنسنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک دوشیزہ کو شاید صرف سلطان راہی جیسے ہیرو ہی پسند تھے۔۔ کہنے لگی ۔۔۔ گلیل جیسی ٹانگوں والا ہسدا کسطرح پیا ہے ۔۔۔۔ اسکے بال دیکھے ہیں جیسے گالہڑ ( گلہری) دا سر ہوندا ہے۔۔۔۔ اور مجھے اپنے سپائیک ہیر کٹ ایک دم سے برے لگنے لگے اور اپنی ایک عدد گلہری کیطرح کی دم بھی نظر آنے لگی ۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔ ندیدہ کسطرح منہ اڈے (کھول) دیکھ رہا ہے ۔۔ پہلے کبھی کڑی نہیں دیکھی تم نے؟ کیسی تمہاری بھائی شمشاد کے بکرے جیسے داڑھی ہے ایک آواز نے پھر سے کان میں جیسے نمکین شربت سا گھولا ۔۔۔۔۔ اور مجھے اپنی اٹالین سٹائل کی داڑھی سے بھی نفرت محسوس ہنے لگی ۔۔۔۔۔۔ بھائی شمشاد کا بکرا دیکھنے کی تمنا بھی جاگ اٹھی تھی ساتھ میں ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اتنا کچھ سننے کے بعد میرے میں اور سقط نہیں تھی ۔۔ فوراً بائیک اٹھایا اور جلدی سے سٹارٹ کر کے بھاگا ۔۔ ۔۔ میرے عقب میں بھی نسوانی قہقہے سنائی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی دل ہی دل میں امان اللہ کی دیہاتی لوگوں پر کہی گئی ساری جگتیں کستا ہوا وہاں سے آگے کو روانہ ہوا۔۔۔۔۔ بھینسوں کی کمر پر بیٹھ کر نہانے والو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گائے کی دم پکڑ کر ہیلو ہیلو کہنے والو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چارپائی کھڑی کر کے نہانے والو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکریوں کو زنانہ سواری کہنے والو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گڑ کو مٹھائی کہنے والو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
اب حالت یہ تھی کہ پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔ پینٹ پر جگہ جگہ گیلی مٹی کے داغ پڑ چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بال بکھر چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چہرے پر بارہ بلکہ تیرہ بجے دور سے ہی نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔۔ جوتے گرد سے اٹے پڑے تھے ۔۔۔ ۔۔۔ حالت ایسی نازک لگ رہی تھی کہ ملک کے حالات اس سے بہتر لگ رہے تھے مجھے اس وقت۔۔۔۔
بھلا ہو میرے عزیز کا وہ مجھے ہی ڈھونڈتا پھر رہا تھا ۔۔۔ ۔۔ مجھے اسی حال میں گلے لگانے کے بعد اپنے ڈیرے پر لے گیا ۔۔ جہاں ٹیوب ویل پر نہانے کے بعد اور دیسی گھی میں پکے ہوئے دیسی مرغے کو کھانے کے بعد کچھ حالت بہتر ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تہیہ کر لیا کہ آئیندہ کبھی شہری حلیہ اور شہری سواری پر گاوءں نہیں آوءنگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیصل ریاض
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں