جمعہ، 4 اکتوبر، 2013
بلا عنوان ۔۔ ۔۔۔ طنزو مزاح ۔۔۔از: عائشہ بی بی
نصرت آپا کا جب بھی فون آتا ہے
امی گھر میں ایمرجنسی لگا دیتی ہیں پورے گھر کو چھوڑ کر صرف ڈرئینگ روم سے آپریشن
کلین سوئیپ کا آغاز ہوتا ہے اور وہیں ختم ہوجاتا ہے جیسے یہ گھر کا ڈرئینگ روم
نہیں کراچی کا لیاری ہو
خیر نصرت آپا نہ ہماری آپا ہیں
نہ امی کی بہن بلکہ وہ رشتہ کروانے والی خاتون ہیں اورآج کل ہماری اماں جان کو
اپنی سگی بہن سے زیادہ نصرت آپا سے محبت ہے اور کیوں نہ ہو تین بیٹیاں بیاہنی ہیں
انہیں نصرت آپا اس کام میں امی کی بہترین معاون
اورایک بات بتایئے امی کی اکلوتی بہن نے اپنےتینوں
بیٹوں کی شادیاں کرواتے ہوئے کون سا امی کی کسی بیٹی کو اس قابل جانا تھا۔ جو امی
کو ان سے کوئی اچھے کی امید ہو ۔
ہماری اماں جان نے ہمیں دیکھ کراتنی آہیں نہیں بھریں جتنانصرت
آپا بھرتیں ہیں ایک دفعہ تو علیزہ میری
چھوٹی بہن نے کمرے کا پنکھا بند کردیا کمرے کا درجہ حرارت نکتہ انجماد کو پہنچ گیاتھا
اور ہمارے فریز ہونے کا خطرہ تھا ۔
آج بھی نصرت آپا کا فون آیا تھا
وہ کسی کو لا رہی تھی ۔ اب اتنی تو سمجھ ہے ہم کو جب امی کہتی ہیں کہ وہ کسی کو لا
رہی ہیں تو ہم سمجھ جاتے ییں یہ کسی ہمارا وہ نہیں بلکہ اس کی ماں بہنیں ہیں۔ یہ
بیٹوں کی مائیں بھی بڑی عجیب ہوتیں ہیں اپنی اولاد کو تو ممتا کی نظر سے دیکھتی
ہیں اور دوسروں کی اولاد کو تنقید نگار کی نظر سے یہ ظلم ہے نا آپ خود بتایئے جب
آپ سامنے والی بندی کو اس نظر سے دیکھو گئے کہ اس کی اندر کیا خامیاں ہیں تو آپ
کو اس کی خوبیاں کیا خاک نظر آئے گی آ پ کو تو وہ خامیوں کا منبع ہی نظر آئے گی شکر ہے ملک کی خارجہ پالیسی ان کے
ہاتھ میں نہیں ورنہ ان ماوں نے تو ملکی مسائل کی تمام تر ذمہ داری ان لڑکیوں پر ڈال
دینی تھی کہ ہو نہ ہو اس کی چھوٹے قد کی وجہ سے ہی تو ملک میں ہر چیز کا سائز
چھوٹا رہ گیا ہے چاہے وہ ہمارے پہنے کے کپڑے ہوں یا تندور کی روٹی۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کو لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی عمر سے نتھی کرکے
چھوڑتیں۔
بات کیا ہورہی تھی اور ہم کدھرپہنچ
گئے بس یہ ہی تو خرابی ہے ہم میں ۔ امی نے کہا تھا کہ مہمان آرہے ہیں میں علیزے
کے ساتھ جاکے ان کے ٹھونسنے کے لیئے لوازمات لے آوں ۔ اور ہم پہنچ گئے پارلر اپنا
فیشل کروانے ۔ وہ ہمیں دیکھنے آرہی تھیں لوازمات تھوڑی ۔
نصرت آپا کے لائے ہوئے مہمانوںنے شام کے چار بجے کا ٹائم دیا تھا اور چھ بجے ان کی تشریف آوری ہوئی مہمان نہیں ہوئےپاکستان کی ٹرین تیز گام ہوگئے۔ اور ہماری حالت اسٹیشن کے اس مسافر جیسی ہوگئی جس کو ہر آہٹ
ہر وسل اپنی ٹرین کا لگتا ہے ۔
یہ لوگ ٹائم کے کھبی پابند نہیں
ہوتے ایک دن میں چھ چھ لڑکیاں دیکھتے ہیں سب کو ایک ہی ٹائم دیتے ہیں۔ ان سے کوئی
تو پوچھے ایک ہی ٹائم پہ سب کو کیسے دیکھ لو گی لڑکے کی اماں ہو کوئی الہ دین کا
جن تھوڑی ہو ۔
فی الحال تو ہم ادھر ہی رہتے ہیں
مہمان آئے ہوئے ہیں آپ سے باتیں کرنے کے چکر میں کہیںدور نہ نکل جاوں ۔
امی نے بلایا ہے مجھے میں آتی ہوں میں آپ جائیے گا نہیں یہ زرا مہمان
چلیں جائیں پھر میں اور آپ مل کر تمام چیزوں سے انصاف کریں گئے اگر انہوں نے کچھ
چھوڑا تو ویسے یہ مہمان اتنا کھاتے کیوں ہیں جب کہ ۔۔۔
باجی اب چلی بھی جاو مہمانوں کی
قصیدہ گوئی بعد میں کرلینا
یہ میری چھوٹی بہن ہے اس کو میرا
زیادہ بولنے پر ایسے ہی برا لگتا ہے جیسا ہمیں وینا ملک کا انڈیا میں کام کرنا ۔
وہ ادھر رہ کر جو بھی کرے صیح ہے بس ادھر جاکر شریف بی بی بن کر اللہ اللہ کرے ۔
جارہی ہوں میں اچھا۔۔۔
اورسنو یہ مجھے باجی مت کہا کروخدا
کی پناہ صرف تین سال کا تو فرق ہے تمھاری اور میری عمر میں اس پہ باجی اور لگتی بھی مجھ سے بڑی ہو لوگ
سنیں تو میری عمر نہ جانے کہاں پہنچا دیں
اچھا بابا نہیں بولتی اب جائیے آپ
سنو کون کون آیا ہے پورا گھر تو
اٹھ کر نہیں آیا اگر ایسا ہے تو تب تو سارے سموسے ختم ہی سمجھو ۔ مجھے تو کچھ
نہیں ملے گا۔
اف اللہ کتنا بولتیں ہیں آپ اور
امی اندر خاتون سے کہ رہی ہیں کہ میری بچی تو بہت خاموش طعبیت کی ہے کچن تو بس اسی
نے سنبھالا ہوا ہے۔ وہ آپ کو اس طرح پٹر پٹر بولتے دیکھ لیں تو اپنا سر پکڑ لیں
اب پلیز چلی جائیے
اچھا! مطلب مجھے سنجیدہ والا رول کرنا پڑے گا ۔
ایک منٹ میں ٹھیک لگ رہی ہوں نا
ایک دفعہ آئینہ دیکھ لوں
ہمممم صیح ہے
چلو پھر چلتے ہیں۔
یہ آپ کی بیٹی ہے اندر میں جاکر
بیٹھی تو پہلا جملہ جو میرے بارے میں بولا گیا تھا
میں تو گنگ ہی رہ گئی یہ جملہ سن
کر کیا یہ مجھے ماسی رشیدہ کی لڑکی سمجھ رہی ہیں ۔ میں اپنے خیالات کو الفاظ نہ دے
سکی کہ اخلاقیات کا سبق کھبی پڑھا تھا اسکول میں۔
بیٹا کیا کیا ہے آپ نے ؟
میں نے تو کچھ نہیں کیا قسم لیں
لیں آنٹی میں گھبرا کر صوفے سے کھڑی ہوگئی
خاتون ہکا بکا مجھے دیکنے لگیں
بیٹا میرا مطلب تھا کہ آپ نے کیا پڑھا ہے
میرے دوبارا بیٹھنے پر انہوں نے
بھی اخلاقیات نبھائیں
عمیرا احمد اور فرحت اشتیاق کو
پڑھا ہے میں نے
سمیرا کنول کے ناول کا ڈائیلگ
بروقت یاد آیا تھا مجھے اس میں بھی لڑکی خاتون کو ایسا ہی جواب دیتی ہے اورلڑکے
کی اماں جان لڑکی پر صدقے واری ہنستے ہوئے اسے گلے لیتیں ہیں کہ آج سے یہ میری !!
میں نے آنکھیں بند کرلیں ابھی یہ
مجھے گلے لگائیں گی لیکن خاتون تھوڑی کنجوس تھیں اس معاملے میں نے آنکھیں پھر
کھول لیں یہ امی کیا کہ رہی ہیں
امی ان سے کہ رہی تھیں ماسٹر کیا
ہے اس نے اورلڑکیوں کے ایک ادارے سے کورسس کیئے ہیں کھانا پکانے کے ۔
ہائے میری بھولی ماں
ون ڈے کورس میں کیا خاک سیکھایا
جاتا ہے امور خانہ داری تو کندھوں پر ذمہ داری پڑتی ہے تو خود آجاتی ہے مجھے تو
یاد نہیں اب ان کورسس میں سے کچھ بھی ۔
اور بھئی کیا مشاغل ہیں تمھارے
کھانا !!!!
امی کی ایک گھوری نے کام کر دیکھایا
عقل اگئی مجھے
کھانا پکانے کا شوق ہے مجھے بہت
میں نے جملہ مکمل کیا
بہت خوب تو کیا اچھا پکا لیتی ہو؟
انٹرویو شروع ۔۔۔
دیکھا آپ نے ان لوگوں کو میرا
اتنا اچھا ڈرامہ نکالا دیا اور سارے سموسے بھی کھا گئے میرا اتنا سارا انٹرویو بھی
لیا کتنے جھوٹ میں نے اپنے نامہ اعمال میں لکھے لیکن فائدہ کیا ہوا انکار کر دیا
ابھی نصرت آپا امی کو بتا کے گئیں ہیں کہ لڑکے کی اماں کو ہنستی کھیلتی شوخ لڑکی
چاہیئے خاموش طبیعت نہیں ۔ حد ہوتی ہے میں آپ کو کہیں سے خاموش لگتی ہوں لیکن یہ
الگ الگ بھانت بھانت کے لوگ بولو لڑکی ہنسھ مکھ ہے توسنجیدہ طبعیت چاہیئیے ہوتی ہے۔
ایسا لگتا ہے یہ لڑکے والے اپوزیشن کے لوگ ہوتے ہیں کسی بھی معاملے میں ٹکتے ہی
نہیں
یہ نہیں وہ نہیں
یہ وہ کرلو تو
ادھر نہیں ادھر نہیں
ادھر ادھر بھی کرلو تو
ایسے ویسے پہ آجاتے ہیں ۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں