جمعرات، 17 اکتوبر، 2013

غزل: نشانہ آزمایا جا رہا ہے از نوید رزاق بٹ


غزل
۔
نشانہ آزمایا جا رہا ہے
ہمیں ناحق ستایا جا رہا ہے
۔
جلا کر چل دیے جو آشیاں کو
انہیں پھر سے بلایا جا رہا ہے
۔
جسے لکھا ہمارے دشمنوں نے
وہ نغمہ گنگنایا جا رہا ہے
۔
چراغِ راہ تو بجھ ہی چکے تھے
چراغِ جاں بجھایا جا رہا ہے
۔
یہاں جمہوریت کا نام لے کر
تماشا کیا دکھایا جا رہا ہے
۔
نوالہ چھین کر محنت کشوں سے
نوابوں کو کھلایا جا رہا ہے
۔
غضب خالی خزانہ ہے جسے یوں
دو ہاتھوں سے لُٹایا جا رہا ہے
۔
عجب کھانے کی عادت ہو گئی ہے
کہ اِک دوجے کو کھایا جا رہا ہے
۔
خدا کے نام پر کر کے تجارت
سکونِ قلب پایا جا رہا ہے
۔
زباں بندی کی قیمت لگ رہی ہے
قلم سولی چڑھایا جا رہا ہے
۔
 خلیفہ نرم دل ہیں رو پڑیں گے
غریبوں کو بھگایا جا رہا ہے
۔
گزرگاہ ہے جہاں، منزل نہیں ہے
رُکا نہ اِک، جو آیا، جا رہا ہے
--
شاعر: نوید رزاق بٹ
-
-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں