جمعہ، 25 اکتوبر، 2013

جیسا سوال ویسا جواب تو پھر ناراضگی کیسی


ہر جگہ یہ  ڈھونڈرا پیٹا جارہا ہے کہ پاکستانی قومیت کو فروغ دیتے ہیں جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ کہاں سے ہو تو کہتے ہیں کہ میں سندھ سے ہوں میں پنجاب سے ہوں میں پٹھان ہوں میں مہاجر ہوں میں بلوچ ہوں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں پاکستانی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دنوں پہلے میں ایف ایم سن رہی تھی کراچی سے کالز لی جارہی تھیں کہ ایک کالر آئی سلام دعا کے بعد میزبان نے پوچھا کہ آپ نے کہاں سے کال کی ہے تو کالر نے جواب دیا کہ کراچی سے تو میزبان ہنسنے لگی اور کہا وہ تو معلوم ہے کیوں کہ کراچی میں پروگرام آرہا ہے اور کالز بھی ہم کراچی کی لے رہے ہیں آپ اپنے علاقے کا نام بتایئے ۔۔۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں واپس اپنے موضوع کی طرف پاکستان میں رہنے والے کسی بھی شخص سے میں پوچھوں تم کون ہو اور پھر یہ توقع رکھوں کہ وہ  جواب دے کہ میں  پاکستانی ہوں ۔ انتہائی مضحکہ خیز توقع ہے میری !

آپ کے خیال میں کیا یہ سوال پوچھنا صیح ہے ؟؟ یہ تو سمجھنے والی بات ہے کہ پاکستان میں ایک پاکستانی سے میرا یہ سوال کہ آپ کون ہیں اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ میں اس سے اس کے علاقے کے بارے میں پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔ یہ ایسا ہی ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر میں کسی نماز پڑھ کر اٹھنے والے شخص سے سوال کروں کہ آپ کون ہو تو وہ لازمی مجھے جواب میں اپنا نام بتاے گا تو میں اس کو بولوں کہ احمق انسان کیا تم مسلماں نہیں جو اپنا نام بتا رہے ہو تمھیں بولنا چاہیئے تھا  کہ میں مسلمان ہوں ۔


جو لوگ اس طرح کے سوالات کو بیس بنا کر پاکستانیوں کو احساس کمتری میں اور قومیت میں الجھانا چاہتے ہیں ان سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا اپ نے کسی باہرکی یونیورسٹی میں پڑھنے والے  یا باہر ملک میں رہنے والے کسی پاکستانی سے سوال کیا کہ وہ کون ہے پوچھ کے دیکئے گا وہ کھبی نہیں کہے گا کہ وہ پنجابی ہے یا پٹھان، سندھی ہے یا مہاجر یا بلوچ بلکہ وہ صاف کہے گا کہ میں ایک پاکستانی ہوں ۔ کیونکہ اس وقت وہ جانتا ہوگا کہ مجھ سے کیا پوچھا جارہا ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں