- ،، سُورج میرے سَر پہ کھڑا آگ برسا رھا تھا ۔اور میں پسینے میں شرابُور سڑک کنارے ایک دُکان سے دو یا تین قدم کے فاصلے پہ بیٹھا بغیر کام کئے تھکا ہارا اپنے رِزق کی تلاش میں روڈ کے دونوں اطراف دیکھ کر گرم سانسیں لئے جارہا تھا ،، شاید کوئی انسان نُما فرشتہ آئے اور پُورے ،پانچ سو،روپے کی دیہاڑی کے لئے کام دے جائےلیکن میں پچھلے چار گھنٹوں سے اِسی سوچوں میں گُم تھا۔ مایوسی اب میرے ذہن گُھسنے کی کوشِش کر رہی تھی کہ ابھی تک کوئی نہ آیااور بارہ بجے کے بعد پھر مُجھے خالی ہاتھ گھر جانا پڑے گا راستے میں جاتے ھوئے کسی سے وقت کا پُوچھ لیتا اور دل تھام کے بیٹھ جاتا وقت تھا کہ تیزی سے گُزرے جا رہا تھا ،، ابھی میرے پاس دو گھنٹے اور تھے خیر میں اِسی کَشمَکش میں گُم تھاکہ اچانک میری نظر اِک خاتُون پہ پڑی جو میری طرف ہی آ رہی تھی اِک چمکتا ھُوا بُرقعہ پہنے ھُوئے۔ میں بغور اُسے ہی دیکھ رہا تھا کیونکہ میں اپنا اندازہ لگا چُکا تھادِل ہی دل میں مُجھے خوشی بھی ھُوی کہ یہ بیگم صاحبہ کسی مزدُور کو ہی کام کے لئے ڈھونڈنے آرہی ہے ،، اور میرے علاوہ اب یہاں کوئی ہے بھی نہیں اب تو دیہاڑی پکّی ھے میری ،،اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ میرے پاس سے گُزر کر پیچھے ایک دُکان (اسٹور) پہ جا کر کھڑی ہوگئی اُففففف اُس وقت میرے دل پہ اِک درد سا گُزرا اور آنکھ میں بے ساختہ آنسُو اُمڈ آیا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں تیرتا ھُوا نجانے کہاں چھُپ گیا۔ میری آنکھیں عورت کو دیکھیں جارہی تھیں۔ اور ھائے رے قِسمت کے نعرے میرے ، دل ، میں جا کے گُونج رہے تھے ،، کہ اچانک مُجھے اُس عورت کی آواز سُنائی دی اور حیرت سے میرے کان کھڑے ہوگئے کیونکہ میں اُس دکان کے قریب ہی بیٹھا تھا ، تو مجھے اُس کی آواز صاف سُنائی دے رہی تھی اُس کے الفاظ تھے کہ میں تو اپنی بُھوک پیاس ہی بھول گیا ،، وہ کہہ رہی تھی کہتُمہیں اللہ کا واسطہ خُدا کیلئے مُجھ غریب پر ترس کھاؤ میری تین جوان کنواری بیٹیاں گھر میں بیٹھیں ہیں اور کمانے والا کوئی نہیں میں بیوہ ہوں مجھے کُچھ پیسے دے دیں اللہ کے نام پر میری مدد کیجئے دو دن سے ہم نے کچھ نہیں کھایا خُدارا بڑی اُمیدیں لے کر آپ کے پاس آئی ھوں۔ اُس عورت کو دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کوئی مانگنے والی ہوگی اور وہ جس انداز سے کہہ رہی تھی مجھے بھی اندازہ ہُوا کہ یہ کوئی بھیگ مانگنے والی مائی نہیں ضرور یہ مجبُور ہو کر آئی ہے اور شاید اسی لیئے بھیک مانگ رہی ھےخیر میں یہ ماجرہ دیکھ رہا تھا۔ مجھے بہت تَرس آیا اُس کے لہجے میں درد تھا جو میں نے محسُوس کِیا ،، لیکن مُجھے اُس وقت بہت غُصّہ آیا جب اُس دُکاندار نے اپنے گندے دانت دِکھا کر ہنسنے کی کوشش کرتے ھُوئے کہنے لگا میں پیسے تو دیدُوں گا مگر مجھے اُس کے بدلے کیا مِلے گا ،، وہ عورت کُچھ نا بولی اور پھر سے فریاد کرنے لگی ، لیکن میں تو اچھّی طرح سمجھ چُکا تھا کہ یہ کہنا کیا چاہتا ہے غلیظ انسان۔ اور پھر اُس عورت کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا بتاؤ تم کیا دوگی اپنی بیٹی یا پھر خود جاؤگی میرے ساتھ اُس عورت نے اپنا ہاتھ چُھڑانے کی کوشش اور میں ایک دَم سے اُٹھ کھڑا ھُوا اُس شخص کی باتیں مُجھے زہر سے بھی کڑوی لگی میں کیا اگر وہاں کوئی بھی غیرت مند مرد ہوتا تو شاید اُسے بھی غُصہ آتا ، لیکن مُجھے کیا ہُوا میں خود بھی نا جان پایا۔ شاید میرے اندر کا اِک غیرت مند مَرد جاگا تھا، میں بھلے ہی غریب تھا، لیکن غیرت سے مالا مال تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور اُس کی دُکان میں گھُس کر اُسے مارنا شروع کردیا ، اچانک ہی دُکان میں اِک بھیڑ جمع ہوگئی اور مجھے چند لوگوں نے گھسیٹ کر دُکان سے باہر نِکال دِیا اور چند لڑکوں اور آس پاس کے دُکانداروں نے مجھے اپنے حِصار میں جکڑ لیااور جب اُس آدمی کو باہر لایا گیا تو اُس کی حالت دیکھنے کے لائق تھی ، ناک سے بُری طرح خون روانا تھا اُسے سنبھلتے ہُوئے تقریباً گھنٹہ گُزر چُکا تو وہ پھر مجھے دیکھ کر دھمکیاں دینے لگا۔خیر پھر کیا ہونا تھا بحث تھی کہ بڑھتے بڑھتے مُجھے پُولیس کے حوالے کردیا گیامیں موبائل وین میں بیٹھا تھانے تشریف لے جارہا تھا ،، جہاں میری دُرگت بننّی تھی ،، مرتا کیا نہ کرتا میں چُپ چاپ وین میں بیٹھا اور دو پولیس والے مجھے گُھور گھُور کر ڈرا رہے تھے اور ساتھ ساتھ گالم گلوچ اور ایک آدھ تھپّڑ بھی رسید دیتے ،،میں بلکُل خاموش بیٹھا اُس عورت کے الفاظوں میں گُم تھا ،، تھوڑی دیر بعد تھانہ آگیا اور مجھے دھکے دے دے کر تھانے کے اندر لے جایا گیا اب میں اندر بیٹھا اُس صاحب جی کو دیکھ رہا تھا جس کی وردی کے کاندھے پر ایک پھُول سجا ھُوا تھا اور پیٹ اُسکا اچھا خاصا پھُولا ہوا تھا ،، وہ افسر کہنے لگا بتا بیٹا تیری سزا کیا ھےچھِتَر کھائے گا ڈنڈا ،، میں کُچھ نہ بولا اُس کے موٹے ہونٹ پھر ہلنے لگے بتا جلدی بتا کیا خدمت کریں جناب کی ،، میں آخر بول پڑا میرا جُرم کیا صاحب جی میں غریب آدمی ہوں اور اپنا دُکھڑا سناڈالا ،،پھر وہ کہنے لگا اُس عورت کو تُو جانتا ھے یا وہ تیری رشتے دار تھی ، نہیں صاحب جی میں نہیں جانتا کون تھی ، لیکن اتنا جانتا ہوں کہ وہ بیچاری تھی،،ھممممم بے چاری۔۔۔۔۔۔۔۔! ہاںاتنے میں ایک لڑکا اندر آیااور میرے سامنے والی بینچ پہ بیٹھ گیا ،، اُسے افسر نے بُلایا تو وہ میرے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھ گیا ،، ہاں کیا خبر لائے ہو کالُو ، وہ کہنے لگا صاحب جی آج نینا کی طبیعت ٹھیک نہیں اور بابُو اپنے گاؤں گیا ھُوا ھے ،، پھر اُس نے جیب سے چند ہزار روپے نِکالے اور افسر کو تھما دیئے پھر اُسے رات میں ملنے کا کہہ کر باہر چلا گیا ،، پولیس افسر مُجھے دیکھ کر ایک مکّار سی مسکراہٹ لئے کہنے لگا ، اچھا تو تم نے ایک بھکارن عورت پہ ترس کھا کر ایک سیدھے سادھے دُکان دار کو اتنا پیِٹا اگر تمہیں کوئی نہ چُھڑاتا تم نے تو اُسے مار ہی دینا تھا اور اگر وہ مَر جاتا تو ،،،تمہیں پھانسی ہوجانی تھی اور جیسا تم نے فرمایا کہ وہ عورت مظلوم تھی بیوہ تھی سوچو تمہارے بعد تمہاری گھر والی بھی مظلُوم ہوجاتی، ایک لمحہ کے لئے تو میں سوچنے لگا اور پھر جب میری سمجھ میں بات آئی تو میرے رُونگٹے کھڑے ہو گئے۔کہ خُدا نا خُواستہ میری بیوی ایسے بھیگ مانگے ،،،،، نہیں نہیں ،، بے ساختہ میرے منہ سے نہیں کے الفاظ نکل پڑے۔ افسر ہنسنے لگا اور پھر کہا کہ ابھی جو لڑکا آیا تھا نہ، یہ بھکاری تھا۔اور اس نے جو پیسے دیئے وہ بھیک کے ہی پیسے تھے،، لیکن یہ بھی ایک کام ھے جیسے تم کام کرتے ہو ویسے ہی یہ لوگ بھی کرتے ہیں ،، یہ لڑکا اکیلا نہیں ھے اس کے ساتھ آٹھ لوگ اور ہیں اور یہ سب بھیک مانگتے ہیں، اور یہی اِن کا کام ھے یہ میرے علاوہ کسی گدا گر گرو کو روپے نہیں دیتا اور نا ہی کوئی بھِکاریوں کا باپ اِس سے روپے لے سکتا ھے کیونکہ اس کے سَر پہ میرا ہاتھ ھےیہ گداگری اب ایک بہت بڑا پیشہ بن چُکا ھے اِس میں ٹولے ہیں، گروپ بن گئے اب یہ بیماری پُورے مُلک میں پھیل چُکی ھے ،،اور تم ہو کہ ایک بھکارن پہ اتنی غیرت کھا رہے ہو ۔میرے جی میں آیا کہ میں کہہ دوں وہ بھکارن نہیںہی مجبُور تھی ،،لاچار تھی ، غریب تھی ، لیکن میں چُپ ہی رہا ۔ خیر وہ مجھ سے مخاطب تھا اورپھر کہنے لگا تیرا مسئلہ کچھ نہیں یہ میں حل کردوں گا لیکن آئیندہ خیال رہے اور دوبارہ اُس جگہ مت بیٹھنا اگلے اِسٹاپ پہ۔بیٹھا کرو ، اور ہاں تم سے ایک کام ھے تُمہیں میرے ساتھ گھر جانا ہوگا میں نے حیرت سے افسر کو دیکھا اور تھوڑا گھبرایا بھی وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑا اور کہنے لگا ڈرو مت میں گھر بنا رہا ھُوں تُم مزدور آدمی ہو تمہارا اوزار گاڑی میں پڑا ھے کل صُبح یہاں آجانا میں تمہیں یہاں سے گھر لے چلوں گا اور گبھرانے کی ضرورت نہیں تُمہیں تمہاری محنت کے روپے ملیں گےایک اندھے کو آنکھوں کے علاوہ اور کیا چاہئے میرا تو خوشی سے بُرا حال تھا میں تو ایک لمحہ کیلئے اُس عورت کو بھی بھُول چلا تھا ،، جس کے ذریعے مجھے کام مِلا تھا ،، افسر نے کہا اب تُم جا سکتے ہو اور ہاں تمہارا سامان یہیں پر پڑا ہوگا تاکہ تُم صبح جلدی تھانے پُہنچ جاؤ ،،، خیر میں نے گھبرا کر کہا صاحب جی میری جیب میں بِیس روپے ہیں اگر آپ کُچھ روپے دے دیں تو بڑی مہربانی ھوگی ،، اُس نے دو سو روپے جیب سے نِکالے اور میرے ہاتھ پہ رکھ دیئے ، پیسوں کو دیکھ کر میری آنکھیں خوشی سے جھپکنا بھُول گئیاور میں تھانے سے باہر نِکل آیا اور راستے میں ، میں نے کئی دفعہ اُس عورت کے بارے میں سوچا کہ پتا نہیں اُس بیچاری پہ کیا گُزر رہی ہوگی اور پھر مجھے افسر صاحب کی بات بھی یاد آنے لگی کہ یہ ایک پیشہ ھے یہ ایک کاروبار ھے یہ ایک ناسُور بن چُکا ھے اب اور میں سوچنے لگا جو لوگ اِس کے مُستحِق ہیں اُن کی مدد کوئی نہیں کرتا جو مُستحق نہیں اُنہیں بھیک دے دے کر اُن کی عادت بناڈالی ھے اب میں بَس میں بیٹھ چلا تھا افسوس کیسے کیسے لوگ اس دُنیا رہتے ہیں جِن کو جینے کا حق بھی نہیں لیکن اللہ اُنھیں ڈھیل دے رہا ھے اور وہ نادان لوگ ، اور اور ، لوگوں کا حق مار رہے ہیں ، ہر انسان کی قسمت اپنی اپنی ،، لیکن ہمارے معاشرے کو بگاڑنے میں ہم سب کا ہاتھ ہے ہر شخص اپنے کام میں مصرُوف ہے کوئی کِسی کے بارے میں نہیں سوچتا حالانکہ اللہ اپنے بندوں کو ہر طرح سے رزق فراہم کرتا ھے اگر بندہ اچھا ہو تو اُسے اچھے طریقے سے رزق دیتا ہے اور اگر بُرا ہو تو اُسے اُسی بُرائی سے رزق نصیب کردیتا ھے۔میں اِسی سوچوں میں غرق تھا کہ میرے کانوں میں آواز آئیاللہ کے نام پہ دے دو بابا یہ آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں سوچوں میں گُم ایک دم جیسے ہوش میں آیا ،، اور میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دس روپے نکالے اور اُس لنگڑائے ہوئے بچے کو دے دیدیے ،، اب خُدا بہتر جانے وہ لنگڑا تھا یا گدا گر بن کر اپنی عادت سے مجبُور ،،،،،،،،،اور پھر میں اپنی سوچوں میں گُم اپنے گھر کی جانِب رواں دواں تھا اور،سوچ رہا تھا یہ گداگری بھی بہت مُشکِل اور ذلت سے بھرا کام ھے میں چاہے بہت غریب تھا لیکن میں نے کبھی کسی کہ آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اور اللہ سے یہی دُعا مانگتا تھا اے رب مجھے اپنے سِوا کسی کا محتاج نا کرنا۔ کل کا سوچ کر چہرے پہ اِک دُکھ بھری مُسکراہٹ کے ساتھ میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا دستک دے رہا تھا۔۔۔۔ختم شُدتحریر حسان شاہ
جمعہ، 4 اکتوبر، 2013
گداگر: از: حسان شاہ
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں