ہمارا ٹرسٹ گداگری کو ختم کرنے کے لیے، کام کررہا ہے، ہمارا مقصد' ایسے افراد کو فنی تربیت دینا اور چھوٹے پیمانے پہ رقم فراہم کرنا ہے ' جو بھیک مانگنے پہ مجبور ہیں، تاکہ وہ اس قابل ہوجائیں کہ اپنا کاروبار کرسکیں، اس کے لیے آپ جیسے مخیر حضرات کے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔
سیٹھ نعیم، اویس صاحب کی بات سے اور ان کے "ٹرسٹ" کے کام سے، بہت متاثر ہوا، دس لاکھ کا چیک اس کےہاتھ میں تھما دیا۔
باہر نکلتے وقت' اویس دل ہی دل میں ، ہنس رہا تھا کہ اس نے ایک اور شخص کو مرغا بنا دیا۔درحقیقت "ٹرسٹ" تو نام نہاد
ہی تھا، اصل مقصد تو اپنی تجوری بھرنا تھا۔
گاڑی اشارے پہ رکی تو اس نے دیکھا کہ ایک معذور شخص 'سڑک پہ لنگڑاتا ہوا بھیک کی غرض سے گاڑی کی طرف بڑھ رہا ہے،اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کا سہارا لے کر ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتا، اویس نے گاڑی کا آدھ کھلا شیشہ اوپر کردیا، اور ایک نطر اے
سی پر ڈالی جو کہ آج ٹھیک طریقے سے کام نہیں کررہا تھا۔
بھکاری نے جب دیکھا کہ یہاں دال نہیں گلنے والی تو وہ اگلی گاڑی کی طرف بڑھا۔
اویس نے حقارت بھری نظر اس بھکاری پہ ڈالی ' دل میں سوچنے لگا کہ کتنے احمق ہیں' چند روپوں کے لیے ' در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، میں ذرا سی ذہانت سے کیسے لاکھوں ' ان امیروں سے بٹور لیتا ہوں۔ اگلے لمحے ہی اس کے چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ پھیل گئ خود سے مخاطب ہوا " اگر یہ روپے 'روپے کی بھیک مانگنے والے نہ ہوتے تو آج میرے پاس یہ گاڑی نہیں ہوتی"۔
اس نے گاڑی گئیر میں ڈالی کیونکہ اشارہ کھل چکا تھا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں