"بہار آئی تھی ایک پل کو"
.
ابھی تو کہنے تھے راز دل کے
ابھی تو خاموش تھے فسانے
ابھی تو کھُلنے کو مضطرب تھے
حساب سارے نئے پرانے۔
ابھی تو غنچے بھی نہ کِھلے تھے
ابھی تو بلبل بھی بے خبر تھا
ابھی تو سُوکھے پڑیے تھے پتےّ
ابھی تو سوزِ فراق تر تھا۔
تم آئے اور یوں چلے گئے بس؟
چلو یونہی پھر
تمھارے آنے کی اِس خوشی میں
ہم اپنے دل کے غموں کو لے کر
جلائیں گے اور جلا کے روشن
اداس راتیں کیا کریں گے
چمن میں بیٹھے ہوئے فخر سے
ہر ایک پتےّ ہر اِک شجر سے
گزرتے راہی سے رہگزر سے
تمھاری باتیں کیا کریں گے
بہار آئی تھی ایک پل کو
چمن میں برسوں رہا چراغاں!
.
شاعر: نوید رزاق بٹ
کتاب: نادان لاہوری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں