منگل، 8 اکتوبر، 2013

مست مست : غزل : شاعر عمران علی تبسم


مخملیں کٹیا میں شاہ ، بھنورا کلی میں مست ہے
جس کو دیکھو اپنی اپنی عاشقی میں مست ہے.

ہر ستارہ چاند کی دنیا میں گم ہے ، مست ہے
چاند اپنی ہی بدلتی چاندنی میں مست ہے.

کیا کروں ؟ کیسے کروں ؟ کچھ تو بتا اے ہم وطن !
ہے اندھیرا کو بہ کو ، جگنو خوشی میں مست ہے.

کسطرح پھر درد بانٹوں ، کیا نبھاؤں دوستی
چاروں جانب ہر کوئی تو دل لگی میں مست ہے.

کچھ بڑے بے حس و سنگدل ، کچھ کبوتر بادشاہ
جو بہت مجبور ہے وہ بے بسی میں مست ہے.

ڈھونڈتا پھرتا ہوں مرد _حق ، گیا آخر کہاں ؟
یا تو پھر سویا ہوا ہے یا خودی میں مست ہے.

موت کا ہے خوف لیکن کچھ خدا کا ڈر نہیں
بھول کر اگلے جہاں کو زندگی میں مست ہے.

یہ بھی اکثر اس جہان_رنگ و بو کی ریت ہے
میں ہوں جس میں --- وہ ہے اس میں --- جو کسی میں مست ہے.

ناامیدی کفر ہے عمران کچھ تو عقل کر
علم کی شمع تو اپنی روشنی میں مست ہے.

( عمران علی تبسم )


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں