کیا تمھاری شادی ہوئ؟ بازاری عورت نے سوال پوچھا۔
۔"ہاں میرے دو بچے بھی ہیں۔" اس نے لیٹے ہوئے اس کے بالوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے جواب دیا۔۔
اچھا تم کبھی پہلے نظر نہیں آئے ادھر۔۔۔۔۔۔ عورت نے سوال کیا؟
ہاں ادھر پہلی بار آیا ہوں۔۔۔ آدمی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
عورت اس کا جواب سن کر کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔۔
تم کرتے کیا ہو؟ مطلب کام کیا کرتے ہو"۔۔۔۔"
میں ایک لکھاری ہوں، کہانیاں، افسانے لکھنے والا۔ آج میں ادھر ایک خاص وجہ سے بھی آیا ہوں۔
خاص وجہ؟۔۔۔۔ کیا خاص وجہ ہے؟۔۔ عورت نے تجسس سے سوال کیا۔
میں ایک افسانہ لکھنا چاہتا ہوں۔ ایک عورت کے بارے میں، کہ وہ کیسے بازار آگئ، کیوں مجبور ہوئ کہ وہ اپنی عزت بیچے؟
اس کی بات سن کر عورت کو ہنسی کا دورہ پر گیا۔۔۔۔۔۔۔ گویا ایک بازاری عورت پر افسانہ لکھنے والے ہو۔ ھاھاھا۔
لکھاری کو اس کی ہنسی دیکھ کر شرمندگی کا احساس ہورہا تھا۔۔۔
اچھا تو تم میری کہانی سننا چاہو گے، کہ میں یہاں پر کیسے آئ، پہلی دفعہ کس نے میری عزت کو کیسے لوٹا ۔ اچھا۔ مجھے ایک بات بتاءو، تم جو شادی شدہ مرد ہم بازاری عورتوں کے پاس رات گزارنے کو چلے آتے ہو، بیویوں کو دھوکہ دیتے ہو، اس پر کیوں افسانہ نہیں لکھتے۔۔۔ اس نے ہنستے ہوئے سوال پوچھا۔۔۔
لکھاری ابھی تک شرمندگی سے اس عورت کا چہرہ دیکھ رہا تھا، اس پر سکتہ طاری تھا۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میں اپنی کہانی سناتی ہوں، تاکہ تم کو افسانہ لکھنے کے لیے کچھ مل جائے۔
میں ایک عام لڑکی تھی، گھریلو پڑھی لکھی اور ایک مذہبی گھرانے کی لڑکی، ایسے گھرانے کی جہاں آزاد خیالی نہیں تھی۔ مجھے ایک لڑکے سے محبت ہوگئ، میں اس سے پیار کرنے لگی۔ گھر والوں کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی۔۔۔۔۔
ایک دن میں گھر سے اس لڑکے کے ساتھ بھاگ نکلی۔۔ میں گاءوں سے اس شہر میں آگئ۔
لڑکے سے شادی کی، کرائے کا مکان لے لیا۔۔۔ وہ نکما نکلا، کوئ کام کاج نہیں کرتا تھا، بلکہ سچ کہوں تو خاندانی بھی نہیں نکلا، مگر امید تھی کہ حالات ٹھیک ہوتے۔۔۔۔۔۔۔
اسے کوئ کام نہیں ملا،حقیقت تو ہے کہ وہ کوئ کام کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ ایک دن وہ ایک دوست کو گھر لے آٰیا۔ بتایا کہ کچھ عرصہ ہمارے ساتھ ہی رہے گا،وہ ہمارے ساتھ ہی گھر میں رہنے لگا۔ اب میرے شوہر کو باہر کوئ کام مل گیا۔ وہ اکثر دیر سے گھر آنے لگا، پھر ایسا ہوا کہ شوہر گھر کا راستہ ہی بھول گیا۔ میں گھر میں تھی اور اسکا دوست تھا۔ ۔۔ میں نے کئ دن تک اس کا انتظار کیا۔ مگر وہ واپس نہ آیا۔۔
میں تنہا تھی۔ کیا کرتی، اگر گھر جاتی تو کس منہ سے جاتی، وہ تو مجھے قتل ہی کردیتے۔
اس مہمان نے کہا، کہ ادھر لاہور میں اس محلے میں ایک جاننے والی عورت ہے اس کے پاس چلی جاءو، لیکن وہ ناچ گانا کرتی ہے۔ تم کوئ کام نہ کرنا بس اس کے پاس ٹھہر جانا، جب کوئ راستہ سمجھ آئے وہ جگہ چھوڑ دینا، اب کہاں جاءو گی۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے۔
وہ مہمان مجھے اس عورت کے کوٹھے پر چھوڑ کر چلا گیا، جہاں آج میں ہوں۔
بس شروع شروع میں سب کچھ مل جاتا تھا۔ کھانے کی سہولت بھی تھی اور تنہا سونے کی بھی، مگر کچھ دن کے بعد انھوں نے اپنے احسان کا بدلہ مانگا، تو میں سمجھ گئ کہ میرا سودا کیا گیا تھا۔
میں نے گھنگھرو باندھ لیے۔ اب دل سے ناچتی ہوں، میرے مقدر میں جو ناچ لکھ دیا گیا ہے۔۔۔
لکھاری اس کی ساری باتیں دلچسپی سے سن رہا تھا۔ اسے لکھنے کو ایک شاہکار افسانہ مل گیا تھا۔
کچھ عرصے بعد اس بازاری عورت کی نظر اس افسانے پر پڑی، وہ اسی کا لکھا ہوا افسانہ تھا، کیونکہ وہ اسکا نام گفتگو کے دوران جان چکی تھی۔
افسانے میں کہیں بھی ذکر نہ تھا کہ وہ ایک مذہبی گھرانے کی پڑھی لکھی اور گھریلو لڑکی تھی۔۔۔۔۔
افسانے کو پڑھنے کے بعد ہنسنے لگی۔
اس کو گالی دی۔۔۔ کمینہ حرامی
۔
۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں