جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

بوجھ:افسانہ : از: معراج رسول رانا




دینو نے جُھگی کا پردہ اٹھایا اور اندر داخل ہوا، اُس کی آٹھویں مہینے سے حاملہ بیوی چٹائی پر نیم دراز پڑی سر سے جوویں نکال کر مار رہی تھی۔ سات سالہ بیٹی شنو فرش پر بیٹھی کھیل رہی تھی،


"اری او شنو، اٹھ تیرا بابا آگیا ہے، جا روٹی لے کے آ"، اُس کی بیوی اُٹھ کے بیٹھ گئی،


"نہ، میں نہ کھاؤں روٹی،"، دینو نے کندھے پر لٹکا کپڑے کا تھیلا نما اُتار کر رکھا،


"کیوں؟ تنّے بھوک نہ لاگی؟"


وہ خاموش رہا۔ اُس نے جھُگی کے کونے میں پڑی کپڑوں کی گٹھڑی کھولی اور نسواری رنگ کی وہی گرم چادر نکالی جو کہ وہ ہر جمعرات کے دن نکالتا تھا۔ چادر کو دیکھتے ہی دینو کی بیوی اُس کا ارادہ بھانپ گئی۔


"آج پھر کہیں جارہا ہے تُو؟"


"تنّے کتنی بار کہا ہے کہ ای پوچھنے کی جرُورت نہ ہے"، اُس نے اپنے دن بھر کے بنائے گئے پیسوں میں سے کچھ نوٹ اپنے پاس رکھے اور باقی اپنی بیوی کو دے دئیے، وہ گننے لگی،


"پہلے ہی چِیجیں اتنی مہنگی ہیں، اوپر سے تُنے پیسے رکھ لئے،"


دینو نے کوئی جواب نہ دیا اور اپنے دھیان پھٹی قمیص اُتار کر چادر اوڑھنے لگا،


"پر دینو، تُو کدھر جاوے ہر جمعرات کو؟"


"اپنا بوجھ اُتارنے،"، دینو بے پرواہی سے بولا۔ اُس نے کَن اکھیوں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو کہ سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔


 "تُو نہ سمجھے گی، دماغ پہ جیادہ بوجھ نہ ڈال، مارا انتجار نہ کرئیو، سوجائیو،"


وہ یہ کہتا ہوا جُھگی سے باہر نکل گیا،


"اماں، بابا کدھر جاوے؟"، شنو کا کھیل ایک لمحے کیلئے رُک گیا،


"مَنّے کا پتہ کہاں جاوے؟ مولا جانے کونسا بوجھ ہلکا کرے ہے"


 اُس کی بیوی نے بے پروائی سے ہاتھ جھٹکا اور لیٹ گئی۔


دینو جھُگی سے چادر میں لپٹا ہوا نکلا۔ درمیانہ سا قد، بڑھی ہوئی داڑھی، گہرے سانولے رنگ کا وجود رکھنے والا دینو فُٹ پاتھ کے کنارے چلتا جارہا تھا۔ چادر نے اُس کے پورے وجود کو ڈھانپ رکھا تھا، حتیٰ کہ اُس نے سر  کے اوپر بھی چادر اِس طرح اوڑھی ہوئی تھی کہ اُس کا چہرہ مشکل سے دکھائی دے رہا تھا۔ یہ وہ چادر تھی جو اُسے پیر بابا کے مزار سے خیرات کے طور پر ملی تھی۔ وہ آہستگی سے لیکن مسلسل چل رہا تھا، گویا اُسے محکم یقین تھا کہ ہر دفعہ کی طرح آج بھی وہ اپنے وجود کا بوجھ اُتار پائے گا۔ وہ بوجھ جو روز اُس کی ذات میں شامل ہوجاتا تھا، وہ بوجھ جس میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا تھا۔ وہ چلتا ہوا منظور چوک پہنچا، جہاں کھڑا ہوکر وہ دن کے دو پہروں میں بھیک مانگتا تھا۔ اُس وقت ٹریفک کا کوئی قابلِ ذکر رش نہ تھا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ سب مناظر تیرنے لگے جب وہ لوگوں سے مانگتا تھا اور اُسے زیادہ تر لوگوں سے "معاف کرو" سُننے کو ملتا۔ زیادہ تر لوگ اُسے دھتکارتے، گاڑی کے شیشے بند کرلیتے، گالیاں بکتے، لمبی نصیحتیں کرتے۔ یہ سب اُس کی ذات کی تضحیک کے بوجھ میں ہر گزرتے لمحے کیساتھ اضافہ کرتا۔  


منظور چوک میں تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد وہ آگے بڑھا۔ تھوڑی دُور اُسے ایک فقیر دکھائی دیا- وہ اُس فقیر  کے قریب گیا، فقیر نے اُسے اپنے قریب آتے دیکھا تو اپنے پاس پڑا کاسہ ایک ہاتھ سے اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے شہادت کی انگلی بلند کرکے مانگنے لگا، دینو اُس فقیر کے پاس پہنچا۔ وہ پھر اُسی منظر میں چلا گیا جب وہ لوگوں سے مانگنے کیلئے کاسہ بلند کرتا اور اُسے آگے سے "معاف کرو" سُننے کو ملتا۔ وہ اُس فقیر کے سامنے تھوڑا سا جھُکا اور ہلکی آواز میں کہا "معاف کرو"۔ یہ کہتے ہوئے اُسے ایک سکون سا محسوس ہُوا۔ اُس فقیر کے پاس سے پلٹتے ہوئے اُس کے چادر میں چھپے چہرے پر ایک خفیف سی مُسکراہٹ تھی۔


وہ آگے چل دیا۔ اُس کی منزل حُسین پارک تھی جہاں اُس نے اپنا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔ اُسے راستے میں چار پانچ مزید فقیر ملے۔ اُس نے دانستہ طور پر وہ راستہ چُنا جہاں اُس کا سامنا فقیروں سے ہو۔ ہر فقیر کے سامنے ہلکا سا جھُک کر وہ مدھم سی آواز میں کہتا، "معاف کرو"۔ ہر مرتبہ اُس اپنا آپ بہت ہلکا محسوس ہوتا۔ ہر فقیر جوابا اُس کی طرف دیکھتا کہ یوں جھُک کر مدھم سی آواز میں "معاف کرو" کہنے کا کیا مطلب ہے، لیکن چونکہ اُس کا چہرا چادر میں گُم تھا لہذا کوئی بھی فقیر اُسے پہچان نہ پایا۔ یونہی چلتے ہوئے وہ حُسین پارک پہنچا، پارک کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوا اور سیدھا مشرقی کونے کا رُخ کِیا جہاں اُسے دُور بنچ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ایک باولا سا لڑکا نظر آیا، وہ لڑکا ہری قمیص پہنے ہوئے تھا جس پر پانچ چھ چھوٹے بڑے پیوند لگے ہوئے تھے، گلے میں تین کالی مالائیں لٹکی ہوئی تھیں، جبکہ ایلومینیم کا کٹورا پاس پڑا ہوا تھا۔ دینو کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور دیوانہ وار دھمال ڈالنے لگا۔ وہ دینو کو پہچانتا تھا، کیونکہ ہر جمعرات کو وہ اُسے اسی مقام پر مِلتا تھا۔


"اللہ کے نام پہ بابُو صاحب، بابُو صاحب، بابُو صاحب، اللہ کے نام پہ بابُو صاحب، بابُو صاحب، بابُو صاحب،"


وہ پاگلوں کی طرح یہ جملے دہرا رہا تھا اور ساتھ ساتھ دھمال کے انداز میں ناچ رہا تھا۔ دینو کچھ دیر تک اُس کی اُچھل کُود دیکھتا رہا، پھر دس کا نوٹ جیب سے نکالا اور اُس کو دکھانے لگا۔ اُس کا دھمال میں جوش پیدا ہوگیا۔ دینو نے بے پروائی کیساتھ وہ نوٹ اُس کی طرف ہوا میں پھینک دیا۔ ایسا کرتے ہوئے اُسے عجیب سی راحت محسوس ہوئی۔ سارا دن لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مانگنے کا بوجھ جو اُس کے ذہن میں تھا وہ اُترتا محسوس ہوا۔ لڑکے نے ہوا سے نوٹ دبوچ لیا اور واپس مڑنے لگا،


"اے، ادھر آ" دینو بیٹھا رہا، وہ واپس مُڑا، دینو نے اُسے دس کا ایک اور نوٹ دکھایا، اُس نے پھر دھمال شروع کر دیا۔ دینو نے پھر نوٹ ہوا میں لہرایا اور اُس نے پکڑ لیا۔ یہ کھیل جاری رہا جب تک دینو نے دس دس کے چار نوٹ اُس کو بھیک میں دے کر اپنا بوجھ ہلکا ہوتا محسوس نہ کِیا۔ آخر جب اُس نے چاروں نوٹ اُس پاگل فقیر لڑکے کو دے دئیے تو اُٹھ کھڑا ہوا اور واپس چل دیا۔ اُسے اپنا بوجھ اُترا محسوس ہوا، گویا اب وہ اگلے ہفتے کیلئے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کیلئے ذہنی طور پر تیار تھا۔ وہ لڑکا دیوانہ وار اچھُلتا ہوا نوٹوں کیساتھ کھیلنے لگا۔ اچانک دینو ایک لمحے کیلئے رُکا، وہ واپس مُڑا، اُس لڑکے کے پاس گیا اور تھوڑا سا جُھک کر دھیمی سی آواز میں کہا، "معاف کرو"


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں