جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

دیوداس اور پارو : از: عین الحق پٹیل .......طنزومزاح


دیوا نے جب پہلی بار دیوداس فلم دیکھی تو اس کے سحر میں ایسا گم ہوا کے اسے خود نہیں معلوم وہ اس
پکچر کو اور کتنی دفع دیکھ چکا تھا،،دیوانگی کی حد یہاں تک پہنچی کے اپنے آپ کو دیوداس کہلانے لگا،،اور ہر ایک سے یہی کہتا مجھے دیوا کہا کرو،، ایسے جیسے دیوداس کی "پارو" کہتی تھی۔۔۔اچھا خاصا ماں باپ نے نام عبد ا لشکور رکھا تھا پر اسے اس نام پر شکر نہیں آیا۔دوست یار بھی اب اسے دیوا کہہ کر بلانے لگ گئے۔۔مسئلہ صرف گھر کا تھا۔۔باپ ایک عرصے سے اسے "او نکمے" یا "او کام چور" کہہ کر ہی بلاتا تھا اور دوسرے کسی نام پر اب وہ راضی نہیں ہو سکتا تھا۔۔نہ ہی وہ ابا کو مجبور کر سکتا تھا۔۔لے دے کے چھوٹا سا ٹھکانہ ہی تو تھا اس کے پاس اس باپ کی مرہون منت وہ بھی ہاتھ سے چلا جاتا۔۔ویسے بھی اس کا باپ اسے گھر سے نکالنے کے بہانے کی تلاش میں تھا۔۔رہی ماں تو جب اسے پتا چلا کہ اس کے لعل نے اپنا نام دیوداس رکھ لیا ہے اور لوگ اس دیوا کے نک نیم سے بلاتے ہیں تو آسمان سر پر کھڑا کر لیا۔۔ایک مسلمان اور ہندو نام۔۔نہ جانے کتنے تعویذ گلے میں ڈالے،کتنے وظیفے پڑھے کہ کہیں کوئی بد روح ہاوی ہو تو اتر جائے۔۔مگراس کی معصوم سی ماں کو کیا معلوم تھا کہ یہ انڈین بھوت تھا۔۔جو آسانی سے نہیں اترتا۔۔۔اس کیلئے ملک گیر "کیبل ہٹائو" تحریک کی ضرورت تھی۔۔جو اس کی ماں تو کیا۔۔کسی کے باپ کے بس کی بات نہیں تھی۔۔

مست ملنگ دیوا خود کو چلتے پھرتے سوتے جاگتے بس دیوداس سمجھنے لگا تھا،،حد تو یہ تھی کہ اب باتوں میں بھی فلم کے ڈائلوگ بولنے کی ناکام کوشش کرتا۔۔ بات یہاں تک پہنچی کے ایک دفعہ ماں سے لاڈ کرتے وقت اچانک اس کے منہ سے "پیاری ماں" کی جگہ "پارو ماں " نکل گیا ۔یہ ایک طویل قصہ ہے کے ماں کو پارو کہنے کے جرم میں اس نے کیا کیا سہا تھا۔۔۔مگر اس دن اسے شدت سے احساس ہوا کہ اگر وہ دیوداس ہے تو ایک عدد پاروتی کی بھی ضرورت ہے اور اسے بس ایک یہی غم ستائے جا رہا تھا۔۔کہ فلم کے کا ہیرو تو "پاروتی" کے غم میں شرابی بن گیا اور محوبہ کی چوکھٹ پر دم توڑ کر ہر عاشق کے دل میں امر ہو گیا۔۔مگر وہ بھلے دیوا بن جائے مگر حقیقی دیوداس کیلئے اسے ایک پاروتی کی ضرورت تھی۔۔جس سے وہ عشق کرے اور وہ عشق ناکام ہو اور وہ دوستوں کے پاس شراب پر شراب لنڈھائے اور پارو پارو پکارتا رہے۔۔اس کا عشق امر ہو اور دنیا اسے موجودہ دور کا سچا عاشق گردانے۔۔
ویسے بھی فی زمانہ سچے عاشقوں کی اسمبلنگ رک سی گئی تھی ۔۔شیریں فرہاد۔۔سسی پنہوں یا لیلی مجنوں کے بعد دنیا ابھی تک کوئی مثالی عاشق نہیں دے سکی جو کتابوں میں امر ہو۔۔اور شاعروں کی شاعری میں زندہ رہے۔۔ دیوا کو ایسی ہی کسی پاروتی کی تلاش تھی،،پر اس کی بستی میں ساری قبول صورت کنیائیں،عشق لڑانے سے پہلے ہی پیا کے دیس سدھا دی جاتی ہیں۔۔باقی تو ہر گھر سے موٹی تازی عورتیں گردن نکالے یا تو سبزی والے سے بھائو تائو کر رہی ہوتی ہیں۔۔یا اپنے درجن بھر ادھ ننگے بچوں میں سے کسی کی گنتی کم ہونے پر پورے محلے میں رسی تڑا کر بھاگ جانے والے بچے کو پکار پکار کر بلا رہی ہوتی تھیں۔۔شامت تب آتی جب کوئی اسے بلا کر اپنے بچے کی تلاش کی مہم پر لگا دیتی۔۔۔اور وہ ناں بھی نا کر سکتا تھا۔۔آخر کو ماں کا حکم تھا محلے کی خیر خبر رکھنے کا۔۔اس خیر خبر کے علاوہ اسے اور کچھ کرنا بھی کیا تھا۔۔ لے دے کے اس کے گھر کی برابر والی نیک پروین رہ گئی تھی۔۔جو عمر کے اس حصے میں تھی جہاں تیلی رگڑو تو آگ ضرور جلتی ہے۔۔مگر نیک پروین کا مسئلہ کچھ زیادہ گھبیر تھا۔۔ وہ یوں کہ وہ تھی" بھینگی"۔۔اگر اسے دیکھتی تو راہ چلتا مسافر خوش ہو جاتا کہ شائد مجھے دیکھ رہی ہے۔۔اور دوسرے کو دیکھتی تو دیوا خوش ہوتا کہ نظر کرم ادھی بھی آئی آخر ۔۔
صرف ارتکازچشم کا یہ گھمبیر مسئلہ ہی نیک پروین کو لاحق نہیں تھا بلکہ اس کی روز افزوں صحت میں اضافہ بھی بتا رہا تھا کہ بہت جلد۔۔۔زمین پر ہل چلانے کیلئے بھی کہیں بلائی جا سکتی ہے۔۔۔جب وہ اس کے گھر میں سالن دینی آتی تو دیوا کو لگتا کوئی سانڈ رسی تڑا کر سیدھا اس کی طرف آ رہا ہے
ان سب خامیوں کے باوجود دیوا کے نزدیک عمر اور صورت دونوں قابل قبول تھی۔۔۔ ویسے بھی اس نے کونسا اس سے حقیقی شادی کرنی تھی۔۔۔صرف ایک عشق لڑانا تھا جسے وہ جانتا تھا کے ناکام ہونا ہے۔۔کیوں کہ نیک پروین کا لالچی باپ کبھی اس نکمے روڈ پتی کنگلے دیوا سے اس کی شادی نہیں کرتا۔۔۔اپنی دو بچیوں کی شادی بھی وہ پیسے والوں میں کر چکا تھا۔۔اس بستی میں پیسے والا ہونے کا مطلب فقط اتنا تھا کے بندہ کام کاج کرتا ہے اور ٹھیلا یا دکان چلاتا ہے۔۔ اور دیوا ان دونوں خصوصیت سے محروم تھا۔۔اس لیئے اسے صرف نیک پروین کو بگاڑنا تھا مطلب اسے پروین سے پارو بنانا تھا۔۔اپنے عشق میں گرفتار کر کے،،
دیوا رات دن اسی نکتے پر سوچ رہا تھا۔۔مستقبل کی پارو سے عشق آسان نہیں تھا۔۔لوگ اس کے نگاہوں کی
خرابی یا اسے دماغی خلل میں گرفتار بھی سمجھ سکتے تھے۔۔جس نیک پروین سے اس کے چھوٹے بھائی بھئ ڈر کے بھاگ جاتے تھے اس سے عشق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عشق واقعی اندھا ہے۔۔۔اور اسی نکتے نے اس کی ہمت بڑھائی
ان دونوں کے گھر ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے دونوں گھروں میں تعلق تو تھا۔۔باقی اس کی ماں بھی سالن کا تبادلہ اکثر کرتی رہتی ،،،ایک سالن کی ترسیل پر ایک یا دو گھنٹے کی دعا سلام لازمی تھی۔۔تفصیلی ملاقات کا وقت دونوں کے پاس نہیں ہوتا تھا۔۔ویسے بھی نیک پروین کی ماں تو کچھ عرصے پہلے اللہ کو پیاری ہو گئی،،باپ کام پر نکل جاتا ایک بھائی بھی ساتھ جاتا باقی دو چھوٹے بھائی۔۔پورے محلے کی سنتے بس اس بچاری کی نہیں سنتے۔۔ان کے پاس اس کی نگاہوں کی بے راہ روی کا مضبوط جواز ہوتا تھا کہ ہمیں کہا ہی کب تھا
دیوا کیلئے اب اظہار محبت کا مرحلہ تھا۔۔اپنے عشق کے دعوے کو نیک پروین تک پہنچانا تھا۔۔ گو کہ یہ کوئی ایسا بھی مشکل کام نہیں تھا مگر اس کے بعد از نتائج حسب منشا نکلے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔۔سارا دارومدار اس کی جاندار ایکٹنگ پر منحصر تھا۔۔۔نیک پروین جانتی تھی کوئی انسان با قاعدہ ہوش و ہواش
میں تو کبھی بھی اس سے محبت کا دعوا تو نہیں کر سکتا۔۔




دوسری اور آخری قسط

دیواکو نیک پروین سے اظہار محبت کا بہترین وقت وہ لگا جب وہ دروازے پر کھڑی سبزی والے کا انتظار کر رہی ہوتی تھی۔۔اس کے کام چور بھائی تو کبھی اس کی سنتے تھے ہی نہیں۔۔اس لیئے اس پر حملہ کرنے کا وہ موقع اچھا تھا ۔۔کئی دن تک وہ آئینے کو پاروتی بنا کر اسے بار ہا اپنی محبت کا یقین دلاتا رہا تھا ۔۔ایک دفعہ تو وارفتگی اتنی بڑھی کے آئینے سے ہی چمٹ گیا۔۔۔ماں نے بھی کئی بار سوتے میں اس کے منہ سے پارو کی محبت کی تکرار سنی تھی۔۔اور ہر بار لاحول پڑھ کر وہ اس پر پھونک مار دیتی،،ممتا کی ماری پاروتی کو کسی بھوتنی کا نام دیتی جو اسکے معصوم سے شکور کو چھوڑ ہی نہیں رہی تھی۔۔آخر کار دیوا نے پاروتی کا آمنا سامنا کرنے کی ٹھان ہی لی

اس دن دیوا گھر کے باہر منڈیر پر بیٹھا تھا۔۔موقع اچھا تھا،نیک پرین کے باپ کو وہ کام پر جاتے دیکھ چکا تھا ۔۔خود دیوا کی ماں بھی دور کے رشتے دار کے پاس خاندان بھر کی تازہ اپڈیٹس لینے گئی تھی اور اس کی ماں کے جلد لوٹ آنے کا سوال ممکن نہیں تھا۔۔ دوپہر کی آمد آمد تھی۔۔لوگوں کی آمد بھی کم تھی۔۔نیک پروین کے گھر کا دروازہ کھلا اور وہ دروازے سے لگ کر کھڑی ہو گئی۔۔دیوا اسی وقت کے انتظار میں تھا۔۔وہ کھڑا ہوا، کپڑے جھاڑے اور تیز نظروں سے اپنے شکاری کو دیکھا۔۔۔نیک پروین پوری سڑک پر نظریں دوڑا رہی تھی۔۔ دیوا خراماں خراماں چلتا ہوا اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔
اپنے سامنے دیوا کو دیکھ کر نیک پروین سامنے والے کھمبے کو دیکھنے لگی۔۔۔نظر کے اس زاویے کی دیوا کو عادت تھی۔۔وہ جانتا تھا کھمبا دیکھنے کا مطلب ہے وہ دیوا کو دیکھ رہی ہے
ارے عبد الشکور تو۔۔وہ بولی
افوہ ہو۔۔تجھے کتنی دفع کہا ہے مجھے دیوا کہا کر۔۔۔وہ تلملا گیا
لو اچھا بھلا نام تو ہے عبد ا لشکور۔۔پتہ نہیں تیری مت کیوں ماری گئی ہے جوخود کو دیوا کہلواتا ہے۔۔ اسکی بات وہ ان سنی کر گیا۔
سن پروین تجھ سے ایک کام ہے مجھے۔۔دیوا بولا اسکی بات پر نیک پروین تھوڑی چوکنا ہو گئی
دیکھ شکور پیسے مانگنے آیا ہے تو وہ نہیں میرے پاس۔۔۔۔پچھلے ابھی تک واپس نہیں کیئے تونے۔۔ وہ سخت لہجے میں بولی
ارے پیسے نہیں مانگ رہا تجھ سے اپنے دل کی بات کہنی ہے
یہ کہتے ہوئے دیوا کو حقیقی شرم آ گئی۔۔اور اس کی آنکھیں جھک گئیں۔۔اچانک دل میں کسی نے عار دلائی ابے گدھے مرد ہو کراس طرح آنکھیں جھکا کر اظہار کرے گا کیا؟۔۔تب اچانک اس نے پروین کی چہرے کو تکنا شروع کر دیا وہ اسے ہونکوں کی طرح دیکھ رہی تھی۔۔
دل کی بات مجھ سے۔۔۔اماں نے ناشتہ نہیں دیا کیا۔۔میں بنا دوں۔۔۔؟؟ اس کی بات پار اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ دل میں اس نے سوچا ۔کمبخت سانڈ کہیں کی،، کھانے پینے کے علاوہ اس کی موٹی عقل میں کچھ آتا بھی ہے کہ نہیں
نہیں پارو۔۔۔وہ گردن ادھر ادھر جھٹک کر بولا جیسے اسے سمجھ نا آرہی ہو کیا کہے
پارو۔۔۔؟؟ نیک پروین کی آنکھیں چڑھ گئیں
خبردار مجھے پارو کہا تو۔۔۔میں پروین ہوں پروین سمجھا۔۔ ۔وہ بھنا گئ
ہاں ہاں جانتا ہوں پروین،منہ سے نکل گیا۔،۔معاف کر دے بابا۔۔
دیوا بے بسی سے بولا تو وہ نرم پڑ گئی۔۔۔
اچھا بتا کیا کام ہے ،،جلدی بول مجھے کھانا بھی پکانا ہے ایک تو یہ سبزی والا ابھی تک نہیں آیا۔۔ اس نے گردن باہر نکال کر سڑک کے دونوں آخری کناروں کو دیکھا
سن پروین بات یہ ہے کہ میں کئی دن سے تیرے بارے میں کچھ محسوس کر رہا ہوں۔۔
وہ پھر سامنے والے کھمبے کو گھورنے لگی۔۔جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دیوا کو گھور رہی ہے
کیا محسوس کر رہا ہے شکورے،،،
اس کا پارہ چڑھتا تو وہ اسی طرح شکور سے شکورے پر اتر آتی
پروین۔۔اس نے آواز دھیمی کر دی۔۔اس کی آواز میں دنیا بھر کی چاشنی سمو آئی تھی
بول دیوا۔۔۔نیک پروین بھی کچھ کچھ مخمور سی ہو کر دیوا کہہ بیٹھی
پارو میں تجھے چاہنے لگا ہوں۔۔تجھ سے محبت ہو گئی ہے۔۔ یہ کہہ کر دیوا کی آنکھیں پھر جھک گئیں
کچھ دیر کی خاموشی کی بعد دیوا نے آنکھیں اُٹھا کر نیک پروین کو دیکھا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اس کی آنکھیں بغور اسے ہی دیکھ رہی تھیں ،،جیسے پرانے زمانے میں اینٹینا صحیح سیٹ ہونے پر ٹی وی سگنل صاف آنے کی خوشی ہوتی تھی اسی طرح دیوا کو بھی اس کی آنکھوں کے سگنل صحیح ہونے کی بہت خوشی ہوئئ اسے یہ محبت کے اظہار کی کرامت لگی
پارو۔۔۔دیکھ پارو تری آنکھیں بھی صحیح ہو گئی۔۔تو مجھے ڈایریکٹ دیکھ رہی ہے
دیوا کی آواز میں مسرت ہی مسرت تھی
تجھے نہیں پاگل،۔۔۔اس ٹین ڈبے والے کو دیکھ رہی ہوں کیسے گھور رہا ہے کمینہ۔ ۔وہ بولی تو دیوا نے گردن گھما کر دیکھا کاٹھ کباڑ لینے والا نیک پروین کو گھورے جا رہا تھا،۔،
اب بات دیوا کی سمجھ آ گئی۔۔اس کی آنکھوں کے غلط سگنل نے اس بچارے کو خوش فہمی میں مبتلا کر دیا تھا ۔۔
کیا دیکھ رہا ہے بے،،،چل نکل یہاں سے۔۔ اس نے اسے جھاڑا تو وہ پھر زور زور سے آواز لگانے لگا
پرانا سامان والا۔۔۔پرانا سامان والا۔۔
پرانے سامان پراس کمبخت کے زیادہ زور دینے کو دیوا سمجھ گیا تھا۔۔کہ وہ کس کو پرانا سامان کہہ رہا ہے اور کس کا مذاق اڑا رہا ہے مگر ابھی اس کی مار لگانے کا وقت نہیں تھا اس کے پاس
سن پارو۔۔رات کو مجھ سے چھت پر مل۔۔وہاں تجھ سے بات ہوگی۔۔
اسکی بات پر نیک پروین شرما سی گئی
آئی گی ناں۔۔۔دیوا نے آہستگی سے کہا تو وہ دھیمے سے بولی
ہاں

۔۔۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رات کی خاموشی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی ان دونوں کی چھت برابر تھی سو دیوا ایک ہی جست میں پارو کی چھت پر پینچ گیا جہاں پارو اس کا انتظار کر رہی تھی،،
دیوار سے ٹیک لگا کر دونوں کافی دیر خاموش رہے ۔۔
دیوا۔۔۔تو سچی مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔ نیک پروین آسمان کو گھورتے ہوئے بولی
ہاں پارو۔۔تو نہیں جانتی تو کتنی پیاری ہے۔۔۔میرے لیئے کتنی خوبصورت ہے تو،،
دیوا گھسے پٹے مکالمے بولنے لگا
سن دیوا۔۔
بول پارو۔۔
اگر تو مجھے چاہتا ہے تو میں تجھ سے کچھ مانگوں تو دے گا
بول پارو تیرے لیئے تو جان حاضر ہے
تو پھر مجھے کش دے گا۔۔
کش،،?دیوا سمجھ نا آنے والے لہجے میں بولا
..وہی جو فلم میں ہیرو دیتا ہے ہیروئن کو
اوہ اچھا۔۔تیرا مطلب ہے کس۔۔۔ توبہ توبہ شادی سے پہلے
پارو کی فرمائش پر دیوا کو ابکائی آتے آتے رہ گئی
ابھی تو بڑی بڑی باتیں کر رہا تھا اور اب ۔۔
پارو ناراض ہو گئی
اچھا میری جان تو آنکھیں بند کر۔۔دیوا مسکرا کر بولا۔۔
پارو کی خوشی دیدنی تھی،، اس نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں دیوا سوچ رہا تھا دیوداس بننے کیلئے تو ہر قربانی جائز ہے۔۔۔منہ صاف کیا اور اس کے گالوں کو چوم لیا
اچانک اسے ہونٹون پر پائوڈر کا تیز ذائقہ محسوس ہوا اس نے ایک دم منہ دوسری طرف کیا اور تھو تھو کرنے لگا
اففف۔۔کونسا پوڈر لگاتی ہے تو
تبت ٹیلکم۔۔۔اچھی خوشبو ہے ناں
پارو ہنستے ہوئے بولی
خوشبو کی بچی،،سارا منہ پر ڈال کر آئی تھی کیا،،،
وہ اب تک ہاتھ سے زبان صاف کر رہا تھا اور پارو منہ پر ڈوپٹہ رکھے کھی کھی کر رہی تھی
اچھا لے میری اوڑھنی سے منہ صاف کر،،،پارو نےہنسی ضبط کرتے ہوئے سر سے اوڑھنی اتار کر اسے دی تو وہ ہونٹ اور زبان صاف کرنے لگا ایک دم اسے لگا وہ الٹی کر دے گا
اففف۔۔۔۔تیری اوڑھنی تو سرسوں کے تیل میں بھیگی ہوئی ہے،،مارے گی کیا۔۔
دیوا کی حالت بری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔عشق کی پہلی سیڑھی پر ہی اس کی یہ حالت ہو گی اس نے یہ سوچا بھی نہ تھا۔۔۔
جانتا ہے دیوا میں کیا سوچتی تھی۔۔ پارو اس کی حالت کو ایسے بھول کر بولی جیسے کچھ ہوا ہی نیہں۔۔۔دل ہی دل میں وہ اس پر بھنا رہا تھا۔۔پر کچھ نہیں کر سکتا تھا مری سے آواز میں بولا
کیا سوچتی تھی۔۔۔۔ یہی کہ میں خوبصورت ہوں،،بس دنیا والوں کے پاس نظر نہیں۔۔۔جبھی تو اللہ میاں نے میری آنکھیں ایسی کر دیں تاکہ مجھے نظر نہ لگے۔۔
پارو نہ جانے عشق کے کونسے فلور پر تھی جہاں وہ یہ سب کہہ رہی تھی ہاں پارو۔۔تیری آنکھیں صحیح ہوتی تو تجھے صرف تیری ہی نظر لگتی۔۔۔
اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا تو پارو اسے گھورتی رہی۔

۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ
دن اور رات گزر رہے تھے۔۔۔دونوں کی محبت زور پکڑ چکی تھی۔۔۔شادی کی دونوں کو ہی فکر نہیں تھی۔۔۔پارو کو اس کے حسن کی تعریف کرنے والا مل گیا تھا اور دیوا کو ایک عدد پارو۔۔جس کی جفا کا وہ شدت سے انتظار کر رہا تھا ۔۔تاکہ وہ دنیا والوں کو حقیقی دیوداس بن کر دکھائے۔۔۔چھت کی ملاقاطوں کے ساتھ ساتھ دیوا اس کے چھپ چھپا کر گھومنے بھی لے جاتا تھا۔۔۔نیک پروین گھومتی کم اور کھاتی زیادہ تھی۔۔۔جہاں کہیں ٹھیلا نظر آتا اس پر لپک پڑتی اور بچارا دیوا کو ایسا لگتا وہ کسی چھوٹی بچی کو گھمانے لایا ہے سارا دن تھک ہار کر رات کو چھت پر وہ کئی دیر تک باتیں کرتے۔۔اکثر دیوا سو جاتا تو وہ اس کے منہ پر پانی پھینک کر نیچے بھاگ جاتی غصہ میں
آج وہ چھت پر آئی تو کچھ بجھی بچھی سی تھی۔۔دیوا نے بھی اس کی چپ کو محسوس کیا۔۔
کیا ہوا پارو آج بڑی چپ ہے۔۔ دیوا نے پیار بھرے لہجے میں کہا
دیوا ایک بات تو بتا
پوچھ
اگر میری شادی کہیں اور ہو گئی تو توُ کیا کرے گا؟
میں تیرے غم میں شرابی بن جائوں گا پارو،،،
پارو کی بات پر وہ اپنی خوشی ضبط نہ کر سکا،،،
تو اس میں اتنا خوش کیوں ہو رہا ہے۔۔
پارو حیران ہو گئی
دیوا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ایک دم اداس چہرہ بنا لیا۔۔
خوش نہیں پاگل تجھے کھونے کا دکھ ایسے ہی دنیا والوں کو دکھاوں گا۔۔۔زمانہ یہی سمجھے کہ بہت خوش ہوں پر دل رو رہا ہو،، دیوا نے بات گھما دی
پر یہ بات کیسے آگئی آج تیرے دماغ میں دیوا نے پوچھا
وہ آج ابا بات کر رہا تھا اماں سے میرے رشتے کی۔۔۔میں دروازے سے لگی سن رہی تھی
کیا۔؟؟۔کون ہے وہ۔۔۔دیوا خون آلود لہجے میں بولا
پتا نہیں ابا نام لیتا اس سے پہلے اماں نے میری چٹیا پکڑ کر ڈانٹ دیا کے دروازے سے لگی کیوں کھڑی ہے پارو نے تاسف بھرے لہجے میں کہا
دیوا مجھے لگتا ہے اب تیرا میرا رشتہ ختم ہے شائد۔۔۔کاش توکچھ کام دھندا کرتا تو میں تیری ہوتی وہ بول رہی تھی مگر دیوا کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔۔عشق کا وہ مقام اتنی جد و جہد کے بعد آخر کار ملنے والا تھا جس کے بعد وہ حقیقی دیوا بن جائے گا مگر پارو کے سامنے اس نے جہان بھر کا درد اپنی آنکھوں میں سمیٹ لیا۔۔پارو نے کچھ کہنا چاہا تو اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی
ہارے ہوئے شکاری کی طرح اٹھا اور ایک نظر پارو پر ڈالتے ہوئے اپنی چھت پر کود گیا۔۔
پارو پکارتی رہی پر وہ نہ رکا،،،،

دیوا نے کالو کے اڈے سے ٹھرا لیا اور دوستوں کی سنگت میں جا کر بیٹھ گیا۔۔
آ دیوا آ۔۔۔بڑے دن بعد۔۔
ہاں۔۔وہ چپ چاپ ان کے پاس بیٹھ گیا
ابے دیوا اتنا اداس کیوں ہے۔۔اس کے لٹکےہوئے چہرے کو دیکھ کر ایک بولا
دیوا نے ایک آہ کھینچی اور بولا کچھ نا پوچھو دوستوں۔۔۔زندگی میں پہلا عشق کیا سچا اس میں ناکام ہو گیا۔۔ اب تو دل اٹھ سا گیا ہے دنیا سے۔۔۔کس لیئے اب جینا۔۔۔یہ ہوش مجھے مار ڈالے گا دوستوں۔۔۔ وہ بولے جا رہا تھا
ابے کیا بول رہا ہے۔۔۔کونسا عشق کیسا عشق۔۔۔کہیں وہی تیرے برابر والی بھینگی کا تو چکر نہیں ایک بولا
خبردار جو اسے کچھ کہا۔۔۔تمہارے پاس محبت کی نظر نہیں۔۔اگر ہو تو ہر ایک حسین نظر آئے۔۔۔دیوا اسے جھاڑتے ہوئے بولا بس یاروں یہ عشق انسان کو مار دیتا ہے۔۔تم میرا غم نہیںسمجھو گے۔۔اگر کوئی سمجھے گا توبس یہ بوتل۔۔
دیوا نے جیب سے بوتل نکالی اور ڈھکن کھولنے لگا۔۔۔
ابے دیوا آج تو تیرے غم کی خوشی میں ہو جائے جام۔۔ایک بوتل کو لالچی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ہر گز نہیں۔۔آج سارا غم میرا ہے۔۔اور یہ ساری بوتل میری۔۔۔آج ہوش نہیں ہے بے ہوشی۔۔میرے یاروں مت روکو مجھے آج پینے دو۔۔
دیوا پر فلم کا ہیرو سر چڑھ کر بول رہا تھا
ابے تو کون روک رہا ہے۔۔۔شوق سے پی پر اکیلے اکیلے۔۔واہ استاد واہ۔۔ایک نے بھپتی کسی
فکر نہ کرو اب یہ دیوا روز تمہارے پا س آیا کرے گا مدہوش ہونے تاکہ پارو کو بھلا سکے۔۔۔تمہں بھی اپنے غم میں شامل رکھوں گا پر آج۔۔۔۔ یہ کہہ کر دیوا نے ہیرو کے اسٹایل میں بوتل منہ سے لگا دی۔۔۔
غٹاغت ساری شراب اتار چکا تو لال آنکھوں سے سب کو دیکھنے لگا اس کے دوست اب اس سے کچھ کچھ خوف محسوس کر رہے تھے اس لیئے اب سب چپ تھے۔۔۔
اب سرور کچھ کچھ اس کے دماغ پر چڑھ رہا تھا۔۔وہ اٹھنے لگا
اچھا دوستوں اب چلتا ہوں
کہاں جائے گا بھائی اس حال میں
گھر جا کر سو جائوں گا اور کہاں دیوا بچوں کی طرح ہنسا
ابے گھر کی جگہ راستے میں پڑنے والی ندی میں جا گرے گا سیدھا۔۔۔آج رک یہہں صبح ہوتے نکل جائیو۔۔ہم ہیں ادھر،،شاباش ا
یک نے سمجھایا تو جاتے جاتے ہوش میں اسے یہ بات عقل کی لگی اور وہ بے سدھ ہو کر لمبا لیٹ گیا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صبح آنکھ کھولی تو اس کا سر چکرا رہا تھا۔۔۔سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں میں اتر رہیں تھیں۔۔آس پاس نظر دوڑائی توسارے رات کے سنگی ساتھی اپنی اپنی راہ نکل گئے تھے
اکیلے چھوڑ گئے سالے کمینے اس حال میں۔۔ اس نے کہا اور کھڑا ہو گیا۔۔
پاس کے ہوٹل میں جا کر منہ پر پانی کے چھپاکے مارے اور چائے کا آرڈر دیا۔۔
وہ سوچ رہا تھا گھر پر اسکی ماں ضرور کلاس لے گی رات باہر گزارنے کی۔۔اور اگر باپ بھی ہوا تو شامت ہے۔۔پر اب ڈرنا کیا۔۔اب تو وہ دیوا ہے دیوا
چائے پینے کے بعد وہ گھر ہو لیا۔۔۔دروازہ ماں نے کھولا۔۔۔۔خلاف معمول چیخ کر پوچھنے کے بجائے وہ بڑی آہستگی سے بولی۔۔
کہاں تھا شکور رات بھر میں کتنا پریشان تھی
بس اماں دوستوں کے ساتھ رات گزر گئی۔۔ وہ اندر داخل ہوا تو دھک سےرہ گیا کمرے میں اس کا باپ اور نیک پروین عرف پارو کا ابا ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔
دونوں کی آنکھیں اسے گھور رہیں تھیں۔۔مگر نہ غصہ تھا نہ اپنائت اسے سمجھ نہیں آرہی تھی نیک پروین کا باپ یہاں کیا لینے آیا ہے
لو جی۔۔۔ہمارا شکور بھی آگیا۔۔ خلاف معمول آج اسے دیکھ کر باپ مسکرا رہا تھا
بیٹا تیرا اور نیک پروین کا رشتہ پکا کر دیا ہے ہم نے۔۔۔چھپ چھپ کر دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو اور گھر کے بڑوں کو بتاتے بھی نہیں ہاں۔۔ دیوا کا باپ بولا تو نیک پروین کا ابا اور دیوا کی ماں بھی مسکرا دیں
پر دیوا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔۔۔اسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس نے جو سنا وہ سچ ہے
دیکھ شکور تو فکر نہ کر۔۔۔میں تجھے دکان کھول کر دوں گا۔۔۔تجھے تیرے پائوں پر کھڑا کر دوں گا۔۔آخر کو داماد ہونے والا ہے میرا۔۔اتنا بھی نہیں کروں گا۔۔۔ نیک پروین کا باپ بولا۔۔۔

دیوا کو لگ رہا تھا وہ بے ہوش ہو جائے گا۔۔۔اس کے جعلی عشق کا نتیجہ یہ نکلے گا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔انکار کر نہیں سکتا تھا کے بات اب آگے جا چکی تھی اور اس کا باپ رشتہ پکا کر چکا تھا۔۔اس کی ناں اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی۔۔۔ بے ہوش ہونے سے پہلے دیوا کو جو آخری خیال آیا وہ یہ تھا کہ۔۔۔اب وہ حقیقی دیوداس بن چکا ہے۔۔۔پکچر کا دیوا پارو کو کھونے کے غم میں اور شکور نیک پروین کو زندگی
بھر ڈھونے کے غم میں

از عین الحق پٹیل



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں