میرے کانوں میں ہمیشہ کی طرح باجی پیسے دے دیں پیسے دے دیں ، باجی اللہ کے نام پر پیسے دے دیں، باجی پیسے دے دیںایسی آواز آرہی تھی کہ جی چاہ رہا تھا اِسے میں رکھ کر ایک تپھّڑ دے دوں۔کیونکہ آج اتوار تھا میری چُھٹی تھی اور میں دیر تک خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنا چاہتا تھا۔ میں نے کمبل سے سر باہر نکالا تو سامنے گھڑی پر نظر پڑتے ہی میں نے اُٹھنے کو ترجیح دی ، دس بجنے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے، میں جلدی سے اُٹھا اوراُس بھکاری کو سبق سکھانے کے لئے صحن میں بھاگتے ہوئے پُہنچا اور چِلاّتے ھُوئے کہنے لگا رُک تجھے میں گُھونسے دیتا ہوں حرام خور آج میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا تُو ہمیشہ اتوار کو ہی بھیک مانگنے آجاتا ھے ، تُجھے کوئی اور دن نہیں مِلا ، بھکاری کہیں کے، اور وہ بھاگتا ہُوا صحن سے باہر نکل گیا۔ میں بھی باہر گلی تک گیا اور اُسے ڈرانے کے لئے ہاتھ میں پتھّر اُٹھا لیا وہ اتنی تیزی سے بھاگا کہ جیسے غائب ہو گیا ھو ،اُسے غائب ہوتا دیکھ کر میں واپس گھر کی طرف مُڑا ۔ گھر پہنچتے ہی امّی نے کلاس لینی شروع کردی ،کیا ضرورت تھی اُس معصُوم کو ڈرانے کی۔ اُنہیں ہنسی بھی آرہی تھی ۔ امی کو ہنستا دیکھ کر میں کہنے لگا۔ ہاں ہاں وہ بھکاری معصوم ھے اور میں ظالم، ایک ہی تو دِن ملتا ھے سُکون کا وہ بھی یہ بھکاری تباہ کردیتا ھےامی نے کہا کیوں اتنا ظُلم کرتے ہو خُدا کا خوف کرو کُچھ، امّی کو اُس بھکاری بچّے کی سفارِش کرتے دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اوپر سے امی کی ہنسی میرا منہ چِڑا رہی تھی۔ چلیں ٹھیک ھے آپ لے لیں اس بھکاری بچّے کی سائیڈ میں نے بھی اُسے ایسے بھگایا ھے کہ دُور دُور تک دوربین میں بھی دِکھائی نہیں دِیا، اور نا ہی اب وہ کبھی دِکھائی دے گاامی کی ہنسی تھی کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی لے تھی۔خیر میں نے ناشتہ کیا اور تیار ہو کر گھر سے باہر آگیاباہر آتے ہی میں اپنے دوست کی دُکان میں بیٹھ کر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ اتنے میں آواز آئی ،، دےدےدےدےدےدے۔۔۔۔۔ دےبھائی اللہ کے نام پہ دے،مجھے اُس بھکاری بچّے کے اِس طرح بھیک مانگنے پر بے حد غُصہ آیا۔ ایک تو مجھے ویسے ہی چڑ تھی اِن بھکاریوں گداگروں سے،،اور اوپر سے بُرخوردار باقاعدہ گا کے مانگ رہا تھا اور وہ بھی مُجھ سے مانگ رہا تھا۔پہلے تو میں اُسے چار پانچ منٹ گُھورتا رہاوہ بھی مُجھے گُھورتا رہا۔میں غُصے سے اُٹھا اور اُسے پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اُس بھکاری بچے نے میرے ہاتھ پہ کٹورا مارتے ہُوئے بھاگتا چلا گیا، لیکن افسوس کہ وہ میرے ہاتھ نا آیا اور اُس کے ہاتھ کا کٹورا وہی گِر گیا میں اُس کے پیچھے بھاگنا چاہتا تھا۔ لیکن اُس کٹورے کو دیکھ کر میں رُک گیا، میں نے کٹورا اُٹھایا اور اپنے دوست سے کہا یہ سنبھال کے یہیں پہ رکھ دو ۔ اور میں آستینیں اوپر چڑھاتے ہوئے کہنے لگا اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ کہاں تک بھاگتا ہے۔مُجھے یقین تھا کہ اب یہ کہیں نہیں جاسکتا۔یہ ضُرور آئیگا ۔ میں وہی دُکان میں بیٹھا ایک دم فریش ہو کر روٹین کے مُطابِق اخبار پڑھتا رہا۔اخبار پڑھ پڑھ کے بھی دل کھٹّا ہوگیا۔میں اپنے دوست سے باتیں کرنے لگا۔جب مُجھے پیاس لگی تو میں اُٹھ کر دُکان کے اندر جاکر فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نِکالی ابھی میں نے گِلاس میں پانی ڈالا ہی تھا کہ بھکاری بچّہ آیا وہ میرے دوست کو دیکھ رہا تھا میں نے جیسے ہی دیکھا تو میں نے پہچاننے میں زرا دیر نہیں کی یہ وہی بچّہ تھا،جو صُبح میرے گھر آیا تھا ، میں بِلکُل فریج کے ساتھ چمِٹتا ھُوا اور دیوار کے ساتھ چِپکتا ھُوا آہستہ سے آگے بڑھا تاکہ میں اُسے پکڑ سکُوں ، اور وہ مجھے دیکھ نہ پائےجیسے ہی میں اپنے دوست کے قریب پُہنچا اُس بھکاری نے مجھے دیکھ لِیا۔اُسکا دیکھنا تھا اور گولی کی طرح بھاگنا تھا وہ بھاگا تو میں دُکان سے باہر نکل کر دیکھنے لگا ، لیکن اُس کا دھواں بھی نظر نہیں آیا ، وہ کِسی جہاز سے بھی تیز بھاگا تھا۔تقریباً آدھہ گھنٹہ گُزرنے کے بعد ایک بھکارن بچی دُکان میں نمُودار ھوئی اور منہ سے عجیب قِسم کی آوازیں نِکالنے لگی میرے دوست نے اُسے پیسے دینا چاہے ، لیکن میں نے اُسے منع کردیا۔ اور اُس بچّی سے کہنے لگا ادھر آؤ ۔ وہ نہیں آئی۔ میں نے اُسے بغور دیکھا تو مجھے وہ بلکل اس بھکاری بچے کی طرح دکھائی دی۔ جو۔کٹورا چھوڑ کے بھاگ چُکا تھا۔ مجھے شک ہُوا کہ یہ اُس کی بہن ھے۔میں نے جیب سے پرس نکالا اور اُسے پرس کھول کر دکھایا جس میں دس ، ، بیس ، پچاس اور سو ، سو روپے کے نوٹ تھے۔اُس بچّی نے روپے دیکھے تو اُس کی آنکھیں باہر نکل آئیں ۔پھر میں نے اُسے اپنے پاس بُلانے کا اشارہ کیا۔وہ ڈرتے ڈرتے میرے قریب آئی جیسے ہی وہ قریب آئی میں نے اُسکا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ ڈری اور منہ سے عجیب قِسم کی آوازیں نکال کر اپنا ہاتھ چُھڑانے لگی۔لیکن میں اُسے دیکھ کر مُسکرایا۔ اُس کی آنکھیں ویسے ہی باہر نکل رہی تھیں ، میرے جسم میں ایک جھرجھری سے دوڑی۔ عجیب بچّی تھی۔خیر میں نے اُس سے پُوچھا کہ تم میرے سوالوں کا جواب دو میں تمہیں بہت پیسے دوں گا۔ وہ اُسی طرح مجھے دیکھے جارہی تھی ۔ میرا دل چاہا کہ میں اس کی آنکھیں نکال کر باہر روڈ پہ پھینک دوں۔میں نے اُس سے بہت سوالات کیے لیکن حرام ھو جو اُس نے منہ سے ایک لفظ بھی نکالا ھو۔ مجھے بہت غصہ آیا ۔۔۔ پھر میں نے اُسے جانے کا کہا لیکن جیسے میں کسی بُت کے ساتھ باتیں کر رہا ہوں۔وہ نا ہی کچھ کہہ رہی تھی اور نا ہی کچھ سُن رہی تھی۔میں نے لاچاری کے عالم میں اپنے دوست کو دیکھا جو کہ ہنس ہنس کے پاگل ہوئے جارہا تھا۔ یہ اچھا تماشہ دیکھ رہے ھو میرا یار۔ اِسے بھگاؤ یہاں سے میری مدد کرنے کے بجائے تُو دانت دکھا رہا ھے مُجھے۔پھر میں نے اُس بچی سے زیادہ آنکھیں نکالنے کی کوشش کی اور اپنے دوست کو نہایت غصے کی ایکٹنگ کرتے ھوئے کہا وہ ڈنڈا دے مجھے ۔ اُس نے ڈنڈا جیسے ہی اُٹھا کر میرے آگے بڑھایا تو بھکارن بچّی ایسے بھاگی جیسے ہرن شیر سے جان بچانے کیلئے بھاگی ھو۔ پھر ہم دونوں دوست کافی دیر اُس واقعے کو لے کر ہنستے رھے ،،اتنی دیر میں ایک بھکارن عورت اندر دُکان میں گھُس آئی اور زور و شور سے ہمیں باتیں سُنانے لگی۔کیوں غریبوں کو تنگ کرتے ھو اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا میرے بچوں کو مارا،میں حیران اور پریشان اُس کی باتیں سُنتا رہا جب وہ اپنی بڑھاس نکال چُکی تو میں تھوڑا تصوُف کے بعد کہنے لگا۔اے مائی کیا ھُوا کون ھے تُو اور میں نے کیا کہا تمہارے بچّوں کو کہاں ھے تمہارے بچے ابھی میرے سوالات ختم بھی نہیں ھُوئے تھے ، کہ اُس کے دائیں جانب سے دو بچے نمودار ھوئے اور ایک بچّی بائیں جانب سے سر نکالے مجھے دیکھے جارہی تھی ۔ میرا سانس رُک گیا۔ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے کیسے رُکتا ھے مجھے لگ پتا گیا تھا وہ بچے وہی یکے بعد دیگرے واقعات والے تھے۔میں سب سمجھ گیا کہ یہ ایک خاندانی گداگری ھے اور نہلے پہ دہلا یہ ھُوا کہ دُکان سے باہر ایک مرد کی آواز میرے کانوں میں گُونجی جو نجانے کس زبان میں اُس عورت سے مخاطب تھا یقیناً یہ اس عورت کا شوہر ہی ہوگا اور کون ہو سکتا ھے ۔ میری حیرت تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بھکارِن مائی کہنے لگی میرے بیٹے کا کشکول دے لیکن مُجھ پر تو جیسے اُس بچی کا سایہ ہوگیا تھا۔میں اپنی سماعت کھو چُکا تھا۔میرے دوست نے وہ کشکول۔نُما۔کٹورا اُٹھایا اور اُس مائی کے ہاتھ میں تھما دیا۔کافی دیر بعد میرے ہوش و حواس بحال ہُوئےتو مجھ پر یہ انکشاف ہو چُکا تھا میں نے ایک گداگر فیملی کو دیکھا اور وہ میرے ہاتھوں تنگ بھی ھوئے،گویا یہ یتیم نہیں ہوتے۔جیسے ہماری فیملی ہوتی ھے اُسی طرح اِن گداگروں کی بھی فیملی ہوتی ھےلیکن یہ سب محنتی لوگ ہیں کیا ؟؟؟نہیں یہ اِن کا خاندانی پیشہ ھےان کو شرم ، عزّت سے کیا لینا دینایہ ہمیں اللہ کے واسطے دیتے ہیںلیکن خود اللہ پہ یقین نہیں رکھتےپھر تو یہ بے ایمان ھوئے۔کیا ان پہ پابندی نہیں لگ سکتی۔جب یہ لوگ بھیک مانگ سکتے ہیںتو کام بھی کرسکتے ہیں۔لیکن جب اِن گداگروں کو روکنے والا ہی کوئی نہیں تو پھر یہ کام کیونکر کریں۔یہ ساری باتیں میرے اور دوست کے درمیان جاری تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں