جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

جناب "میں" صاحب ! : از: عبدالباسط احسان




.وہ ایک عاجز شخص تھا یا متکبر ' اس کا فیصلہ وہ کبھی نہ کرسکا' کیونکہ وہ دو کشتیوں کا سوار تھا۔ جب وہ ہجوم میں ہوتا تو اس کی نظریں زمین پر ہوتیں ' لیکن تنہائ میں وہ آسمان کی طرف دیکھنا پسند کرتا۔ اس کی زندگی کا یہ ہی تضاد اس کی بے چینی کا سبب تھا۔اس کی طبیعت میں حلیمی تھی' مگر یہ نرم روئیہ اس کے اندر کے شخص سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ اس کے اندر "میں" تھی اور یہ "میں" ہی اس کی بے چینی کا سبب تھی۔اسکی زندگی "میں" کے گرد ہی گردش کرتی تھی۔ وہ ہر وقت ایسے ہی خیالات میں گھرا رہتا" میں نے یہ احسان کیا' میں نے یہ خدمت کی'میں یہ کرنے والا ہوں"۔کبھی کبھی اس کی "میں"سن کر بکری کے بچے کا گمان ہونے لگتا ' جسے بھوک نے ستایا ہو۔اس کا دعوی ہمیشہ سے یہ ہی رہا کہ لوگوں کا درد اس کے سینے میں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لوگ بھی ایسا ہی سمجھتے تھے' وہ محفل کی جان تھا لوگ اس کو سر آنکھوں پر بٹھاتے' اس کی عزت کرتے ' کچھ لوگ تو اسے مسیحا تک کہہ دیتے جیسے اس کے پاس لوگوں کے زخموں کا مرہم ہو۔مگر وہ خود اندر سے بے چین تھا۔ اسے نفس کی تسکین اور روح کی تسکین میں فرق معلوم نہ تھا' جب بھی مضطرب ہوتا مذہب کے اندر سکون تلاش کرنے لگتا۔ مگر "میں" اس کا ادھر بھی پیچھا کرتی ۔۔۔کچھ عرصہ بعد وہ مذہب میں سے اختلافی نقطے نکالنا شروع کردیتا' بحث مباحثہ کرتا۔ لوگ واہ واہ کرتے' کہ کیا نقطہ اٹھایا ہے' مگر یہ نقطہ ہی اس کی بے چینی کا سبب بن جاتا' کیونکہ اس میں "میں" کی آمیزش ہوتی ۔۔۔اس کی روح کی بے چینی میں شدت سے اضافہ ہوتا تو مذہب کا لباس اتار کر پھینک دیتا' کیونکہ اس مصنوعی لباس سے اس کا جسم جھلسنے لگتا تھا۔آخری حل اس کو یہ نظر آتا کہ وہ "میں" کو دفن کرنے کی کوشش کرتا ' عام لوگوں کی طرح ہجوم میں بیٹھنے کی کوشش کرتا' مگر کوئ جاننے والا اسے پہچان لیتا' اس کی تعریف کرتا ۔ اس کی "میں" دوبارہ جاگ جاتی ۔ وہ پھر سے اسی دنیا میں کھوجاتا جہاں سورج کا نام بھی "میں" ہے اور رات کی تاریکی کو بھی "میں" کہتے ہیں۔۔۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں