بدھ، 30 اکتوبر، 2013
نطم: 'بہار آئی تھی ایک پل کو' از نوید رزاق بٹ
"بہار آئی تھی ایک پل کو"
.
ابھی تو کہنے تھے راز دل کے
ابھی تو خاموش تھے فسانے
ابھی تو کھُلنے کو مضطرب تھے
حساب سارے نئے پرانے۔
ابھی تو غنچے بھی نہ کِھلے تھے
ابھی تو بلبل بھی بے خبر تھا
ابھی تو سُوکھے پڑیے تھے پتےّ
ابھی تو سوزِ فراق تر تھا۔
تم آئے اور یوں چلے گئے بس؟
چلو یونہی پھر
تمھارے آنے کی اِس خوشی میں
ہم اپنے دل کے غموں کو لے کر
جلائیں گے اور جلا کے روشن
اداس راتیں کیا کریں گے
چمن میں بیٹھے ہوئے فخر سے
ہر ایک پتےّ ہر اِک شجر سے
گزرتے راہی سے رہگزر سے
تمھاری باتیں کیا کریں گے
بہار آئی تھی ایک پل کو
چمن میں برسوں رہا چراغاں!
.
شاعر: نوید رزاق بٹ
کتاب: نادان لاہوری
اتوار، 27 اکتوبر، 2013
چاند میری زمین ۔۔۔
چاند والے تو چاند والے تھے انہں اس بات کا بہت غرور تھا کہ وہ چاند پر رہتے ہیں اور زمین والے صرف اس بات کی تمنا کرسکتے ہیں کہ وہ بھی کھبی چاند پر جاکر رہیں لیکن ایسا صرف سوچا جا سکتا تھا ایسا ہونا تقریبا ناممکن تھا اور اب تو اور زیادہ ناممکن لگنے لگا تھا جب سے یہ کہا جارہا تھا کہ اگر چاند پہ ہوا نہیں ہے تو ویڈیو کلپ میں امریکہ کا جھنڈا لہرا کیوں رہا تھا اس لیئے چاند پر کوئی نہیں گیا ہے۔ زمین والے تو مایوس ہوچلے تھے اور چاند والوں نے سکون کا سانس لیا تھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر زمین والے چاند پر اکر رہنے لگے تو ادھر کا بھی سکون غارت ہوجائے گا۔ لیکن انہیں اپنی بڑھتی ہوئی اس مارکیٹ ویلیو کا بھی اندازہ تھا لیکن!! ایک دن خالد چاند والا اپنے گھر پر موجود سائنسی لیبارٹری میں اپنی دوربین سے زمین کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس کے منہ سے ایک زور دار چینخ نکل گئی اور وہ حیرت زدہ رہ گیا اس کی بیوی جو کہ کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کررہی تھی وہ بھاگتی ہوئی ادھر آگئی کیا ہوا چاند خیریت تو ہے نا !!!خالد نے انگلی سے دوربین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دیکھو اس میں کیا دیکھ رہا ہے اس کی بیوی زوبیا نے دوربین آنکھون سے لگائی اور کہا کہ زمین دیکھ رہی ہے پاکستان کے شہر کراچی کا کوئی علاقہ ہےمگر تم چینخے کیوں تھے ؟؟خالد بولا کیا تمھیں کچھ نہیں دیکھ رہا ارے دیکھو غور سے دیکھو انہیں ادھر چاند پر آنے کا کتنا شوق تھا کہ انہوں نے ادھر زمین کو بھی چاند بنا ڈالا زوبیا نے غور کیا تو اس کو سڑک پر جابجا گھڑے بنے نظر آئے جیسے چاند پر ہوتے ہیں ان گھڑھوں میں گاڑیاں بائیک اور لوگ اچھل اچھل کر آجا رہے تھے اس کی بیوی یہ سب دیکھ رہی تھی اور خالد کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی اب ہمارے چاند کی کوئی ویلیو نہیں رہی اب ان لوگوں نے زمین کو چاند بنا دیا ہے اب کون ادھر انے کی تمنا کرے گا ۔ اب تو وہ ہمیں دیکھ کر آہیں بھی نہیں بھریں گئے
جمعہ، 25 اکتوبر، 2013
جیسا سوال ویسا جواب تو پھر ناراضگی کیسی
ہر جگہ یہ ڈھونڈرا پیٹا جارہا ہے کہ پاکستانی قومیت کو فروغ دیتے ہیں جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ کہاں سے ہو تو کہتے ہیں کہ میں سندھ سے ہوں میں پنجاب سے ہوں میں پٹھان ہوں میں مہاجر ہوں میں بلوچ ہوں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں پاکستانی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں پہلے میں ایف ایم سن رہی تھی کراچی سے کالز لی جارہی تھیں کہ ایک کالر آئی سلام دعا کے بعد میزبان نے پوچھا کہ آپ نے کہاں سے کال کی ہے تو کالر نے جواب دیا کہ کراچی سے تو میزبان ہنسنے لگی اور کہا وہ تو معلوم ہے کیوں کہ کراچی میں پروگرام آرہا ہے اور کالز بھی ہم کراچی کی لے رہے ہیں آپ اپنے علاقے کا نام بتایئے ۔۔۔۔۔۔۔
اب آتے ہیں واپس اپنے موضوع کی طرف پاکستان میں رہنے والے کسی بھی شخص سے میں پوچھوں تم کون ہو اور پھر یہ توقع رکھوں کہ وہ جواب دے کہ میں پاکستانی ہوں ۔ انتہائی مضحکہ خیز توقع ہے میری !
آپ کے خیال میں کیا یہ سوال پوچھنا صیح ہے ؟؟ یہ تو سمجھنے والی بات ہے کہ پاکستان میں ایک پاکستانی سے میرا یہ سوال کہ آپ کون ہیں اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ میں اس سے اس کے علاقے کے بارے میں پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔ یہ ایسا ہی ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر میں کسی نماز پڑھ کر اٹھنے والے شخص سے سوال کروں کہ آپ کون ہو تو وہ لازمی مجھے جواب میں اپنا نام بتاے گا تو میں اس کو بولوں کہ احمق انسان کیا تم مسلماں نہیں جو اپنا نام بتا رہے ہو تمھیں بولنا چاہیئے تھا کہ میں مسلمان ہوں ۔
جو لوگ اس طرح کے سوالات کو بیس بنا کر پاکستانیوں کو احساس کمتری میں اور قومیت میں الجھانا چاہتے ہیں ان سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا اپ نے کسی باہرکی یونیورسٹی میں پڑھنے والے یا باہر ملک میں رہنے والے کسی پاکستانی سے سوال کیا کہ وہ کون ہے پوچھ کے دیکئے گا وہ کھبی نہیں کہے گا کہ وہ پنجابی ہے یا پٹھان، سندھی ہے یا مہاجر یا بلوچ بلکہ وہ صاف کہے گا کہ میں ایک پاکستانی ہوں ۔ کیونکہ اس وقت وہ جانتا ہوگا کہ مجھ سے کیا پوچھا جارہا ہے ۔
بدھ، 23 اکتوبر، 2013
المیہ - ایک نظم
میں تو دونوں ہی آنکھیں رکھتا ہوں
اور سب کچھ ہے سامنے میرے
مجھ کو معذور مت کہو لوگو
مجھ کو سب کچھ نظر تو آتا ہے
پھر بھی میں
دیکھ کچھ نہیں سکتا
(معراج رسول رانا)
منگل، 22 اکتوبر، 2013
انسان ڈش - از: خرم امتیاز
اللہ نے ھم سب کو چھوٹے بڑے برتنوں میں پیدا کیا. کچھ کو کچی مٹی کے اور کچھ کو سٹین لیس سٹیل کے برتنوں میں. رنگ و نسل کے مسالے لگا کر اک امتیاز اور تفریق تو خود اللہ نے پہلے ہی رکھ دی. اس پر تھوڑی سی بے چینی، تھوڑے سے تجسس اور تھوڑی سی بے صبری کے تڑکے کے ساتھ محبت و نفرت اور رنگ برنگے جذبوں کا فلیوور مکس کرتے ہوئے کیا غیر متوازن، لیکن انتہائی مزے دار چیز بنایا انسان کو. اوپر سے ہر انسان کے حالات و واقعات میں اتنی زیادہ variations .. سبحان الله...... رہی سہی کسر خوشی اور غمی کی چٹنیاں ڈال کر یوں پوری کی کہ کوئی بھی انسان مکمل خوش بھی نہیں. اور مکمل دکھی بھی نہیں.
- خرم امتیاز -
ہفتہ، 19 اکتوبر، 2013
غزل: جلیں گے کتنے چراغ از نوید رزاق بٹ
غزل
جلیں گے کتنے چراغ تم سے ، چراغ اک تم جلا کے دیکھو
نئی سحر کا پتہ ملے گا، پرانے چہرے ہٹا کے دیکھو
نئی سحر کا پتہ ملے گا، پرانے چہرے ہٹا کے دیکھو
فضا میں نغموں کی گونج ہو گی ، تمام خاکوں میں رنگ ہوگا
کِھلیں گے تازہ گلاب پھر سے ، چمن سے ظلمت مٹا کے دیکھو
سبھی مسافر ہیں اس نگر میں ، سبھی کو چاہت کی آرزو ہے
دلوں کے نغمے سنو کبھی تم ، نطر نظر سے ملا کے دیکھو
کہا قلندر نے راز مجھ سے ، کہ خود کو کھونا ہے خود کو پانا
متاعِ دنیا ہوس ہے بابا! متاع یہ اک دن لٹا کے دیکھو
لیبلز:
اردو,
اردو فورم,
چراغ,
چمن,
خلیفہ,
نوید رزاق بٹ,
Naveed Razzaq Butt,
poetry,
urdu
جمعرات، 17 اکتوبر، 2013
غزل: نشانہ آزمایا جا رہا ہے از نوید رزاق بٹ
نشانہ آزمایا جا رہا ہے
ہمیں ناحق ستایا جا رہا ہے
۔
ہمیں ناحق ستایا جا رہا ہے
۔
جلا کر چل دیے جو آشیاں کو
انہیں پھر سے بلایا جا رہا ہے
۔
انہیں پھر سے بلایا جا رہا ہے
۔
جسے لکھا ہمارے دشمنوں نے
وہ نغمہ گنگنایا جا رہا ہے
وہ نغمہ گنگنایا جا رہا ہے
۔
چراغِ راہ تو بجھ ہی چکے تھے
چراغِ جاں بجھایا جا رہا ہے
چراغِ جاں بجھایا جا رہا ہے
۔
یہاں جمہوریت کا نام لے کر
تماشا کیا دکھایا جا رہا ہے
تماشا کیا دکھایا جا رہا ہے
۔
نوالہ چھین کر محنت کشوں سے
نوابوں کو کھلایا جا رہا ہے
نوابوں کو کھلایا جا رہا ہے
۔
غضب خالی خزانہ ہے جسے یوں
دو ہاتھوں سے لُٹایا جا رہا ہے
دو ہاتھوں سے لُٹایا جا رہا ہے
۔
عجب کھانے کی عادت ہو گئی ہے
کہ اِک دوجے کو کھایا جا رہا ہے
کہ اِک دوجے کو کھایا جا رہا ہے
۔
خدا کے نام پر کر کے تجارت
سکونِ قلب پایا جا رہا ہے
سکونِ قلب پایا جا رہا ہے
۔
زباں بندی کی قیمت لگ رہی ہے
قلم سولی چڑھایا جا رہا ہے
قلم سولی چڑھایا جا رہا ہے
۔
خلیفہ نرم دل ہیں رو پڑیں گے
غریبوں کو بھگایا جا رہا ہے
غریبوں کو بھگایا جا رہا ہے
۔
گزرگاہ ہے جہاں، منزل نہیں ہے
رُکا نہ اِک، جو آیا، جا رہا ہے
رُکا نہ اِک، جو آیا، جا رہا ہے
--
شاعر: نوید رزاق بٹ
-
-
لیبلز:
اردو,
اردو فورم,
خدا,
خلیفہ,
شاعری,
نشانہ,
نوید رزاق بٹ,
Naveed Razzaq Butt,
poetry,
urdu
اتوار، 13 اکتوبر، 2013
موچی کی بیٹی : از: اشنہ علی
موچی کي بیٹی ...... بینی
(ایک مکالمے کے دوران)
خوشی ایک نعمت ہے میں نہیں جانتی، خوشی ایک کسوٹی ہے جسے سمجھا نہیں جاسکتا، آپ لوگ خوشی کو کس آسانی سے بیان کردیتے ہیں..کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ خوشی کیا ہے! میں بھی نہیں جانتی مگر میں لفظوں کا سہارا لے کر منافقت نہیں کرتی۔
میں سچ کہوں خوشی قدرت کا ایک کھیل ہے کبھی جیت کبھی مات! کبھی خوشی ہمارے لئے سہارا ہے مضبوطی ہے.... جب میں بھوک سے بلک رھی ہوتی ہوں اور بابا کھانا لیکر آتے ہیں اس وقت خوشی ایک تہوار کاسا روپ دھارے میرے قدموں میں آ بیٹھتی ہے اور بڑی دیرتک اٹکھیلیاں کرتی رہتی ہے۔
میں بتاؤں جب میں اداس ہوتی ہوں تو بھائی منہ بناکر کہتے پریشان کیوں ہوتی ہو تمہارا بھائی ہے نا؟...(گو کہ جانتی ہوں بھائی کچھ نہیں کرپائیں گے) مگراس وقت خوشی ایک مضبوط دیوار کیطرح میرے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے اور پیش آنے والے مسائل ، مایوسیاں اور الجھنوں کو روکنے کی کوشش کرتے نظرآتی ہے، جب ماں بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے حال پوچھتی ہیں تو اس خوشی کوآپ بڑے لوگ کیا جانیں .. حال مستقبل تک سدھرجاتے ہیں۔
ہاں خوشی میرے لئے کبھی کبھی ستم ثابت ہوتی ہے..... اب عید آئی ہے.........................
بینی کی آواز مایوسی اور احساس کمتری میں دب گئی ، وہ خاموش ہے۔
نظم : شاعر عمران علی تبسم
اپنی زبان اردو...
ہوجاۓ گر یہ لاگو...
پھر دیکھنا چمن کی...
پھیلے گی ڈھیر خوشبو...
قومی زبان اردو...
اپنی زبان اردو.......
""""""
میٹھی ہے پراثر ہے...
رنگوں سے شوخ تر ہے...
خودروئی چال عمدہ...
ہر بولی ہمسفر ہے...
ادبی فضائیں جادو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""
دلکش ہے دلربا ہے...
ہر شہر بولتا ہے...
لہجہ ہو چاہے کوئی...
امرت ہی گھولتا ہے...
دل کو لبھاۓ بابو...
اپنی زبان اردو.......
''"""""""""
چینی تو چین بولے...
دھرتی کے بھید کھولے...
گورا چباۓ انگلش...
ہندی پہ ہند ڈولے...
پیچھے ہیں ایک میں تو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""'
ہاتھوں میں ہوں گے تارے...
سوچو نا ! اس کے بارے...
آۓ گی جب یہ دفتر...
کردے گی کام سارے...
بن جاۓ گی یہ بازو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""""
سب کو بڑی ہے پیاری...
دے دو نا اک باری...
اب تو جگہ بنا لو...
کب سےکھڑی بے چاری...
کر لے نہ کوئی قابو...
اپنی زبان اردو........
*""""""¤""""""*
عمران علی تبسم
پھیلے گی ڈھیر خوشبو...
قومی زبان اردو...
اپنی زبان اردو.......
""""""
میٹھی ہے پراثر ہے...
رنگوں سے شوخ تر ہے...
خودروئی چال عمدہ...
ہر بولی ہمسفر ہے...
ادبی فضائیں جادو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""
دلکش ہے دلربا ہے...
ہر شہر بولتا ہے...
لہجہ ہو چاہے کوئی...
امرت ہی گھولتا ہے...
دل کو لبھاۓ بابو...
اپنی زبان اردو.......
''"""""""""
چینی تو چین بولے...
دھرتی کے بھید کھولے...
گورا چباۓ انگلش...
ہندی پہ ہند ڈولے...
پیچھے ہیں ایک میں تو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""'
ہاتھوں میں ہوں گے تارے...
سوچو نا ! اس کے بارے...
آۓ گی جب یہ دفتر...
کردے گی کام سارے...
بن جاۓ گی یہ بازو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""""
سب کو بڑی ہے پیاری...
دے دو نا اک باری...
اب تو جگہ بنا لو...
کب سےکھڑی بے چاری...
کر لے نہ کوئی قابو...
اپنی زبان اردو........
*""""""¤""""""*
عمران علی تبسم
: شاعر :عمران علی تبسم
ہزاروں عیب ہوں چاہے وہ بے پردہ نہیں کرتا...
جسے وہ بخش دیتا ہے اسے رسوا نہیں کرتا...
جو راتوں کو خدا کے ذکر سے اجلا بناتے ہیں...
الہی ! ایسے لوگوں کو کبھی گمراہ نہیں کرتا...
الہی ! ایسے لوگوں کو کبھی گمراہ نہیں کرتا...
بہت سے تیر چاہے اک طرف ترکش میں باقی ہوں...
مقابل دل مسلماں ہو تو کچھ پرواہ نہیں کرتا...
بدلنا جانتی ہے جو وہ چاھت ہے حلیمی ہے...
کہ سختی اور نفرت سے کوئی بدلا نہیں کرتا...
کوئی تو بات ہے اس میں ، رگ_جاں میں تلاطم ہے...
وگرنہ اتنی عجلت میں تو دل دھڑکا نہیں کرتا...
مجھے پھولوں سے الفت ہے میں کانٹوں پہ بھی مرتا ہوں...
میں جس سے پیار کرتا ہوں اسے تنہا نہیں کرتا...
کسی کو توڑنا اور پھر بنانا اپنی مرضی کا...
سراسر ظلم ہے عمران کچھ نکلا نہیں کرتا........
شاعر :عمران علی تبسم
منگل، 8 اکتوبر، 2013
آٹا: نظم : شاعر: عابی مکھنوی
مست مست : غزل : شاعر عمران علی تبسم
مخملیں کٹیا میں شاہ ، بھنورا کلی میں مست ہے
جس کو دیکھو اپنی اپنی عاشقی میں مست ہے.
ہر ستارہ چاند کی دنیا میں گم ہے ، مست ہے
چاند اپنی ہی بدلتی چاندنی میں مست ہے.
کیا کروں ؟ کیسے کروں ؟ کچھ تو بتا اے ہم وطن !
ہے اندھیرا کو بہ کو ، جگنو خوشی میں مست ہے.
کسطرح پھر درد بانٹوں ، کیا نبھاؤں دوستی
چاروں جانب ہر کوئی تو دل لگی میں مست ہے.
کچھ بڑے بے حس و سنگدل ، کچھ کبوتر بادشاہ
جو بہت مجبور ہے وہ بے بسی میں مست ہے.
ڈھونڈتا پھرتا ہوں مرد _حق ، گیا آخر کہاں ؟
یا تو پھر سویا ہوا ہے یا خودی میں مست ہے.
موت کا ہے خوف لیکن کچھ خدا کا ڈر نہیں
بھول کر اگلے جہاں کو زندگی میں مست ہے.
یہ بھی اکثر اس جہان_رنگ و بو کی ریت ہے
میں ہوں جس میں --- وہ ہے اس میں --- جو کسی میں مست ہے.
ناامیدی کفر ہے عمران کچھ تو عقل کر
علم کی شمع تو اپنی روشنی میں مست ہے.
( عمران علی تبسم )
جس کو دیکھو اپنی اپنی عاشقی میں مست ہے.
ہر ستارہ چاند کی دنیا میں گم ہے ، مست ہے
چاند اپنی ہی بدلتی چاندنی میں مست ہے.
کیا کروں ؟ کیسے کروں ؟ کچھ تو بتا اے ہم وطن !
ہے اندھیرا کو بہ کو ، جگنو خوشی میں مست ہے.
کسطرح پھر درد بانٹوں ، کیا نبھاؤں دوستی
چاروں جانب ہر کوئی تو دل لگی میں مست ہے.
کچھ بڑے بے حس و سنگدل ، کچھ کبوتر بادشاہ
جو بہت مجبور ہے وہ بے بسی میں مست ہے.
ڈھونڈتا پھرتا ہوں مرد _حق ، گیا آخر کہاں ؟
یا تو پھر سویا ہوا ہے یا خودی میں مست ہے.
موت کا ہے خوف لیکن کچھ خدا کا ڈر نہیں
بھول کر اگلے جہاں کو زندگی میں مست ہے.
یہ بھی اکثر اس جہان_رنگ و بو کی ریت ہے
میں ہوں جس میں --- وہ ہے اس میں --- جو کسی میں مست ہے.
ناامیدی کفر ہے عمران کچھ تو عقل کر
علم کی شمع تو اپنی روشنی میں مست ہے.
( عمران علی تبسم )
تعلیم بالغان :از: توصیف احمد کشاف
آخرکار میں نے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے آپ لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ لوگوں کی کم علمی اور ناسمجھی اپنی جگہ مگر مجھے جس بات نے یہ راست قدم اٹھانے پہ مجبور کیا وہ مجھ بڑے ادیب کی تحریروں اور شاعری پہ کیے جانے والے اعتراضات ہیں۔کسی کو میری اعلی پائے بلکہ اعلی چار بائے کی شاعری کے وزن پہ اعتراض ہے توکسی کو میری سنجیدہ اور عقل و دانش کی باتون سے بھر پور تحریریں مزاحیہ یا خرافات نظر آتی ہیں۔
سب سے پہلے میں آپ لوگوں کو اپنی شاعری پہ کیے جانے والے اعتراضات کے پر مغز جوابات دوں گا اور ساتھ ہی جدید شاعری کو پڑھنے، سمجھنے اور لکھنے کا طریقہ بھی سکھاوں گا۔
ایک اور وضاحت بھی کر دوں کہ میں یہ کام صرف خدا ترسی اور علم و ادب کی خدمت کی غرض سے کر رہا ہوں مجھے کوئی بھی ایزی پیسہ کے ذریعے لیکچر کی فیس ادا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر پھر بھی کوئی بھجوائے گا توظاہر ہے میں کسی کے خلوص کو ٹھکرانے کا گناہ تو نہیں کر سکتا ناں۔
میری شاعری پہ پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا وزن برابر نہیں ہے۔
میرے پیارے سٹوڈنٹس اپنے سکول کے زمانے میں ریاضی پہ بھی تھوڑی توجہ دینی تھی ا
ناں۔ کیا ضروری تھا کہ گریس مارکس یا پورے 33 فیصد نمبر ہی لینے ہیں؟
آپ لوگ میری غزلوں کے سب مصرعون کا وزن جمع کر کے کل مصرعوں پہ تقسیم کر کے ایورج وزن نکال لیں۔ آسان سا کام ہے۔
پھر بھی اگر کسی سے اتنی معمولی سی جمع اور تقسیم نہیں ہو سکتی تو میں نے اپنے ایسے نالائق سٹوڈنٹس کے لیے اپنی شاعری میں ایک اور گنجائش بھی رکھی ہے اور وہ یہ کہ آپ میری شاعری کے الفاظ آگے پیچھے کر کے بھی حسب خواہش وزن بنا سکتے ہیں یا چاہیں تو کوئی لفظ ہی شعر سے نکال دیں۔ اس سے شعر کے معنی پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ویسے بھی میں آپ لوگوں کے لیول کو مد نظر رکھتے ہووے معنی و مطالب کی قید سے آزاد شاعری لکھتا ہوں۔
مجھے یقین ہے کہ اب آپ لوگوں کو میری شاعری کے وزن پہ بالکل بھی اعتراض نہیں ہو گا۔
دوسرا اعتراض میری شاعری پہ یہ کیا جاتا ہے کہ میں قابل اعتراض الفاظ اپنی شاعری میںن شامل کرتا ہوں۔
اب یہ اعتراض سن کے تو میں سر پیٹ کے رہ جاتا ہوں۔
اللہ کے بندو آپ لوگوں نے کبھی آج کی تہذیب یافتہ اقوام جسے امریک اور برطانوی لوگوں کی گفتگو نہیں سنی؟ وہ لوگ تو ایسے ایسے الفاظ اپنی روزمرہ کی گفتگو میں استعمال کرتےہیں جنہیں ہم بہت بڑی گالی سمجھتے ہیں۔
ان کے گانوں کا جو آپ لوگ بہت شوق سے سنتے ہیں پنجابی میں ترجمہ کر کے آپ لوگوں کو سنایا جائے تو آپ لوگوں کے کانوں سے دھواں نکلنے لگ جائے۔
میں تو آپ لوگوں کو تھوڑا تہذیب یافتہ بنانے کے لیے ایسے الفاط اپنی شاعری میں استعمال کرتا ہوں۔
مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کے علم میں گراں قدر اضافہ ہوا ہو گا اور آپ لوگوں کی سوچ بھی آج کے لیکچر کے بعد تہذیب یافتہ ہوئی ہو گی۔ اگلے لیکچر تک کے لیے اللہ حافظ
توصیف احمد کشافؔ
آپ لوگوں کی کم علمی اور ناسمجھی اپنی جگہ مگر مجھے جس بات نے یہ راست قدم اٹھانے پہ مجبور کیا وہ مجھ بڑے ادیب کی تحریروں اور شاعری پہ کیے جانے والے اعتراضات ہیں۔کسی کو میری اعلی پائے بلکہ اعلی چار بائے کی شاعری کے وزن پہ اعتراض ہے توکسی کو میری سنجیدہ اور عقل و دانش کی باتون سے بھر پور تحریریں مزاحیہ یا خرافات نظر آتی ہیں۔
سب سے پہلے میں آپ لوگوں کو اپنی شاعری پہ کیے جانے والے اعتراضات کے پر مغز جوابات دوں گا اور ساتھ ہی جدید شاعری کو پڑھنے، سمجھنے اور لکھنے کا طریقہ بھی سکھاوں گا۔
ایک اور وضاحت بھی کر دوں کہ میں یہ کام صرف خدا ترسی اور علم و ادب کی خدمت کی غرض سے کر رہا ہوں مجھے کوئی بھی ایزی پیسہ کے ذریعے لیکچر کی فیس ادا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر پھر بھی کوئی بھجوائے گا توظاہر ہے میں کسی کے خلوص کو ٹھکرانے کا گناہ تو نہیں کر سکتا ناں۔
میری شاعری پہ پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا وزن برابر نہیں ہے۔
میرے پیارے سٹوڈنٹس اپنے سکول کے زمانے میں ریاضی پہ بھی تھوڑی توجہ دینی تھی ا
ناں۔ کیا ضروری تھا کہ گریس مارکس یا پورے 33 فیصد نمبر ہی لینے ہیں؟
آپ لوگ میری غزلوں کے سب مصرعون کا وزن جمع کر کے کل مصرعوں پہ تقسیم کر کے ایورج وزن نکال لیں۔ آسان سا کام ہے۔
پھر بھی اگر کسی سے اتنی معمولی سی جمع اور تقسیم نہیں ہو سکتی تو میں نے اپنے ایسے نالائق سٹوڈنٹس کے لیے اپنی شاعری میں ایک اور گنجائش بھی رکھی ہے اور وہ یہ کہ آپ میری شاعری کے الفاظ آگے پیچھے کر کے بھی حسب خواہش وزن بنا سکتے ہیں یا چاہیں تو کوئی لفظ ہی شعر سے نکال دیں۔ اس سے شعر کے معنی پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ویسے بھی میں آپ لوگوں کے لیول کو مد نظر رکھتے ہووے معنی و مطالب کی قید سے آزاد شاعری لکھتا ہوں۔
مجھے یقین ہے کہ اب آپ لوگوں کو میری شاعری کے وزن پہ بالکل بھی اعتراض نہیں ہو گا۔
دوسرا اعتراض میری شاعری پہ یہ کیا جاتا ہے کہ میں قابل اعتراض الفاظ اپنی شاعری میںن شامل کرتا ہوں۔
اب یہ اعتراض سن کے تو میں سر پیٹ کے رہ جاتا ہوں۔
اللہ کے بندو آپ لوگوں نے کبھی آج کی تہذیب یافتہ اقوام جسے امریک اور برطانوی لوگوں کی گفتگو نہیں سنی؟ وہ لوگ تو ایسے ایسے الفاظ اپنی روزمرہ کی گفتگو میں استعمال کرتےہیں جنہیں ہم بہت بڑی گالی سمجھتے ہیں۔
ان کے گانوں کا جو آپ لوگ بہت شوق سے سنتے ہیں پنجابی میں ترجمہ کر کے آپ لوگوں کو سنایا جائے تو آپ لوگوں کے کانوں سے دھواں نکلنے لگ جائے۔
میں تو آپ لوگوں کو تھوڑا تہذیب یافتہ بنانے کے لیے ایسے الفاط اپنی شاعری میں استعمال کرتا ہوں۔
مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کے علم میں گراں قدر اضافہ ہوا ہو گا اور آپ لوگوں کی سوچ بھی آج کے لیکچر کے بعد تہذیب یافتہ ہوئی ہو گی۔ اگلے لیکچر تک کے لیے اللہ حافظ
توصیف احمد کشافؔ
جمعہ، 4 اکتوبر، 2013
ماں : مختصر افسانہ : از: عبدالباسط احسان
ماں کی گود کتنا مضبوط قلعہ ہوتی ہے، وہ جگہ جہاں حالات کی بدنماں گردش ٹھہر سی جاتی ہے، وہ جگہ ایک تخت کی مانند ہے، جہاں بیٹھ کر ساری سلطنت خوبصورت نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے تصور میں ماں کا چہرہ تھا، دل کررہا تھا، کہ وہ اپنی ماں کے پاس واپس چلا جائے، اس ملک میں واپس چلا جائے، جہاں بھوک تو ہے مگر ماں بھی ہے۔۔
یہ پرایا دیس جہاں لوگ بھوکے نہیں ہیں، اس دیس نے مجھے کبھی قبول نہیں کیا، یہاں کے لوگ مجھ جیسوں کو یوں دیکھتے ہیں، جیسے ہم بھکاری ہوں، جو بھیک کی غرض سے ٹھوکریں کھاتے کھاتے ادھر آگئے ہوں۔۔۔۔۔۔
کتنا شوق تھا۔۔۔۔۔ کہ باہر جاءوں گا،،،، دولت کماءوں گا،،،، اپنی ماں کو حج کراءوں گا،،،، مگر یہاں آیا تو معلوم ہوا، کہ میری دھرتی ماں اتنی بھی غریب نہ تھی، کہ مجھے بھوکا سلا دیتی ۔۔۔۔۔
سامنے پولیس والے مشکوک افراد کی تلاشی لے رہے تھے، حکومت نے اعلان کردیا تھا، کہ غیر قانونی لوگوں کو دوبارہ ان کے ملک واپس بھیجا جائے۔۔۔۔
آج اس نے چھپنے کی کوشش نہیں کی،،، وہ اس دیس سے نکل جانا جاتا تھا، جس دیس میں مفرور قاتل جیسی زندگی گزر رہی تھی۔۔۔
اس سے پاسپورٹ مانگا گیا،،،،، اس نے انکار کیا۔۔۔۔۔ پولیس کے آدمی نے اسکی تلاشی لی۔۔۔
اس کے بٹوے میں اس کی ماں کی تصویر تھی۔۔۔
پولیس والے نے تصویر دیکھ کر پوچھا کہ یہ عورت کون ہے؟
وہ بولا میری ماں۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس والے نے بٹوہ واپس کیا
اور چپ کرکے وہاں سے نکل جانے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گداگر: از: حسان شاہ
- ،، سُورج میرے سَر پہ کھڑا آگ برسا رھا تھا ۔اور میں پسینے میں شرابُور سڑک کنارے ایک دُکان سے دو یا تین قدم کے فاصلے پہ بیٹھا بغیر کام کئے تھکا ہارا اپنے رِزق کی تلاش میں روڈ کے دونوں اطراف دیکھ کر گرم سانسیں لئے جارہا تھا ،، شاید کوئی انسان نُما فرشتہ آئے اور پُورے ،پانچ سو،روپے کی دیہاڑی کے لئے کام دے جائےلیکن میں پچھلے چار گھنٹوں سے اِسی سوچوں میں گُم تھا۔ مایوسی اب میرے ذہن گُھسنے کی کوشِش کر رہی تھی کہ ابھی تک کوئی نہ آیااور بارہ بجے کے بعد پھر مُجھے خالی ہاتھ گھر جانا پڑے گا راستے میں جاتے ھوئے کسی سے وقت کا پُوچھ لیتا اور دل تھام کے بیٹھ جاتا وقت تھا کہ تیزی سے گُزرے جا رہا تھا ،، ابھی میرے پاس دو گھنٹے اور تھے خیر میں اِسی کَشمَکش میں گُم تھاکہ اچانک میری نظر اِک خاتُون پہ پڑی جو میری طرف ہی آ رہی تھی اِک چمکتا ھُوا بُرقعہ پہنے ھُوئے۔ میں بغور اُسے ہی دیکھ رہا تھا کیونکہ میں اپنا اندازہ لگا چُکا تھادِل ہی دل میں مُجھے خوشی بھی ھُوی کہ یہ بیگم صاحبہ کسی مزدُور کو ہی کام کے لئے ڈھونڈنے آرہی ہے ،، اور میرے علاوہ اب یہاں کوئی ہے بھی نہیں اب تو دیہاڑی پکّی ھے میری ،،اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ میرے پاس سے گُزر کر پیچھے ایک دُکان (اسٹور) پہ جا کر کھڑی ہوگئی اُففففف اُس وقت میرے دل پہ اِک درد سا گُزرا اور آنکھ میں بے ساختہ آنسُو اُمڈ آیا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں تیرتا ھُوا نجانے کہاں چھُپ گیا۔ میری آنکھیں عورت کو دیکھیں جارہی تھیں۔ اور ھائے رے قِسمت کے نعرے میرے ، دل ، میں جا کے گُونج رہے تھے ،، کہ اچانک مُجھے اُس عورت کی آواز سُنائی دی اور حیرت سے میرے کان کھڑے ہوگئے کیونکہ میں اُس دکان کے قریب ہی بیٹھا تھا ، تو مجھے اُس کی آواز صاف سُنائی دے رہی تھی اُس کے الفاظ تھے کہ میں تو اپنی بُھوک پیاس ہی بھول گیا ،، وہ کہہ رہی تھی کہتُمہیں اللہ کا واسطہ خُدا کیلئے مُجھ غریب پر ترس کھاؤ میری تین جوان کنواری بیٹیاں گھر میں بیٹھیں ہیں اور کمانے والا کوئی نہیں میں بیوہ ہوں مجھے کُچھ پیسے دے دیں اللہ کے نام پر میری مدد کیجئے دو دن سے ہم نے کچھ نہیں کھایا خُدارا بڑی اُمیدیں لے کر آپ کے پاس آئی ھوں۔ اُس عورت کو دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کوئی مانگنے والی ہوگی اور وہ جس انداز سے کہہ رہی تھی مجھے بھی اندازہ ہُوا کہ یہ کوئی بھیگ مانگنے والی مائی نہیں ضرور یہ مجبُور ہو کر آئی ہے اور شاید اسی لیئے بھیک مانگ رہی ھےخیر میں یہ ماجرہ دیکھ رہا تھا۔ مجھے بہت تَرس آیا اُس کے لہجے میں درد تھا جو میں نے محسُوس کِیا ،، لیکن مُجھے اُس وقت بہت غُصّہ آیا جب اُس دُکاندار نے اپنے گندے دانت دِکھا کر ہنسنے کی کوشش کرتے ھُوئے کہنے لگا میں پیسے تو دیدُوں گا مگر مجھے اُس کے بدلے کیا مِلے گا ،، وہ عورت کُچھ نا بولی اور پھر سے فریاد کرنے لگی ، لیکن میں تو اچھّی طرح سمجھ چُکا تھا کہ یہ کہنا کیا چاہتا ہے غلیظ انسان۔ اور پھر اُس عورت کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا بتاؤ تم کیا دوگی اپنی بیٹی یا پھر خود جاؤگی میرے ساتھ اُس عورت نے اپنا ہاتھ چُھڑانے کی کوشش اور میں ایک دَم سے اُٹھ کھڑا ھُوا اُس شخص کی باتیں مُجھے زہر سے بھی کڑوی لگی میں کیا اگر وہاں کوئی بھی غیرت مند مرد ہوتا تو شاید اُسے بھی غُصہ آتا ، لیکن مُجھے کیا ہُوا میں خود بھی نا جان پایا۔ شاید میرے اندر کا اِک غیرت مند مَرد جاگا تھا، میں بھلے ہی غریب تھا، لیکن غیرت سے مالا مال تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور اُس کی دُکان میں گھُس کر اُسے مارنا شروع کردیا ، اچانک ہی دُکان میں اِک بھیڑ جمع ہوگئی اور مجھے چند لوگوں نے گھسیٹ کر دُکان سے باہر نِکال دِیا اور چند لڑکوں اور آس پاس کے دُکانداروں نے مجھے اپنے حِصار میں جکڑ لیااور جب اُس آدمی کو باہر لایا گیا تو اُس کی حالت دیکھنے کے لائق تھی ، ناک سے بُری طرح خون روانا تھا اُسے سنبھلتے ہُوئے تقریباً گھنٹہ گُزر چُکا تو وہ پھر مجھے دیکھ کر دھمکیاں دینے لگا۔خیر پھر کیا ہونا تھا بحث تھی کہ بڑھتے بڑھتے مُجھے پُولیس کے حوالے کردیا گیامیں موبائل وین میں بیٹھا تھانے تشریف لے جارہا تھا ،، جہاں میری دُرگت بننّی تھی ،، مرتا کیا نہ کرتا میں چُپ چاپ وین میں بیٹھا اور دو پولیس والے مجھے گُھور گھُور کر ڈرا رہے تھے اور ساتھ ساتھ گالم گلوچ اور ایک آدھ تھپّڑ بھی رسید دیتے ،،میں بلکُل خاموش بیٹھا اُس عورت کے الفاظوں میں گُم تھا ،، تھوڑی دیر بعد تھانہ آگیا اور مجھے دھکے دے دے کر تھانے کے اندر لے جایا گیا اب میں اندر بیٹھا اُس صاحب جی کو دیکھ رہا تھا جس کی وردی کے کاندھے پر ایک پھُول سجا ھُوا تھا اور پیٹ اُسکا اچھا خاصا پھُولا ہوا تھا ،، وہ افسر کہنے لگا بتا بیٹا تیری سزا کیا ھےچھِتَر کھائے گا ڈنڈا ،، میں کُچھ نہ بولا اُس کے موٹے ہونٹ پھر ہلنے لگے بتا جلدی بتا کیا خدمت کریں جناب کی ،، میں آخر بول پڑا میرا جُرم کیا صاحب جی میں غریب آدمی ہوں اور اپنا دُکھڑا سناڈالا ،،پھر وہ کہنے لگا اُس عورت کو تُو جانتا ھے یا وہ تیری رشتے دار تھی ، نہیں صاحب جی میں نہیں جانتا کون تھی ، لیکن اتنا جانتا ہوں کہ وہ بیچاری تھی،،ھممممم بے چاری۔۔۔۔۔۔۔۔! ہاںاتنے میں ایک لڑکا اندر آیااور میرے سامنے والی بینچ پہ بیٹھ گیا ،، اُسے افسر نے بُلایا تو وہ میرے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھ گیا ،، ہاں کیا خبر لائے ہو کالُو ، وہ کہنے لگا صاحب جی آج نینا کی طبیعت ٹھیک نہیں اور بابُو اپنے گاؤں گیا ھُوا ھے ،، پھر اُس نے جیب سے چند ہزار روپے نِکالے اور افسر کو تھما دیئے پھر اُسے رات میں ملنے کا کہہ کر باہر چلا گیا ،، پولیس افسر مُجھے دیکھ کر ایک مکّار سی مسکراہٹ لئے کہنے لگا ، اچھا تو تم نے ایک بھکارن عورت پہ ترس کھا کر ایک سیدھے سادھے دُکان دار کو اتنا پیِٹا اگر تمہیں کوئی نہ چُھڑاتا تم نے تو اُسے مار ہی دینا تھا اور اگر وہ مَر جاتا تو ،،،تمہیں پھانسی ہوجانی تھی اور جیسا تم نے فرمایا کہ وہ عورت مظلوم تھی بیوہ تھی سوچو تمہارے بعد تمہاری گھر والی بھی مظلُوم ہوجاتی، ایک لمحہ کے لئے تو میں سوچنے لگا اور پھر جب میری سمجھ میں بات آئی تو میرے رُونگٹے کھڑے ہو گئے۔کہ خُدا نا خُواستہ میری بیوی ایسے بھیگ مانگے ،،،،، نہیں نہیں ،، بے ساختہ میرے منہ سے نہیں کے الفاظ نکل پڑے۔ افسر ہنسنے لگا اور پھر کہا کہ ابھی جو لڑکا آیا تھا نہ، یہ بھکاری تھا۔اور اس نے جو پیسے دیئے وہ بھیک کے ہی پیسے تھے،، لیکن یہ بھی ایک کام ھے جیسے تم کام کرتے ہو ویسے ہی یہ لوگ بھی کرتے ہیں ،، یہ لڑکا اکیلا نہیں ھے اس کے ساتھ آٹھ لوگ اور ہیں اور یہ سب بھیک مانگتے ہیں، اور یہی اِن کا کام ھے یہ میرے علاوہ کسی گدا گر گرو کو روپے نہیں دیتا اور نا ہی کوئی بھِکاریوں کا باپ اِس سے روپے لے سکتا ھے کیونکہ اس کے سَر پہ میرا ہاتھ ھےیہ گداگری اب ایک بہت بڑا پیشہ بن چُکا ھے اِس میں ٹولے ہیں، گروپ بن گئے اب یہ بیماری پُورے مُلک میں پھیل چُکی ھے ،،اور تم ہو کہ ایک بھکارن پہ اتنی غیرت کھا رہے ہو ۔میرے جی میں آیا کہ میں کہہ دوں وہ بھکارن نہیںہی مجبُور تھی ،،لاچار تھی ، غریب تھی ، لیکن میں چُپ ہی رہا ۔ خیر وہ مجھ سے مخاطب تھا اورپھر کہنے لگا تیرا مسئلہ کچھ نہیں یہ میں حل کردوں گا لیکن آئیندہ خیال رہے اور دوبارہ اُس جگہ مت بیٹھنا اگلے اِسٹاپ پہ۔بیٹھا کرو ، اور ہاں تم سے ایک کام ھے تُمہیں میرے ساتھ گھر جانا ہوگا میں نے حیرت سے افسر کو دیکھا اور تھوڑا گھبرایا بھی وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑا اور کہنے لگا ڈرو مت میں گھر بنا رہا ھُوں تُم مزدور آدمی ہو تمہارا اوزار گاڑی میں پڑا ھے کل صُبح یہاں آجانا میں تمہیں یہاں سے گھر لے چلوں گا اور گبھرانے کی ضرورت نہیں تُمہیں تمہاری محنت کے روپے ملیں گےایک اندھے کو آنکھوں کے علاوہ اور کیا چاہئے میرا تو خوشی سے بُرا حال تھا میں تو ایک لمحہ کیلئے اُس عورت کو بھی بھُول چلا تھا ،، جس کے ذریعے مجھے کام مِلا تھا ،، افسر نے کہا اب تُم جا سکتے ہو اور ہاں تمہارا سامان یہیں پر پڑا ہوگا تاکہ تُم صبح جلدی تھانے پُہنچ جاؤ ،،، خیر میں نے گھبرا کر کہا صاحب جی میری جیب میں بِیس روپے ہیں اگر آپ کُچھ روپے دے دیں تو بڑی مہربانی ھوگی ،، اُس نے دو سو روپے جیب سے نِکالے اور میرے ہاتھ پہ رکھ دیئے ، پیسوں کو دیکھ کر میری آنکھیں خوشی سے جھپکنا بھُول گئیاور میں تھانے سے باہر نِکل آیا اور راستے میں ، میں نے کئی دفعہ اُس عورت کے بارے میں سوچا کہ پتا نہیں اُس بیچاری پہ کیا گُزر رہی ہوگی اور پھر مجھے افسر صاحب کی بات بھی یاد آنے لگی کہ یہ ایک پیشہ ھے یہ ایک کاروبار ھے یہ ایک ناسُور بن چُکا ھے اب اور میں سوچنے لگا جو لوگ اِس کے مُستحِق ہیں اُن کی مدد کوئی نہیں کرتا جو مُستحق نہیں اُنہیں بھیک دے دے کر اُن کی عادت بناڈالی ھے اب میں بَس میں بیٹھ چلا تھا افسوس کیسے کیسے لوگ اس دُنیا رہتے ہیں جِن کو جینے کا حق بھی نہیں لیکن اللہ اُنھیں ڈھیل دے رہا ھے اور وہ نادان لوگ ، اور اور ، لوگوں کا حق مار رہے ہیں ، ہر انسان کی قسمت اپنی اپنی ،، لیکن ہمارے معاشرے کو بگاڑنے میں ہم سب کا ہاتھ ہے ہر شخص اپنے کام میں مصرُوف ہے کوئی کِسی کے بارے میں نہیں سوچتا حالانکہ اللہ اپنے بندوں کو ہر طرح سے رزق فراہم کرتا ھے اگر بندہ اچھا ہو تو اُسے اچھے طریقے سے رزق دیتا ہے اور اگر بُرا ہو تو اُسے اُسی بُرائی سے رزق نصیب کردیتا ھے۔میں اِسی سوچوں میں غرق تھا کہ میرے کانوں میں آواز آئیاللہ کے نام پہ دے دو بابا یہ آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں سوچوں میں گُم ایک دم جیسے ہوش میں آیا ،، اور میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دس روپے نکالے اور اُس لنگڑائے ہوئے بچے کو دے دیدیے ،، اب خُدا بہتر جانے وہ لنگڑا تھا یا گدا گر بن کر اپنی عادت سے مجبُور ،،،،،،،،،اور پھر میں اپنی سوچوں میں گُم اپنے گھر کی جانِب رواں دواں تھا اور،سوچ رہا تھا یہ گداگری بھی بہت مُشکِل اور ذلت سے بھرا کام ھے میں چاہے بہت غریب تھا لیکن میں نے کبھی کسی کہ آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اور اللہ سے یہی دُعا مانگتا تھا اے رب مجھے اپنے سِوا کسی کا محتاج نا کرنا۔ کل کا سوچ کر چہرے پہ اِک دُکھ بھری مُسکراہٹ کے ساتھ میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا دستک دے رہا تھا۔۔۔۔ختم شُدتحریر حسان شاہ
گداگری : از: عین الحق پٹیل
اس نے ایک اندھیری دنیا میں آنکھ کھولی،،،مگر اس کی آنکھیں روشن تھیں۔۔۔وہ روشنی دیکھنا چاہتا تھا۔۔خوبصورتی دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔اپنے من میں وہ خواہشیں چھپائے بیٹھا تھا جسکی تمنا کرنے کا حق اسے نہیں تھا
کبھی کبھی وہ کسی کو بنا بتائے ہی دور نکل جاتا۔پھیلی سڑکوں کو تاکتا رہتا۔۔۔۔شاپنگ مال سے نکلنے والے ہنستے چہروں کو دیکھتا رہتا۔۔
اس کا ننھا ذہن سمجھ نہیں پاتا تھا کہ یہ لوگ اتنے خوش کیسے ہیں۔۔۔ان کے بچوں کے چہروں پر اتنی خوشی کیسی ہے۔۔۔پیار اور والہانہ انداز سے جب
کوئی ماں اپنے بچے کو پکارتی تھی تو وہ سوچتا اس کی ماں تو اسے ہمیشہ ہی دھتکارتی رہی ہے۔۔۔۔اس کے باپ کے پاس سوائے گالیوں کے اسے دینے کیلئے کچھ نہیں تھا۔۔۔
پوتا بھی کیسے۔۔۔گداگروں کے پاس اگر کچھ ہو بھی تو وہ فقیر ہی رہتے ہیں۔۔۔
میلے کچیلے ماحول، بلبلاتی بدبو مارتی اسکی بستی میں اسکا دم گھٹ جاتا تھا۔۔۔جہاں انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح رہتے تھے ۔۔۔
اسے اپنے بھائی بہن سے بھی کوئی سروکار نہیں تھی،،،،گندے ادھ ننگے بھائی بہن سے اسے گھن آتی۔۔۔وہ سوچتا تھا وہ انھیں اچھے کپڑے پہنائے گا۔۔خوشبو لگائے گا
اور شہر کی سیر کرائے گا،،،،
مگر یہ سب وہ کیسے کرے گا اسے یہ معلوم نہیں تھا،،،بس خواہشیں تھیں،،جنھیں سوچ کر وہ دل ہی دل میں خوش ہتا تھا،،
جب اسکا باپ اسے کہتا کہ تو بھی میری طرح فقیر بنے گا تو اسکا دل کرتا کہ وہ اپنے باپ کا گلا گھونٹ دے،،،
وہ اسکی طرح سڑکوں پر لوگوں کی منتیں کرتی ہوئی زندگی نہیں گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔
وہ دنیا دیکھنا چاہتا تھا گھومنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اپنی دنیا کو حا صل کرنا چاہتا تھا ،،گداگروں کی اس بستی میں ایک باغی پیدا ہوا تھا۔۔۔مگر اسکی بغاوت بس اسکے دل تک ہی محدود تھی۔۔۔
آج بھی وہ سڑکوں پر گھنٹوں تک آوارہ گردی کرنے کے بعد اپنی کھولی میں لوٹا تو ماں باپ دونوں کو ریز گاری گنتے ہوئے پایا۔۔۔
اسے دیکھ کر اسکے باپ نے ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالی۔۔
کہاں گیا تھا بے تو۔۔۔
باپ سے ہمیشہ وہ ڈرتا تھا۔۔۔اسکا دماغ گھوم جاتا تو اگلے دن اسکا بدن سوجا ہوا ہوتا۔۔۔
وہ ۔۔۔۔وہ۔۔۔ایسے ہی بس نذیرے کے ساتھ تھا ابا۔۔۔
جھوٹ بولتا ہے حرامی۔۔۔
اسکے باپ نے اسے ایک جھانپڑ رسید کیا۔۔۔
درد کی ٹیسیں اسے اپنے گالوں پر محسوس ہوئیں۔۔۔گالی اور تھپڑ سے اسکا جسم اور روح دونوں گھائل ہو گئے تھے۔۔
مارتا کیوں ہے فقیرے۔۔۔
اسکی ماں نے اسے اپنے پیچھے چھپا لیا۔۔۔ان مو قعوں پر اسکی ماں اکثر ڈھال بن جایا کرتی تھی۔۔
بچہ ہے چھوڑ دے۔۔۔میں سمجھائوں گی اسے،،،ماں نے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی
ہاں سمجھا اسے۔۔۔اور اب یہ بچہ نہیں رہا۔۔۔کھا کھا کر جسم پھلا رہا ہے دیکھتی نہیں۔۔۔لگتا ہے یہ فقیر کی اولاد ہے،،،اسے دیکھ کر کون بھیک دے گا مجھے،،،،
اس کے باپ کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔۔۔
میں سمجھائوں گی اسے، بس تو جا اب۔۔۔۔
ماں نے اسکی منت کی
ابا۔۔۔میں تیرے ساتھ بھیک نہیں مانگوں گا سن لے،،،،
اسکے دل کی بات آج اس کی زبان پر آگئی تھی۔۔
کیا بولا بے۔۔۔۔بھیک نہیں مانگے گا،،،،اسکے باپ کا پارہ پھر چڑھ گیا۔۔۔۔
اس سے پہلے کو وہ اسے پھر مارتا اس کی ماں نے اسے پھر اپنے پیچھے کر لیا۔۔۔
میں کہتی ہوں تو جا،،،بچہ ہے بک رہا ہے اپنی۔۔۔۔۔۔۔جائے گا کیسے نہیں تیرے ساتھ جو تو کہے گا وہی کرے گا۔۔۔پر مار مت بس اسے۔۔۔
ماں کی آواز میں نہ جانے کیا تھا کہ غصے سے بھرا فقیرا چپ ہو گیا۔۔۔۔
جائے گا کیسے نہیں میرے ساتھ۔۔۔پر ایسے نہیں۔۔۔کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔
فقیرے کے لہجے میں نہ جانے کیا تھا کہ اسکے بدن میں سنسنی ڈوڑ گئی۔۔۔۔
فقیرا نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کے پہلو سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو اسکا باپ آیا تووہ سونے ہی لگا تھا ۔۔ اس نے دیکھا اسکے ساتھ ایک آدمی اور تھا۔۔۔۔کالا سانڈ جیسا جسم۔۔۔تیز آنکھوں سے وہ اسے ہی گھور رہا تھا
اسے دیکھ کر ہی اسے خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
ایک خوف کا احساس اسے جھنجوڑ گیا۔۔۔۔
چل نواز میرے ساتھ۔۔۔۔
اسکے باپ نے اسے کندھے سے پکڑا،،،خلاف توقع آج اسکا لہجہ تھوڑا نرم تھا
پ پ پر کہاں ۔۔۔اس نے قدرے جھجھکتے ہوئے کہا
تو چل بس سوال مت کر۔۔۔کام سے جانا ہے فکر نہ کر تھؤڑا گھوم بھی لیں گے۔۔
اس نے گردن موڑ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا۔۔۔۔مگر وہ خالی آنکھوں سے چھت کو گھور رہی تھی۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے،،،
آج ماں بھی اسے بچا نہیں رہی تھی،،،ناں کرتا تو باپ اسے ادھیڑ کر رکھ دیتا۔۔۔۔
مری مری سی آواز سے اس نے ماں کو پکارا،،،
امان میں جائوں۔۔۔۔اس سوال میں ایک درد تھا۔۔۔التجا تھی جیسے کہہ رہا ہو ماں میں نہیں جانا چاہتا مجھے روک لے۔۔۔
اس درد کو ماں نے محسوس کرلیا تھا جبھی چھت کو گھورتی آنکھوں میں نمی آگئی۔۔۔مگر اسکی ماں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔
اس کا دل کٹ کر دہ گیا۔۔۔۔
ابے چل آجا ۔۔۔تجھے ٹھنڈا بھی کھلائوں گا۔۔۔شاباش چل میرا بچا۔۔۔
اسکے باپ نے ہنستے ہوئے اس کا ہتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
اسنے دیکھا اسکے ساتھ آنے والے سانڈ نما آدمی کے چہرے پر کوئی احساس نہیں تھا۔۔۔وہ بس اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کو گھورتا ہے۔۔۔ اسکی نظروں سے اسے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔مگر باپ کی بات وہ ٹال نہیں سکتا تھا کمزور جو تھا،،
چل شاباش۔۔۔۔۔
اس کے باپ نے اسکی پیٹ تھپتھپائی۔۔۔
باہر بستی میں رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔
آج یہ اندھیرا کسی اور کی زندگی میں بھی چھانے والا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر کے پوش علاقے کے بڑے سے شاپنگ مال کے ساتھ وہ سڑک پر چٹائی پر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔بھیک کا کٹورا اس کے سامنے تھا۔۔۔اسکے باپ نے اسے ساری ہدایت کر دیں تھیں۔۔۔ اپنے برسوں کے ہنر کی تمام موٹی موٹی موٹی باتیں وہ اسے سکھا چکا تھا۔۔۔۔۔اب اسے یہاں شام تک ان پر عمل کرنا تھا
فقیرے نے شام کو آنے کا کہا تھا۔۔۔۔
آج اسکا گداگری میں پہلا دن تھا۔۔۔۔
اسکے ساتھ کئی اور بھی فقیر اہل کرم کا تماشہ دیکھنے بیٹھے تھے۔۔۔۔
وہ خالی خالی آنکھوں سے کشکول کو تک رہا تھا۔۔۔۔اسے لگا جیسے اب وہ اس جگہ سے کبھی نہیں اٹھ پائے گا
جس ماحول سے اس نے بغاوت کا سوچا تھا۔۔اس ماحول کے ایک ہی وار نے اسے ہمیشہ کیلئے اپنی گرفت میں لے لیا تھا ۔۔۔۔
اسکے باپ نے فقیر ہونے کا حق ادا کر دیا۔۔۔اپنے جیسا بنانے کا کہا تھا۔۔۔وہ قول کا سچا نکلا،،،،
اس نے جھلملاتی آنکھوں سے اپنی دونوں ٹانگوں کی طرف دیکھا،،،،
جو اب گھٹنے تک کٹی ہوئی تھیں۔۔۔
ساتھ ہی بیساکھی رکھی تھی۔۔۔جو شائد اب عمر بھر اس کی رفیق تھی،،،
اچانک ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔۔
یہ لو بیٹا۔۔۔۔
چہرہ اٹھا کر دیکھا تو ایک عورت ترحم آمیز نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔اسکے ہاتھ میں دس کا نوٹ تھا،،جو اسنے اسکی طرف بڑھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔اسکی آنکھوں کی نمی کو عورت نے صاف محسوس کیا۔۔۔۔۔اس کا دل بھی پسیج کیا۔۔۔۔یہ رکھ لو،،،،
اسنے نرمی سے کہا،،،،
وہ خالی نظروں سے دس کے نوٹ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
اسنے سامنے رکھا کشکول اٹھایا، عورت نے دس کا نوٹ اس میں ڈالا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی،،،،
اچانک اسکا دل بھر آیا،،،، ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ۔۔۔دل کے طوفان نے باہر نکلنا چا ہا
اسنے کشکول اوپر کیا۔۔اور فلک شگاف آواز میں صدا لگائی
اللہ کے نام پر دے جا۔۔۔اللہ کے نام پر معذور کو دیتا جا،،،،،
وہ چیخ رہا تھا،،،،زور زور سے حلق پھاڑ کر مگر اس کی چیخ میں چھپے احتجاج کو کوئی نہیں سمجھ پا رہا تھا
اسکی آواز کے درد نے سارے ماحول کو سوگوار کر دیا تھا۔۔۔
اشارہ : افسانہ : از: عبدالباسط احسان
ہمارا ٹرسٹ گداگری کو ختم کرنے کے لیے، کام کررہا ہے، ہمارا مقصد' ایسے افراد کو فنی تربیت دینا اور چھوٹے پیمانے پہ رقم فراہم کرنا ہے ' جو بھیک مانگنے پہ مجبور ہیں، تاکہ وہ اس قابل ہوجائیں کہ اپنا کاروبار کرسکیں، اس کے لیے آپ جیسے مخیر حضرات کے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔
سیٹھ نعیم، اویس صاحب کی بات سے اور ان کے "ٹرسٹ" کے کام سے، بہت متاثر ہوا، دس لاکھ کا چیک اس کےہاتھ میں تھما دیا۔
باہر نکلتے وقت' اویس دل ہی دل میں ، ہنس رہا تھا کہ اس نے ایک اور شخص کو مرغا بنا دیا۔درحقیقت "ٹرسٹ" تو نام نہاد
ہی تھا، اصل مقصد تو اپنی تجوری بھرنا تھا۔
گاڑی اشارے پہ رکی تو اس نے دیکھا کہ ایک معذور شخص 'سڑک پہ لنگڑاتا ہوا بھیک کی غرض سے گاڑی کی طرف بڑھ رہا ہے،اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کا سہارا لے کر ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتا، اویس نے گاڑی کا آدھ کھلا شیشہ اوپر کردیا، اور ایک نطر اے
سی پر ڈالی جو کہ آج ٹھیک طریقے سے کام نہیں کررہا تھا۔
بھکاری نے جب دیکھا کہ یہاں دال نہیں گلنے والی تو وہ اگلی گاڑی کی طرف بڑھا۔
اویس نے حقارت بھری نظر اس بھکاری پہ ڈالی ' دل میں سوچنے لگا کہ کتنے احمق ہیں' چند روپوں کے لیے ' در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، میں ذرا سی ذہانت سے کیسے لاکھوں ' ان امیروں سے بٹور لیتا ہوں۔ اگلے لمحے ہی اس کے چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ پھیل گئ خود سے مخاطب ہوا " اگر یہ روپے 'روپے کی بھیک مانگنے والے نہ ہوتے تو آج میرے پاس یہ گاڑی نہیں ہوتی"۔
اس نے گاڑی گئیر میں ڈالی کیونکہ اشارہ کھل چکا تھا
گداگر کا خاندان: از: حسان شاہ
میرے کانوں میں ہمیشہ کی طرح باجی پیسے دے دیں پیسے دے دیں ، باجی اللہ کے نام پر پیسے دے دیں، باجی پیسے دے دیںایسی آواز آرہی تھی کہ جی چاہ رہا تھا اِسے میں رکھ کر ایک تپھّڑ دے دوں۔کیونکہ آج اتوار تھا میری چُھٹی تھی اور میں دیر تک خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنا چاہتا تھا۔ میں نے کمبل سے سر باہر نکالا تو سامنے گھڑی پر نظر پڑتے ہی میں نے اُٹھنے کو ترجیح دی ، دس بجنے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے، میں جلدی سے اُٹھا اوراُس بھکاری کو سبق سکھانے کے لئے صحن میں بھاگتے ہوئے پُہنچا اور چِلاّتے ھُوئے کہنے لگا رُک تجھے میں گُھونسے دیتا ہوں حرام خور آج میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا تُو ہمیشہ اتوار کو ہی بھیک مانگنے آجاتا ھے ، تُجھے کوئی اور دن نہیں مِلا ، بھکاری کہیں کے، اور وہ بھاگتا ہُوا صحن سے باہر نکل گیا۔ میں بھی باہر گلی تک گیا اور اُسے ڈرانے کے لئے ہاتھ میں پتھّر اُٹھا لیا وہ اتنی تیزی سے بھاگا کہ جیسے غائب ہو گیا ھو ،اُسے غائب ہوتا دیکھ کر میں واپس گھر کی طرف مُڑا ۔ گھر پہنچتے ہی امّی نے کلاس لینی شروع کردی ،کیا ضرورت تھی اُس معصُوم کو ڈرانے کی۔ اُنہیں ہنسی بھی آرہی تھی ۔ امی کو ہنستا دیکھ کر میں کہنے لگا۔ ہاں ہاں وہ بھکاری معصوم ھے اور میں ظالم، ایک ہی تو دِن ملتا ھے سُکون کا وہ بھی یہ بھکاری تباہ کردیتا ھےامی نے کہا کیوں اتنا ظُلم کرتے ہو خُدا کا خوف کرو کُچھ، امّی کو اُس بھکاری بچّے کی سفارِش کرتے دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اوپر سے امی کی ہنسی میرا منہ چِڑا رہی تھی۔ چلیں ٹھیک ھے آپ لے لیں اس بھکاری بچّے کی سائیڈ میں نے بھی اُسے ایسے بھگایا ھے کہ دُور دُور تک دوربین میں بھی دِکھائی نہیں دِیا، اور نا ہی اب وہ کبھی دِکھائی دے گاامی کی ہنسی تھی کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی لے تھی۔خیر میں نے ناشتہ کیا اور تیار ہو کر گھر سے باہر آگیاباہر آتے ہی میں اپنے دوست کی دُکان میں بیٹھ کر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ اتنے میں آواز آئی ،، دےدےدےدےدےدے۔۔۔۔۔ دےبھائی اللہ کے نام پہ دے،مجھے اُس بھکاری بچّے کے اِس طرح بھیک مانگنے پر بے حد غُصہ آیا۔ ایک تو مجھے ویسے ہی چڑ تھی اِن بھکاریوں گداگروں سے،،اور اوپر سے بُرخوردار باقاعدہ گا کے مانگ رہا تھا اور وہ بھی مُجھ سے مانگ رہا تھا۔پہلے تو میں اُسے چار پانچ منٹ گُھورتا رہاوہ بھی مُجھے گُھورتا رہا۔میں غُصے سے اُٹھا اور اُسے پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اُس بھکاری بچے نے میرے ہاتھ پہ کٹورا مارتے ہُوئے بھاگتا چلا گیا، لیکن افسوس کہ وہ میرے ہاتھ نا آیا اور اُس کے ہاتھ کا کٹورا وہی گِر گیا میں اُس کے پیچھے بھاگنا چاہتا تھا۔ لیکن اُس کٹورے کو دیکھ کر میں رُک گیا، میں نے کٹورا اُٹھایا اور اپنے دوست سے کہا یہ سنبھال کے یہیں پہ رکھ دو ۔ اور میں آستینیں اوپر چڑھاتے ہوئے کہنے لگا اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ کہاں تک بھاگتا ہے۔مُجھے یقین تھا کہ اب یہ کہیں نہیں جاسکتا۔یہ ضُرور آئیگا ۔ میں وہی دُکان میں بیٹھا ایک دم فریش ہو کر روٹین کے مُطابِق اخبار پڑھتا رہا۔اخبار پڑھ پڑھ کے بھی دل کھٹّا ہوگیا۔میں اپنے دوست سے باتیں کرنے لگا۔جب مُجھے پیاس لگی تو میں اُٹھ کر دُکان کے اندر جاکر فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نِکالی ابھی میں نے گِلاس میں پانی ڈالا ہی تھا کہ بھکاری بچّہ آیا وہ میرے دوست کو دیکھ رہا تھا میں نے جیسے ہی دیکھا تو میں نے پہچاننے میں زرا دیر نہیں کی یہ وہی بچّہ تھا،جو صُبح میرے گھر آیا تھا ، میں بِلکُل فریج کے ساتھ چمِٹتا ھُوا اور دیوار کے ساتھ چِپکتا ھُوا آہستہ سے آگے بڑھا تاکہ میں اُسے پکڑ سکُوں ، اور وہ مجھے دیکھ نہ پائےجیسے ہی میں اپنے دوست کے قریب پُہنچا اُس بھکاری نے مجھے دیکھ لِیا۔اُسکا دیکھنا تھا اور گولی کی طرح بھاگنا تھا وہ بھاگا تو میں دُکان سے باہر نکل کر دیکھنے لگا ، لیکن اُس کا دھواں بھی نظر نہیں آیا ، وہ کِسی جہاز سے بھی تیز بھاگا تھا۔تقریباً آدھہ گھنٹہ گُزرنے کے بعد ایک بھکارن بچی دُکان میں نمُودار ھوئی اور منہ سے عجیب قِسم کی آوازیں نِکالنے لگی میرے دوست نے اُسے پیسے دینا چاہے ، لیکن میں نے اُسے منع کردیا۔ اور اُس بچّی سے کہنے لگا ادھر آؤ ۔ وہ نہیں آئی۔ میں نے اُسے بغور دیکھا تو مجھے وہ بلکل اس بھکاری بچے کی طرح دکھائی دی۔ جو۔کٹورا چھوڑ کے بھاگ چُکا تھا۔ مجھے شک ہُوا کہ یہ اُس کی بہن ھے۔میں نے جیب سے پرس نکالا اور اُسے پرس کھول کر دکھایا جس میں دس ، ، بیس ، پچاس اور سو ، سو روپے کے نوٹ تھے۔اُس بچّی نے روپے دیکھے تو اُس کی آنکھیں باہر نکل آئیں ۔پھر میں نے اُسے اپنے پاس بُلانے کا اشارہ کیا۔وہ ڈرتے ڈرتے میرے قریب آئی جیسے ہی وہ قریب آئی میں نے اُسکا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ ڈری اور منہ سے عجیب قِسم کی آوازیں نکال کر اپنا ہاتھ چُھڑانے لگی۔لیکن میں اُسے دیکھ کر مُسکرایا۔ اُس کی آنکھیں ویسے ہی باہر نکل رہی تھیں ، میرے جسم میں ایک جھرجھری سے دوڑی۔ عجیب بچّی تھی۔خیر میں نے اُس سے پُوچھا کہ تم میرے سوالوں کا جواب دو میں تمہیں بہت پیسے دوں گا۔ وہ اُسی طرح مجھے دیکھے جارہی تھی ۔ میرا دل چاہا کہ میں اس کی آنکھیں نکال کر باہر روڈ پہ پھینک دوں۔میں نے اُس سے بہت سوالات کیے لیکن حرام ھو جو اُس نے منہ سے ایک لفظ بھی نکالا ھو۔ مجھے بہت غصہ آیا ۔۔۔ پھر میں نے اُسے جانے کا کہا لیکن جیسے میں کسی بُت کے ساتھ باتیں کر رہا ہوں۔وہ نا ہی کچھ کہہ رہی تھی اور نا ہی کچھ سُن رہی تھی۔میں نے لاچاری کے عالم میں اپنے دوست کو دیکھا جو کہ ہنس ہنس کے پاگل ہوئے جارہا تھا۔ یہ اچھا تماشہ دیکھ رہے ھو میرا یار۔ اِسے بھگاؤ یہاں سے میری مدد کرنے کے بجائے تُو دانت دکھا رہا ھے مُجھے۔پھر میں نے اُس بچی سے زیادہ آنکھیں نکالنے کی کوشش کی اور اپنے دوست کو نہایت غصے کی ایکٹنگ کرتے ھوئے کہا وہ ڈنڈا دے مجھے ۔ اُس نے ڈنڈا جیسے ہی اُٹھا کر میرے آگے بڑھایا تو بھکارن بچّی ایسے بھاگی جیسے ہرن شیر سے جان بچانے کیلئے بھاگی ھو۔ پھر ہم دونوں دوست کافی دیر اُس واقعے کو لے کر ہنستے رھے ،،اتنی دیر میں ایک بھکارن عورت اندر دُکان میں گھُس آئی اور زور و شور سے ہمیں باتیں سُنانے لگی۔کیوں غریبوں کو تنگ کرتے ھو اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا میرے بچوں کو مارا،میں حیران اور پریشان اُس کی باتیں سُنتا رہا جب وہ اپنی بڑھاس نکال چُکی تو میں تھوڑا تصوُف کے بعد کہنے لگا۔اے مائی کیا ھُوا کون ھے تُو اور میں نے کیا کہا تمہارے بچّوں کو کہاں ھے تمہارے بچے ابھی میرے سوالات ختم بھی نہیں ھُوئے تھے ، کہ اُس کے دائیں جانب سے دو بچے نمودار ھوئے اور ایک بچّی بائیں جانب سے سر نکالے مجھے دیکھے جارہی تھی ۔ میرا سانس رُک گیا۔ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے کیسے رُکتا ھے مجھے لگ پتا گیا تھا وہ بچے وہی یکے بعد دیگرے واقعات والے تھے۔میں سب سمجھ گیا کہ یہ ایک خاندانی گداگری ھے اور نہلے پہ دہلا یہ ھُوا کہ دُکان سے باہر ایک مرد کی آواز میرے کانوں میں گُونجی جو نجانے کس زبان میں اُس عورت سے مخاطب تھا یقیناً یہ اس عورت کا شوہر ہی ہوگا اور کون ہو سکتا ھے ۔ میری حیرت تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بھکارِن مائی کہنے لگی میرے بیٹے کا کشکول دے لیکن مُجھ پر تو جیسے اُس بچی کا سایہ ہوگیا تھا۔میں اپنی سماعت کھو چُکا تھا۔میرے دوست نے وہ کشکول۔نُما۔کٹورا اُٹھایا اور اُس مائی کے ہاتھ میں تھما دیا۔کافی دیر بعد میرے ہوش و حواس بحال ہُوئےتو مجھ پر یہ انکشاف ہو چُکا تھا میں نے ایک گداگر فیملی کو دیکھا اور وہ میرے ہاتھوں تنگ بھی ھوئے،گویا یہ یتیم نہیں ہوتے۔جیسے ہماری فیملی ہوتی ھے اُسی طرح اِن گداگروں کی بھی فیملی ہوتی ھےلیکن یہ سب محنتی لوگ ہیں کیا ؟؟؟نہیں یہ اِن کا خاندانی پیشہ ھےان کو شرم ، عزّت سے کیا لینا دینایہ ہمیں اللہ کے واسطے دیتے ہیںلیکن خود اللہ پہ یقین نہیں رکھتےپھر تو یہ بے ایمان ھوئے۔کیا ان پہ پابندی نہیں لگ سکتی۔جب یہ لوگ بھیک مانگ سکتے ہیںتو کام بھی کرسکتے ہیں۔لیکن جب اِن گداگروں کو روکنے والا ہی کوئی نہیں تو پھر یہ کام کیونکر کریں۔یہ ساری باتیں میرے اور دوست کے درمیان جاری تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بوجھ:افسانہ : از: معراج رسول رانا
دینو نے جُھگی کا پردہ اٹھایا اور اندر داخل ہوا، اُس کی آٹھویں مہینے سے حاملہ بیوی چٹائی پر نیم دراز پڑی سر سے جوویں نکال کر مار رہی تھی۔ سات سالہ بیٹی شنو فرش پر بیٹھی کھیل رہی تھی،
"اری او شنو، اٹھ تیرا بابا آگیا ہے، جا روٹی لے کے آ"، اُس کی بیوی اُٹھ کے بیٹھ گئی،
"نہ، میں نہ کھاؤں روٹی،"، دینو نے کندھے پر لٹکا کپڑے کا تھیلا نما اُتار کر رکھا،
"کیوں؟ تنّے بھوک نہ لاگی؟"
وہ خاموش رہا۔ اُس نے جھُگی کے کونے میں پڑی کپڑوں کی گٹھڑی کھولی اور نسواری رنگ کی وہی گرم چادر نکالی جو کہ وہ ہر جمعرات کے دن نکالتا تھا۔ چادر کو دیکھتے ہی دینو کی بیوی اُس کا ارادہ بھانپ گئی۔
"آج پھر کہیں جارہا ہے تُو؟"
"تنّے کتنی بار کہا ہے کہ ای پوچھنے کی جرُورت نہ ہے"، اُس نے اپنے دن بھر کے بنائے گئے پیسوں میں سے کچھ نوٹ اپنے پاس رکھے اور باقی اپنی بیوی کو دے دئیے، وہ گننے لگی،
"پہلے ہی چِیجیں اتنی مہنگی ہیں، اوپر سے تُنے پیسے رکھ لئے،"
دینو نے کوئی جواب نہ دیا اور اپنے دھیان پھٹی قمیص اُتار کر چادر اوڑھنے لگا،
"پر دینو، تُو کدھر جاوے ہر جمعرات کو؟"
"اپنا بوجھ اُتارنے،"، دینو بے پرواہی سے بولا۔ اُس نے کَن اکھیوں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو کہ سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
"تُو نہ سمجھے گی، دماغ پہ جیادہ بوجھ نہ ڈال، مارا انتجار نہ کرئیو، سوجائیو،"
وہ یہ کہتا ہوا جُھگی سے باہر نکل گیا،
"اماں، بابا کدھر جاوے؟"، شنو کا کھیل ایک لمحے کیلئے رُک گیا،
"مَنّے کا پتہ کہاں جاوے؟ مولا جانے کونسا بوجھ ہلکا کرے ہے"
اُس کی بیوی نے بے پروائی سے ہاتھ جھٹکا اور لیٹ گئی۔
دینو جھُگی سے چادر میں لپٹا ہوا نکلا۔ درمیانہ سا قد، بڑھی ہوئی داڑھی، گہرے سانولے رنگ کا وجود رکھنے والا دینو فُٹ پاتھ کے کنارے چلتا جارہا تھا۔ چادر نے اُس کے پورے وجود کو ڈھانپ رکھا تھا، حتیٰ کہ اُس نے سر کے اوپر بھی چادر اِس طرح اوڑھی ہوئی تھی کہ اُس کا چہرہ مشکل سے دکھائی دے رہا تھا۔ یہ وہ چادر تھی جو اُسے پیر بابا کے مزار سے خیرات کے طور پر ملی تھی۔ وہ آہستگی سے لیکن مسلسل چل رہا تھا، گویا اُسے محکم یقین تھا کہ ہر دفعہ کی طرح آج بھی وہ اپنے وجود کا بوجھ اُتار پائے گا۔ وہ بوجھ جو روز اُس کی ذات میں شامل ہوجاتا تھا، وہ بوجھ جس میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا تھا۔ وہ چلتا ہوا منظور چوک پہنچا، جہاں کھڑا ہوکر وہ دن کے دو پہروں میں بھیک مانگتا تھا۔ اُس وقت ٹریفک کا کوئی قابلِ ذکر رش نہ تھا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ سب مناظر تیرنے لگے جب وہ لوگوں سے مانگتا تھا اور اُسے زیادہ تر لوگوں سے "معاف کرو" سُننے کو ملتا۔ زیادہ تر لوگ اُسے دھتکارتے، گاڑی کے شیشے بند کرلیتے، گالیاں بکتے، لمبی نصیحتیں کرتے۔ یہ سب اُس کی ذات کی تضحیک کے بوجھ میں ہر گزرتے لمحے کیساتھ اضافہ کرتا۔
منظور چوک میں تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد وہ آگے بڑھا۔ تھوڑی دُور اُسے ایک فقیر دکھائی دیا- وہ اُس فقیر کے قریب گیا، فقیر نے اُسے اپنے قریب آتے دیکھا تو اپنے پاس پڑا کاسہ ایک ہاتھ سے اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے شہادت کی انگلی بلند کرکے مانگنے لگا، دینو اُس فقیر کے پاس پہنچا۔ وہ پھر اُسی منظر میں چلا گیا جب وہ لوگوں سے مانگنے کیلئے کاسہ بلند کرتا اور اُسے آگے سے "معاف کرو" سُننے کو ملتا۔ وہ اُس فقیر کے سامنے تھوڑا سا جھُکا اور ہلکی آواز میں کہا "معاف کرو"۔ یہ کہتے ہوئے اُسے ایک سکون سا محسوس ہُوا۔ اُس فقیر کے پاس سے پلٹتے ہوئے اُس کے چادر میں چھپے چہرے پر ایک خفیف سی مُسکراہٹ تھی۔
وہ آگے چل دیا۔ اُس کی منزل حُسین پارک تھی جہاں اُس نے اپنا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔ اُسے راستے میں چار پانچ مزید فقیر ملے۔ اُس نے دانستہ طور پر وہ راستہ چُنا جہاں اُس کا سامنا فقیروں سے ہو۔ ہر فقیر کے سامنے ہلکا سا جھُک کر وہ مدھم سی آواز میں کہتا، "معاف کرو"۔ ہر مرتبہ اُس اپنا آپ بہت ہلکا محسوس ہوتا۔ ہر فقیر جوابا اُس کی طرف دیکھتا کہ یوں جھُک کر مدھم سی آواز میں "معاف کرو" کہنے کا کیا مطلب ہے، لیکن چونکہ اُس کا چہرا چادر میں گُم تھا لہذا کوئی بھی فقیر اُسے پہچان نہ پایا۔ یونہی چلتے ہوئے وہ حُسین پارک پہنچا، پارک کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوا اور سیدھا مشرقی کونے کا رُخ کِیا جہاں اُسے دُور بنچ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ایک باولا سا لڑکا نظر آیا، وہ لڑکا ہری قمیص پہنے ہوئے تھا جس پر پانچ چھ چھوٹے بڑے پیوند لگے ہوئے تھے، گلے میں تین کالی مالائیں لٹکی ہوئی تھیں، جبکہ ایلومینیم کا کٹورا پاس پڑا ہوا تھا۔ دینو کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور دیوانہ وار دھمال ڈالنے لگا۔ وہ دینو کو پہچانتا تھا، کیونکہ ہر جمعرات کو وہ اُسے اسی مقام پر مِلتا تھا۔
"اللہ کے نام پہ بابُو صاحب، بابُو صاحب، بابُو صاحب، اللہ کے نام پہ بابُو صاحب، بابُو صاحب، بابُو صاحب،"
وہ پاگلوں کی طرح یہ جملے دہرا رہا تھا اور ساتھ ساتھ دھمال کے انداز میں ناچ رہا تھا۔ دینو کچھ دیر تک اُس کی اُچھل کُود دیکھتا رہا، پھر دس کا نوٹ جیب سے نکالا اور اُس کو دکھانے لگا۔ اُس کا دھمال میں جوش پیدا ہوگیا۔ دینو نے بے پروائی کیساتھ وہ نوٹ اُس کی طرف ہوا میں پھینک دیا۔ ایسا کرتے ہوئے اُسے عجیب سی راحت محسوس ہوئی۔ سارا دن لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مانگنے کا بوجھ جو اُس کے ذہن میں تھا وہ اُترتا محسوس ہوا۔ لڑکے نے ہوا سے نوٹ دبوچ لیا اور واپس مڑنے لگا،
"اے، ادھر آ" دینو بیٹھا رہا، وہ واپس مُڑا، دینو نے اُسے دس کا ایک اور نوٹ دکھایا، اُس نے پھر دھمال شروع کر دیا۔ دینو نے پھر نوٹ ہوا میں لہرایا اور اُس نے پکڑ لیا۔ یہ کھیل جاری رہا جب تک دینو نے دس دس کے چار نوٹ اُس کو بھیک میں دے کر اپنا بوجھ ہلکا ہوتا محسوس نہ کِیا۔ آخر جب اُس نے چاروں نوٹ اُس پاگل فقیر لڑکے کو دے دئیے تو اُٹھ کھڑا ہوا اور واپس چل دیا۔ اُسے اپنا بوجھ اُترا محسوس ہوا، گویا اب وہ اگلے ہفتے کیلئے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کیلئے ذہنی طور پر تیار تھا۔ وہ لڑکا دیوانہ وار اچھُلتا ہوا نوٹوں کیساتھ کھیلنے لگا۔ اچانک دینو ایک لمحے کیلئے رُکا، وہ واپس مُڑا، اُس لڑکے کے پاس گیا اور تھوڑا سا جُھک کر دھیمی سی آواز میں کہا، "معاف کرو"
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)



