جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

کامیاب شوہر: از: عدیلہ افضل


ڈا کٹر یونس بٹ کا کہنا ہے شادی ایک ایسا بندھن ہےجو خوامخواہ دو شریف لوگوں کو آپس میں لڑنے پر مجبور کر دیتا ہے"

علی چونکہ ڈاکٹر صاھب کے بہت بڑے فین ہیں، اس لیئے قبل از وقت ہی لڑائی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ۔ ابھی ان کی شادی کو تین ماہ باقی تھے اور موصوف ایسی تراکیب کی تلاش میں نظر آتے تھے، جن سے شادی کے بعد، وہ اپنی بیگم پر خاطر خواہ رعب ڈال سکیں. ساتھ ہی ساتھ اپنے روایتی مشرقی شوھر ہونے کا ثبوت بھی پیش کر سکیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے بہت سے شادی شدہ دوستوں کے انٹرویوز کیے ۔ بہت کوششوں کے بعد آخرکار علی کو ایک نسخہ مل ہی گیا۔ یہ نسخہ علی نے پڑی کو شیشوں کے بعد اپنے دوست "ر" سے حاصل کیا۔یہاں ان کا نام نہیں لکھہ رہی اس لیےکہ ان کی بیگم کو پتہ نہ چل جائے کہ موصوف اپنے دوستوں کو ناکام نسخے بانٹ رہے ہیں۔ علی کی ملاقات "ر" سے اپنی شادی سے کوئی ایک ماہ پہلے ہوئی۔

علی کیسا ہے؟____
یار تو تو جانتا ہے ا گلے ماہ میری شادی ہے، بہت ڈر رہا ہوں۔ کوئی نسخہ بتا بیگم پر رعب ڈا لنے کا

اچھا "رعب" اور وہ بھی بیگم پر _____"ر" نے ادھر ادھر دیکھہ کر علی کے کان کے قریب آتے ہوئے کہا____یار بیگم بہت خطر ناک مخلوق ہےاس سے پنگا نہ لو تو بہتر ہے۔

علی گڑگڑایا___"یار، یہ تو کوئی یاری نہ ہوئی آ خر تمہیں دس سالہ ازواجی زندگی کا تجر بہ ہے کوئی ترکیب تو ہو گی تر ے پاس"____چلو میاں، تم کہتے ہو تو کوئی طریقہ ڈھونڈتا ہوں مگر پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، صبح ناشتہ بناتے ہوئے روٹی جل گئی تو تمہاری بھابھی نے وہی ناشتے میں دے دی کہ ضائع نہ ہو جائے، کھا ہی نہیں سکا. اب تم ہی بتاؤ پیٹ اگر خالی ہو تو ترکیب کہاں سے لاؤں؟ علی کو نسخہ کافی مہنگا پڑا۔ علی کو " ر" کو اچھے ریسٹورنٹ سے کھا نا کھلانا پڑا۔ "ر" نے ایسے کھایا جیسے برسوں بعد اچھا کھانا کھایا ہو۔ کھانے سے فارغ ہوکر موصوف جانے کے موڈ میں تھے کہ علی نے اپنا کام یاد دلایا تو موصوف نے کہا اوہ، اچھا تمھارا کام ۔۔۔کھانا کھاتے ہوئے اسی بارے میں سوچ رہا تھا، بس سمجھ کہ تیرا کام ہو گیا، کان ادھر لا. علی بھی انہماک سے سننے لگا.

دیکھو، ایک ضرب المثل ہے"گربہ کشن روز اول" جسکا مطلب ہے رعب پہلے روز ہی بیٹھتا ہے۔اس کے پس منظر میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک آدمی اپنی بیگم کے ساتھ شادی کے پہلے دن بیٹھا کھانا کھا رہا تھاکہ ایک بلی گھس آئی آدمی گرج کر بولا "اے بلی! چلی جا یہاں سے اور اب نہ آنا ۔میں صرف ایک غلطی معاف کرتا ہوں".___بلی بیچاری ڈر کر چلی گئی تھو ڑی دیر بعد پھر آ گئی تو آدمی بولا میں نے تجھے کہا تھا کہ میں صرف ایک غلطی معاف کرتا ہوں یہ کہہ کر اس نے تلوار سے اس کے دو ٹکرے کر دئیے۔ اگلے روز بیگم سے سالن میں مرچیں زیادہ ڈل گئی تو وہ آدمی بیگم سے مخاطب ہوا آئندہ ایسا نہ ہو۔ بیگم جو کہ بلی کا حشر دیکھہ چکی تھی انتہائی مرعوب ہوئی اور ساری زندگی اس کے تابع رہی۔ "ر" نے علی کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشو رہ دیا۔

شادی سے اگلے دن جب بیگم کمرے میں بیٹھی میگزین پڑھ رہی تھی، علی ایک بلی دروازہ کے باہر رکھ کر خود اندر آکر بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد محترمہ بلی صاحبہ اندر داخل ہوئی علی اپنی آواز کو گرج دار بنا تے ہوئے بولے"بلی چلی جاؤ ، میں صرف ایک غلطی معاف کرتا ہوں"۔بلی بیچاری تو ڈر کر بھاگ کھڑی ہوئی مگر بیگم بولیں"یہ آپ کی بلیوں سے کب سے سلام دعا ہے؟علی بیچارے کھسیانے ہو گئے۔خیر علی نے جھٹ سے تیاری پکڑی کہ بلی دوبارہ آئے تو اس کا قلع قمع کیا جا سکے مگر افسوس بلی بے حد ڈرپوک واقع ہوئی اور دوبارہ نہ آئی، مسلسل دو گھنٹے انتظار کرتے رہے آخرکار بیگم بولی۔_____ اب سو بھی جائیے۔مو صوف بل بل۔۔۔۔ کہتے رک گئے۔ بیگم بے زاری سے بولی___"بل جمع کرانا ہے تو صبح کروا آئیے گا"___ علی بے چا رے بلی کو کوستے ہو ئے سو گئے۔

علی ہمت نہ ہارے اور اگلے دن ایک عدد بلا اٹھا لائے کیو نکہ صنف نازک سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا تھا۔ بلے کو دروازہ کے باہر چھوڑ کر اندر آگئے مگر بلا اندر ہی نہ آیا، سوچتا ہو گا بغیر اجازت کسی کے کمرے میں جانا غیر اخلاقی بات ہے۔علی نے پچکارا __"پچ پچ پچ"___بیگم کو نہ جانے کیوں غصہ آگیا، بولیں؟؟ تمیز نہیں ہے آپ کو؟ آپ "بیگم" کہہ کر بھی بلا سکتےتھے__ اونہہ جاہل نہ ہوں تو___ علی کو ایک بار پھر شرمندگی اٹھانا پڑی۔ بہرحال بلا بھلا مانس ثابت ہوا اندر آ ہی گیا، علی نے رٹا رٹآیا ڈائیلاگ بولنا شروع کیا "اے بلی،، نہیں!!! میرا مطلب ہے، اے بلے چلا جا میں پہلی غلطی معاف کرتا ہوں۔ اس کے جاتے ہی علی تلوار سنبھال کر بیٹھہ گئے۔ بیگم سر جھٹک کر نظر انداز کر گئیں۔ اب موصوف دعا کرنے لگےکہ بلا دوبارہ آجائے۔ بلا بیچارہ قربانی کے لئے جلد واپس آگیا۔ اس کے آتے ہی علی بولے___"تجھے کہا تھا ناں، کہ ایک غلطی معاف کرتا ہوں"یہ کہتے ہی اس پر جھپٹ پڑے اورچھلانگ لگا کر تلوار کا وار کیا مگر بلے کو نہ جا نے کیوں غداری سوجھی اور میر جعفر اور میر صادق کا رول ادا کرتا ہوا اپنی جگہ سے ہٹ گیا ،اور علی بیچارے دھڑام سے سینے کے بل زمین پر جا گرے۔ مگر ہمت نہ ہاری اور دوبارہ وار کرنے کا سوچا اور ایک بار پھر بلے پر حملہ کر دیا ۔بیچارہ جام شہادت نوش فرما چکا تھا اور بیگم ہاتھہ میں بیلنا لئے کھڑی تھی___"کان کھول کر سن لو میں پہلی غلطی بھی معاف نہیں کر تی"۔_____ وہ دن اور آج کا دن علی نہایت وفادار،اطاعت شعار اور فرمانبردار قسم کے شوہر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس نصیحت کے ساتھہ خداحافظ کہ آپ بھی اب بیگم کے ساتھہ پنگا مت لیجئے گا۔ شرافت میں ہی عقلمندی ہے۔ کہیں آپ کے بیگم نے کراٹے سیکھ رکھے ہوں، تو پھر اپ کی خیر نہیں۔ میرا کام آپ کو 
آگاہ کرنا تھا باقی آپ کی مرضی۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں