جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

فلسفی : از: عین الحق پٹیل


کچھ لوگ پیدائشی فلسفی ہوتے ہیں۔۔حواس خمسہ سے جو محسوس کرتے ہیں اسے من کے جگ میں اتار کر مراقبہ کے بلائنڈر پر چڑھا کر
منطق اور دلیل مکس کر کے ایک عجیب سا محلول تیار کرتے ہیں جسے عام آدمی سونگھ کر 
ہی بھاگ جاتا ہے کہ مبادا پینا نہ پڑجائے،،اگر غلطی سے کوئی ان سے پتہ پوچھ لے تو انھیں
کسی اور ہی منزل کی راہ پر ڈال کر چلتے بنیں۔۔۔کوئی حال پوچھے تو ماضی کی گرہیں 
کھولنے لگتے ہیں۔۔۔۔ماضی پر افسوس کریں تو مستقبل کی امیدیں جگا دیتے ہیں اور اگر شادی شدہ ہوں تو ان سے انکی بیوی کا حال پوچھ لو فورا اپنے موجودہ حال پر لوٹ آئیں گے،،
کچھ فلسفی واقع کمال کے ہوتے ہیں۔۔۔قلفی کھاتے بچے کو دیکھ کر جب عام لوگوں کو ہنسی آتی ہے تو انھیں فلسفہ۔۔۔بچہ قلفی کھا کر تیلی سڑک پر پھینک کر چلتا بنے اور وہ تیلی کی بے مائگی کا سوچتے سوچتے زندگی کی خستہ حالی کا ایسا نقشہ کھنیچے کہ روڈ پر پڑی کسی بھی قلفی والی تیلی کو دیکھ کر آپ کو اپنا آپ نظر آجائے اور اگر آپ آسودہ ہیں تو فورا رب کا شکر کریں کے رب نے آپ کو قلفی کی تیلی نہیں بنایا۔۔۔سوچنے والی بات ہے تیلی ہو یا اس پر لپٹی دودھ والی ٹھنڈی ٹھار قلفی دونوں کا مقدر ایک ہے،،،
ہمارے ایک دوست پر بھی برا وقت آیا تو فلسفے میں دلچسپی لینی شروع کر دی،،،دلچسی اتنی بڑھی کہ اسکے سائیڈ افیکٹس کے بارے میں سوچا تک نہیں۔۔۔نتیجہ یہ کے بال بڑھ گئے شیو کی نوبت مہینوں تک نہ آتی،،گھر والوں نے جھاڑ جھنکار شروع کیا تو مولوی ڈر کر بھاگ گیا کہ اسکی باتوں سے ہمارے ایمان کو خطرہ ہے،،،ماں باپ نے شادی کرا دی،،،بیوی کی شامت آ گئی،،بچاری صبح اس کی منطق سے شہزادی ہوتی تو رات کو ہر جائی،،،ماں باپ نے بھی تنگ آ کر کفالت سے ہاتھ اٹھا لیا۔۔۔بیوی میکے چلی گئی۔۔صاحب جی کمرے میں بند کچھ دن فلسفہ ڈکارتے رہے۔۔۔اور جب بد ہضمی زیادہ بڑھی تو کھانے پینے کاہوش آیا،،،،ہمارے پاس آئے اسکی حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا،،،فلسفے ہی میں اپنی خستہ حالی سمجھا گئے ہم بھی سمجھ گئے۔۔۔مہینے کا آخر آخر تھا۔۔۔تھوڑا بہت بیگم سے بچا کر رکھا تھا۔۔۔سوچا دوست ہے مدد کرتا چلوں،،،جو تھا چپ چاپ جیب میں ڈال دیا تاکہ اسے برا نہ لگے۔۔۔
جاتے جاتے پلٹے اور کہنے لگے،،،
میرے دوست ایک بات یاد رکھنا۔۔۔انسان کی سوچ اور اسکی ودیعت کردہ طاقت سے زیادہ طاقتور آج ایک کا غذ کا تکڑا ہے،،،،جو رشتے خرید بھی سکتا ہو اور تڑوا بھی سکتا ہے،،
اپنا بنا بھی سکتا ہے اور بیگانہ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔
میں چلتا ہوں۔۔تم سوچنا کے تم اپنے ہو یا بیگانے،،،،
ہم الجھ کر رہ گئے،،کیا کہہ گیا۔۔۔۔
کافی دیر بعد ہمیں اسکی فلسفیانہ چال سمجھ آئی،،،،دوست تھا میرا جانتا تھا رقم کی واپسی کی گارنٹی کے بغیر میں کسی کی مدد نہیں کرتا،،،اور اس کی منطق میں یہ تو پوچھنا ہی بھول گیا،،
از عین الحق

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں