اتوار، 22 دسمبر، 2013

نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا



غالب کی زمین* پر چند اشعار

نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا
جو بہشت میں ہی ہوتے تو کہاں قرار ہوتا

یہ بدن جو خاک و خوں ہے یہ اگر غبار ہوتا
تیری خاکِ پا میں شامل تیرا خاکسار ہوتا

کہیں راہبر نے لُوٹا، کہیں راہزن نے تھاما
جو سفر نہ یوں گزرتا تو نہ یادگار ہوتا

رہے بیخودی سلامت، رہے میکشی سلامت
تجھے ہم بھُلا نہ پاتے اگر اختیار ہوتا

یہ نصیب کی ہیں باتیں کہ چلے ہیں سوئے مقتل
جو قلم جھکا کے لکھتے تو گلے میں ہار ہوتا


 * یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا – غالب

https://www.facebook.com/urdufm

بدھ، 11 دسمبر، 2013

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن از نوید رزاق بٹ

غزل

صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار اِک فسانے کے

بزم میں پوچھتے ہیں حالِ دل
دیکھ انداز آزمانے کے

کُھل گئی آنکھ جب مریدوں کی
کُھل گئے بھید آستانے کے

لب پہ شکوہ، نہ اشک آنکھوں میں
سیکھ آداب دل لگانے کے

تنکا تنکا لُٹا دیا تم نے
تم محافظ تھے آشیانے کے

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

سپنے دیکھو از نوید رزاق بٹ

غزل

سپنے دیکھو
پَر اپنے دیکھو

گھر گھر کی چھوڑو
گھر اپنے دیکھو

جھکنے نہ پائیں
سر اپنے، دیکھو

اشکوں سے سینچو
تھر اپنے دیکھو

افلاک تمھارے
پر اپنے دیکھو

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

حرامخور از نوید رزاق بٹ

حرامخور
حرامخور شہر میں داخل ہو چکا تھا۔

کب اور کیسے ہُوا، اِس بارے میں کوئی اتفاق نہیں تھا۔

اتفاق اِس بارے میں بھی نہیں تھا کہ اُس کی اصل شکل و ہیئت کیا ہے۔ عمومی رائے یہی تھی کہ وہ ایک مافوق الفطرت بلا ہے جس کا کام زمین پر فساد برپا کرنا ہے۔

کہ وہ شہر میں داخل ہو چکا تھا اِس کی پہلی واضح خبر تب ملی جب بخار کی دوا پینے والے بہت سے بچے جاں بحق  ہو گئے اور تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ حرامخور نے دوا میں ملاوٹ کر دی تھی۔ خبر سن کر لوگوں کے رنگ فق ہو گئے اور وہ آنے والی مصیبت کے خیال سے  کانپنے لگے۔

چند دن بعد ہی شہر کا نیا پُل زمین پر آ گرا۔ کنٹریکٹر کا اندازہ تھا کہ حرامخور نے سمینٹ میں ملاوٹ کر دی تھی، جبکہ سیمنٹ فیکٹری کے مالکان کا خیال تھا کہ حرامخور نے پُل سے سریا چوری کر لیا تھا۔ دونوں صورتوں میں سب کو یقین تھا کہ یہ کام حرامخور کا ہی ہے۔

تیسرا بڑا واقعہ تب پیش آیا جب طوفانی بارش نے قریبی علاقوں میں گندم کی کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔ حرامخور نے راتوں رات فلور ملوں اور دکانوں سے آٹے کی زیادہ تر بوریاں غائب کر دیں۔ جو چند بچیں وہ لوگوں کو بڑی مشکل سے دگنی تگنی قیمت پر ہاتھ آئیں۔

اِس کے بعد تو شہر میں کہرام مچ گیا۔ حرامخور شہر کے چپے چپے میں اپنے آسیبی وجود کے ساتھ سرایت کر گیا۔ تھانوں میں مجرموں کی جگہ معصوموں کے نام ظاہر ہونے لگے اور معصوموں کو خلاصی کے لیے خطیر رقوم خرچ کرنا پڑیں۔ بڑے بڑٰے سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور سکولوں میں افسروں ڈاکٹروں اور اساتذہ کو حرامخور نے کام سے روک دیا اور اُنہیں مجبورا اپنی خدمات نجی طور پر پیش کرنا پڑیں۔ لوگ تنگ آ کر شہر کی جامع مسجد کی جانب دوڑے اور بحث مباحثہ کرنے لگے۔ ایک انتہائی ضعیف بزرگ بمشکل اٹھے اور اٹھ کر محراب کی دائیں جانب ٹنگی آیت کی طرف اشارہ کیا

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِل

اشارہ دیکھ کر جن کو بات پہلے سمجھ آئی وہ پہلے اور جن کو بعد میں سمجھ آئی وہ بعد میں سر پر پاؤں رکھ کر دوڑے۔ سب نے آیت کے بیسیوں چھوٹے بڑے تعویذ بنوا کر اپنے گھروں دکانوں اور بچوں کے گلوں میں لٹکا دیے۔ اِس کے علاوہ پھول بوٹوں سے سجے بڑے بڑے تعویذ شہر کی شاہراہوں پر آویزاں کر دیے گئے۔ کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ بزرگ کا اشارہ آیت کے مفہوم کی طرف تھا۔

 “اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ”

اتوار، 1 دسمبر، 2013

وصایا : لقمان حکیم

وصایا : لقمان حکیم


اُدھار تیرے لشکری، اُدھار تیری سلطنت
جو مرتبہ ملے تجھے، تو عاجزی سے بات کر!
 
اَحَد ہے وہ صَمَد ہے وہ، غنی ہے بے نیاز ہے
شریک اُس کی ذات میں، نہ شاملِ صفات کر!
 
خدا سے جوڑ سلسلے، مٹا دے نقش یاس کے
بھلے عمل کو تھام لے، نفیءِمنکرات کر!



۔https://www.facebook.com/urdufm