چاند والے تو چاند والے تھے انہں اس بات کا بہت غرور تھا کہ وہ چاند پر رہتے ہیں اور زمین والے صرف اس بات کی تمنا کرسکتے ہیں کہ وہ بھی کھبی چاند پر جاکر رہیں لیکن ایسا صرف سوچا جا سکتا تھا ایسا ہونا تقریبا ناممکن تھا اور اب تو اور زیادہ ناممکن لگنے لگا تھا جب سے یہ کہا جارہا تھا کہ اگر چاند پہ ہوا نہیں ہے تو ویڈیو کلپ میں امریکہ کا جھنڈا لہرا کیوں رہا تھا اس لیئے چاند پر کوئی نہیں گیا ہے۔ زمین والے تو مایوس ہوچلے تھے اور چاند والوں نے سکون کا سانس لیا تھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر زمین والے چاند پر اکر رہنے لگے تو ادھر کا بھی سکون غارت ہوجائے گا۔ لیکن انہیں اپنی بڑھتی ہوئی اس مارکیٹ ویلیو کا بھی اندازہ تھا لیکن!! ایک دن خالد چاند والا اپنے گھر پر موجود سائنسی لیبارٹری میں اپنی دوربین سے زمین کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس کے منہ سے ایک زور دار چینخ نکل گئی اور وہ حیرت زدہ رہ گیا اس کی بیوی جو کہ کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کررہی تھی وہ بھاگتی ہوئی ادھر آگئی کیا ہوا چاند خیریت تو ہے نا !!!خالد نے انگلی سے دوربین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دیکھو اس میں کیا دیکھ رہا ہے اس کی بیوی زوبیا نے دوربین آنکھون سے لگائی اور کہا کہ زمین دیکھ رہی ہے پاکستان کے شہر کراچی کا کوئی علاقہ ہےمگر تم چینخے کیوں تھے ؟؟خالد بولا کیا تمھیں کچھ نہیں دیکھ رہا ارے دیکھو غور سے دیکھو انہیں ادھر چاند پر آنے کا کتنا شوق تھا کہ انہوں نے ادھر زمین کو بھی چاند بنا ڈالا زوبیا نے غور کیا تو اس کو سڑک پر جابجا گھڑے بنے نظر آئے جیسے چاند پر ہوتے ہیں ان گھڑھوں میں گاڑیاں بائیک اور لوگ اچھل اچھل کر آجا رہے تھے اس کی بیوی یہ سب دیکھ رہی تھی اور خالد کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی اب ہمارے چاند کی کوئی ویلیو نہیں رہی اب ان لوگوں نے زمین کو چاند بنا دیا ہے اب کون ادھر انے کی تمنا کرے گا ۔ اب تو وہ ہمیں دیکھ کر آہیں بھی نہیں بھریں گئے
اتوار، 27 اکتوبر، 2013
چاند میری زمین ۔۔۔
چاند والے تو چاند والے تھے انہں اس بات کا بہت غرور تھا کہ وہ چاند پر رہتے ہیں اور زمین والے صرف اس بات کی تمنا کرسکتے ہیں کہ وہ بھی کھبی چاند پر جاکر رہیں لیکن ایسا صرف سوچا جا سکتا تھا ایسا ہونا تقریبا ناممکن تھا اور اب تو اور زیادہ ناممکن لگنے لگا تھا جب سے یہ کہا جارہا تھا کہ اگر چاند پہ ہوا نہیں ہے تو ویڈیو کلپ میں امریکہ کا جھنڈا لہرا کیوں رہا تھا اس لیئے چاند پر کوئی نہیں گیا ہے۔ زمین والے تو مایوس ہوچلے تھے اور چاند والوں نے سکون کا سانس لیا تھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر زمین والے چاند پر اکر رہنے لگے تو ادھر کا بھی سکون غارت ہوجائے گا۔ لیکن انہیں اپنی بڑھتی ہوئی اس مارکیٹ ویلیو کا بھی اندازہ تھا لیکن!! ایک دن خالد چاند والا اپنے گھر پر موجود سائنسی لیبارٹری میں اپنی دوربین سے زمین کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس کے منہ سے ایک زور دار چینخ نکل گئی اور وہ حیرت زدہ رہ گیا اس کی بیوی جو کہ کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کررہی تھی وہ بھاگتی ہوئی ادھر آگئی کیا ہوا چاند خیریت تو ہے نا !!!خالد نے انگلی سے دوربین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دیکھو اس میں کیا دیکھ رہا ہے اس کی بیوی زوبیا نے دوربین آنکھون سے لگائی اور کہا کہ زمین دیکھ رہی ہے پاکستان کے شہر کراچی کا کوئی علاقہ ہےمگر تم چینخے کیوں تھے ؟؟خالد بولا کیا تمھیں کچھ نہیں دیکھ رہا ارے دیکھو غور سے دیکھو انہیں ادھر چاند پر آنے کا کتنا شوق تھا کہ انہوں نے ادھر زمین کو بھی چاند بنا ڈالا زوبیا نے غور کیا تو اس کو سڑک پر جابجا گھڑے بنے نظر آئے جیسے چاند پر ہوتے ہیں ان گھڑھوں میں گاڑیاں بائیک اور لوگ اچھل اچھل کر آجا رہے تھے اس کی بیوی یہ سب دیکھ رہی تھی اور خالد کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی اب ہمارے چاند کی کوئی ویلیو نہیں رہی اب ان لوگوں نے زمین کو چاند بنا دیا ہے اب کون ادھر انے کی تمنا کرے گا ۔ اب تو وہ ہمیں دیکھ کر آہیں بھی نہیں بھریں گئے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں