جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

کرم جلی : از: نازیہ عروج


وہ دنیا کی سب سے خوبصور ت عورت تھی۔ زندگی میں اسے بہت سے لوگوں نے 

سراہا اسکی خوبصورتی پورے خاندان میں مشہور تھی ...فراز کی غزل اس کے حسن و جمال پہ خوب صادق آتی تھی ۔اس کے حسن کو دیکھ کے پھول بھی اپنی قباہیں کترکے دیکھتے تھے...اسکی سیاہ چشمگی پہ سرمہ فروش آہیں بھرتے تھے .... غیر معمولی خوبیوں کی حا مل عروسہ کی سہیلیاں دل ہی دل اس سے جلتی تھیں مگر اس کے حسن کے آگے تو چا ند بھی شرما جائے ..خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے ،عروسہ پہ یہ مقولہ فٹ نہیں بٹھتا تھا۔ اس کے اخلاق کا ہر کوئی دیوانہ تھا گریجویشن کے بعد اس کے لئے رشتوں کی لائن لگ گئی....اسکے بھائی اسے پلکوں پہ بٹھاتے تھے..اپنی بہن کے لئے انہوں نے ایک شہزادے جیسے لڑکے کا انتخاب کیا جو اسے دنیا کی ہر خوشی دے سکتا تھا... فیضان احمد ممشہور انڈسٹریلسٹ کے بیٹے تھے عروسہ کو شادی کے وقت سب سے زیادہ دکھ اسے اپنے باپ سے بچھڑنے کا تھا...اس کے بابا جانی میں اس کی جان تھی آدھی رات کو کی گئی فرمائش بھی پوری کر دیتے ۔ دنیا کی ہر نعمت وہ الله کی دی ہوئی اس نعمت اپنی بیٹی پر وہ نچھاور کرتے تھے ...شادی کی بعد وہ ایک جنت سے نکل کر دوسری جنت میں آگئی تھی ساس اکلوتے بیٹے کی بہو پہ واری نیاری تھیں......... اور شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہی وہ ایک صحت مند خوبصورت بیٹے کی ماں بننے کا شرف بھی حاصل کر چکی تھی ....اپنے بیٹے کو پیار سے کھلانا اس کی اہم اور پسندیدہ ذمےداری تھی ...آج حسن ایک سال کا ہوگیا تھا...وہ بے حد خوش تھی ...بچوں کے ساتھ حسن کھیل رہا تھا کے اچانک سامنے رکھی میز کا کونا حسن کو لگا عروسہ تیزی سے حسن کی طرف لپکی کہ کسی تیز چیز سے اسکا پاؤں دکھنے لگا اس نے غور سے دیکھا اپنے چارو ں طرف نظر دوڑانے پر اسے اندا زہ ہوا کہ نہ وہ محل نما گھر تھا نہ ہی مہمانوں کی چہل پہل نہ ہی عمدہ کھانوں کی لذیز خوشبو.... اسکی ٹوٹی چپل میں کانٹا چبھ گیا تھا....اور وہ اپنی خیالی دنیا سے واپس آچکی تھی کئی باراس نے بھائی سے کہا تھا کہ اسے اس بار نیا جوڑاسلیپرز کا لادے .....مگر بھائی کے پاس پیسے نہیں تھے اس کی فضول خرچی کے لئے ....وہ صحن میں بنی کیاری میں لگے پھولوں سے کانٹے چن رہی تھی ......ساتھ ساتھ اپنے خوابوں کے شہزادے کے سپنے دیکھ رہی تھی ....... ابا کی آواز پہ وہ ایک بار پھر چونکی........................ کرم جلی!........... ...ان پودوں پہ ہی سب توجہ دینا ہم زندہ ہ انسانوں کو نہ پوچھنا ....ہمارےسینے پہ ہی مونگ دلنے کو پتا نہیں کس منحوس گھڑی میں یہ بدبخت نازل ہوئی ہم پہ .........ان جملوں کی بازگشت میں آنکھوں میں آنسو کو رگڑتے ہوئے وہ اندر کی طرف بھاگی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں