اتوار، 13 اکتوبر، 2013

موچی کی بیٹی : از: اشنہ علی




موچی کي بیٹی ...... بینی
(ایک مکالمے کے دوران)


خوشی ایک نعمت ہے میں نہیں جانتی، خوشی ایک کسوٹی ہے جسے سمجھا نہیں جاسکتا، آپ لوگ خوشی کو کس آسانی سے بیان کردیتے ہیں..کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ خوشی کیا ہے! میں بھی نہیں جانتی مگر میں لفظوں کا سہارا لے کر منافقت نہیں کرتی۔
میں سچ کہوں خوشی قدرت کا ایک کھیل ہے کبھی جیت کبھی مات! کبھی خوشی ہمارے لئے سہارا ہے مضبوطی ہے.... جب میں بھوک سے بلک رھی ہوتی ہوں اور بابا کھانا لیکر آتے ہیں اس وقت خوشی ایک تہوار کاسا روپ دھارے میرے قدموں میں آ بیٹھتی ہے اور بڑی دیرتک اٹکھیلیاں کرتی رہتی ہے۔
میں بتاؤں جب میں اداس ہوتی ہوں تو بھائی منہ بناکر کہتے پریشان کیوں ہوتی ہو تمہارا بھائی ہے نا؟...(گو کہ جانتی ہوں بھائی کچھ نہیں کرپائیں گے) مگراس وقت خوشی ایک مضبوط دیوار کیطرح میرے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے اور پیش آنے والے مسائل ، مایوسیاں اور الجھنوں کو روکنے کی کوشش کرتے نظرآتی ہے، جب ماں بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے حال پوچھتی ہیں تو اس خوشی کوآپ بڑے لوگ کیا جانیں .. حال مستقبل تک سدھرجاتے ہیں۔
ہاں خوشی میرے لئے کبھی کبھی ستم ثابت ہوتی ہے..... اب عید آئی ہے.........................


بینی کی آواز مایوسی اور احساس کمتری میں دب گئی ، وہ خاموش ہے۔


از: اشنہ علی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں