اسکا ننھا سا پھولوں جیسا وجود ایک سفید رنگ کے میلے کچیلے کپڑے میں
لپٹا ہوا تھا ابھی اسے اس دنیا میں آنکھ کھولے چند دن ہی ہوئے تھے ۔ اسنے اپنی ماں کا لمس محسوس کرنا اور ماں کو پہچاننا شروع کر دیا تھا-
آج ابھی اسکی آنکھ لگی ہی تھی کہ اچانک اسے ایک زور کا جھٹکا سا لگا جس نے اسکے اندر بے چینی اور تکلیف کا احساس پیدا کیا۔ اسکا ننھا سا بدن اور فرشتوں سا معصوم دماغ ابھی تک اس تکلیف اور درد جیسے بے رحم احساس سے نا آشنا تھا مگر آج پہلی دفعہ اس احساس نے اس ننھی جان کو روح تک جھنجوڑ دیا تھا اور اسنے بے اختیار زور زور سے رونا شروع کر دیا- اسی جھٹکے کے ساتھ ہی اسے اچانک احساس ہوا کہ اسکا بدن جیسے مخمل کے نرم بستر سے نکل کر کسی پتھریلی زمین پر رکھ کر لکڑیوں سے دبایا جا رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکلیف کے احساس کے ساتھ ساتھ اْسکے کانوں میں ایک عورت کے چیخنے اور بین کرنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی جو یقیناً اسکی ماں کی آواز تھی جسکے سکون دہ لمس کو وہ پچھلے کافی دن سے محسوس کر رہا تھا جسکی کوئل جیسی آواز میں وہ روز لوری سنتا ہوا سو جایا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آج اسکی خوبصورت میٹھی آواز سے لوری کی جگہ ایک دلدوز بین نکل رہا تھا جسے سن کر درودیوار دہل رہے تھے۔ آسمان رو رہا تھا ------ اس کا یہ بین کبھی کبھی درد بھری چیخوں میں بدل رہا تھا
- وہ کسی کی منتیں کر رہی تھی ، آہ وزاری کر رہی تھی لیکن سننے والا تو جیسے پیدائشی پہرا اور اندھا تھا نہ ہی اس پر اس عورت کی آہ وزاری کا اثر ہو رہا تھا اور نہ ہی اسے عورت کی لاچاری اور بے بسی نظر آ رہی تھی جو کہ اب آہستہ آہستہ اپنے حواس بھی کھوتی جا رہی تھی ۔اسکی چیخیں اب ماند پڑتی جا رہی تھی اسکی ہچکیاں اب دم ٹوڑتی جا رہی تھیں لیکن پھر بھی اس عورت کی زبان سے بار بار ایک ہی جملہ ادا ہو رہا تھا۔
میرے بچے کو مجھے واپس کر دو اسکی ٹانگ پر تیزاب مت گراوء یہ مر جائیگا یہ ابھی بھیک مانگنے کے قابل نہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں