اتوار، 13 اکتوبر، 2013

نظم : شاعر عمران علی تبسم


اپنی زبان اردو...
ہوجاۓ گر یہ لاگو...
پھر دیکھنا چمن کی...
پھیلے گی ڈھیر خوشبو...

قومی زبان اردو...
اپنی زبان اردو.......
""""""
میٹھی ہے پراثر ہے...
رنگوں سے شوخ تر ہے...
خودروئی چال عمدہ...
ہر بولی ہمسفر ہے...

ادبی فضائیں جادو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""
دلکش ہے دلربا ہے...
ہر شہر بولتا ہے...
لہجہ ہو چاہے کوئی...
امرت ہی گھولتا ہے...

دل کو لبھاۓ بابو...
اپنی زبان اردو.......
''"""""""""
چینی تو چین بولے...
دھرتی کے بھید کھولے...
گورا چباۓ انگلش...
ہندی پہ ہند ڈولے...

پیچھے ہیں ایک میں تو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""'
ہاتھوں میں ہوں گے تارے...
سوچو نا ! اس کے بارے...
آۓ گی جب یہ دفتر...
کردے گی کام سارے...

بن جاۓ گی یہ بازو...
اپنی زبان اردو.......
""""""""""""""
سب کو بڑی ہے پیاری... 
دے دو نا اک باری...
اب تو جگہ بنا لو...
کب سےکھڑی بے چاری...

کر لے نہ کوئی قابو...
اپنی زبان اردو........
*""""""¤""""""*
عمران علی تبسم


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں