برسوں کا تھما ساون
دیکھا جو تمہیں پھر سے
اِک یاد اٹھی دل میں
کالی سی گھٹا بن کر
فریاد اٹھی دل میں
شوریدہ ہواؤں نے
پھر ضبط سے ٹکر لی
آنکھوں نے دہائی دی
رو لینے کو جی ترسا
برسوں کا تھما ساون
!برسا تو بہت برسا
شاعر: نوید رزاق بٹ
کتاب: نادان لاہوری
۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں