منگل، 19 نومبر، 2013

رسمی و غیر رسمی محبت - از: خرّم امتیاز


رسمی و غیر رسمی محبت

----------------------------------------------------------
جو شخص طبیعتا جینوئن ھوتا ھے، کیا وہ رسمی طور پر کسی جذباتی تعلق میں بندھ سکتا ھے یا نہیں؟؟

سوشل باؤنڈریز کے باعث آج کل بہت کچھ ممکن ھے. لوگ چاھتے اور ناچاہتے ہوئے بھی بہت سے رشتوں میں بندھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. جتنا مرضی کوئی فطرت کا خالص ہو، جتنا مرضی کوئی نیک نیت اور straightforward ہو، لیکن زمانے کے تغیرات میں بہتے ہوئے بہت سے کمپرومائزز کرنے پڑ سکتے ہیں. ان چاھے سمجھوتے بھی ... کبھی مصلحتا، کہیں کسی کی خوشی کی خاطر ، کبھی کسی کے ڈر سے اور کبھی مجبورا بھی.... 

جو انسان فی الوقت کسی بھی وجہ سے کسی رسمی محبت کے تعلق میں بندھا بھی ہوا ھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب وہ مزید کسی سے جینوئن اور خالص محبت نہیں کر سکتا. کیونکہ قدرت ہر کسی کو کبھی نہ کبھی کھل کھیلنے کا موقع ضرور دیتی ھے کہ جیسا وہ انسان باطن سے ھے، ویسا ہی تعلق کسی سے قائم کر سکے اور نبھا بھی سکے. وہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے. کل اردو گروپ پر ایک غزل شئیر کی تھی، اس کا مقطع تھا 
"
جس نے کر لیا دل میں پہلی بار گھر دانش
اسکو میری آنکھوں کی پتلیاں سمجھتی ھیں
"
میں نے اس شعر پر سوال بھی اٹھایا تھا. جن لوگوں کو ہم نے زندگی میں پیار کرنا ھوتا ھے، ان کی تصویریں پہلے ہی ہمارے دلوں میں نقش کر دی گئی ہیں، وہ لوگ زندگی میں جہاں کہیں بھی ملتے ہیں، بغیر وجہ کے اچھے لگتے ہیں. وہ ہمارے عزیز و اقارب میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور ناآشناؤں میں سے بھی. جب کبھی ہمیں ایسی شخصیات زندگی میں ملیں، جن سے ملتے ہی بغیر وجہ اور مقصد کے چاہت محسوس ھو، ان کو کبھی کھونے مت دیں. کیونکہ صرف انہی سے آپ غیر رسمی یعنی جینوئن اور دیوانہ وار محبت کر سکتے ہیں.

- خرّم امتیاز -

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے ضرور دیں